بنگلہ دیش میں پولیس نے ‘اینٹی ڈسکرمنیشن اسٹوڈنٹس موومنٹ’ کے ایک مقامی طالب علم رہنما کو اس وقت حراست میں لے لیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ مبینہ طور پر ماضی میں پولیس اسٹیشن پر حملوں کا ذکر کرتے نظر آئے۔
پولیس حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے طالب علم کا نام مہدی حسن ہے، جو ضلع ہوبی گنج میں اس تحریک کے جنرل سیکریٹری ہیں اور برندا بن گورنمنٹ کالج کے پہلے سال کے طالب علم ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: منصوبہ بند انتخابات قبول نہیں کیے جائیں گے، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا انتباہ
پولیس کا کہنا ہے کہ مہدی حسن کو ہفتے کی شام شائستہ گنج میں ایک مقامی سیاسی شخصیت کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔ ہوبی گنج کی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مسز یاسمین خاتون نے تصدیق کی کہ مہدی اس وقت ضلعی پولیس اسٹیشن میں موجود ہیں اور بعد ازاں فیصلہ کیا جائے گا کہ ان کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کیا جائے یا نہیں۔
مہدی حسن کی حراست کی خبر سامنے آتے ہی حالات کشیدہ ہو گئے۔ اینٹی ڈسکرمنیشن اسٹوڈنٹس موومنٹ کے کارکنان پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہو گئے اور داخلی راستہ بند کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ممکنہ صورتحال کے پیشِ نظر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔
تحریک کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ مہدی حسن کو کسی مقدمے کے بغیر حراست میں لیا گیا ہے اور انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک انہیں رہا نہیں کیا جاتا، احتجاج اور دھرنا جاری رکھا جائے گا۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مہدی حسن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ شائستہ گنج پولیس اسٹیشن کے انچارج سے ایک احتجاج کے دوران بحث کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ احتجاج ایک دوسرے طالب علم کارکن کی گرفتاری کے خلاف کیا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے امیر کی طارق رحمان سے ملاقات، بی این پی کے ساتھ تعاون پر آمادگی کا اظہار
ویڈیو میں مہدی حسن یہ دعویٰ کرتے نظر آئے کہ ماضی میں کارکنان نے ایک پولیس اسٹیشن کو آگ لگائی تھی اور ایک پولیس افسر پر حملہ بھی کیا تھا، جس پر سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔
بعد ازاں پولیس نے پہلے گرفتار کیے گئے طالب علم کو سینیئر افسران کی مداخلت کے بعد رہا کر دیا۔ اسی روز بعد میں میڈیا کو بھیجے گئے ایک ریکارڈ شدہ بیان میں مہدی حسن نے کہا کہ ان کے بیانات جذبات کی شدت میں دیے گئے تھے اور عوام تک غیر ارادی طور پر غلط پیغام پہنچا۔
اینٹی ڈسکرمنیشن اسٹوڈنٹس موومنٹ بنگلہ دیش کی جامعات میں سرگرم ایک تنظیم ہے، جو حالیہ مہینوں میں کئی احتجاجی مظاہروں میں شریک رہی ہے اور متعدد مواقع پر مقامی انتظامیہ کے ساتھ اس کے تصادم کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔














