بنگلہ دیش میں متنازع بیان وائرل ہونے پر طلبا تحریک کے مقامی رہنما گرفتار

ہفتہ 3 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں پولیس نے ‘اینٹی ڈسکرمنیشن اسٹوڈنٹس موومنٹ’ کے ایک مقامی طالب علم رہنما کو اس وقت حراست میں لے لیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ مبینہ طور پر ماضی میں پولیس اسٹیشن پر حملوں کا ذکر کرتے نظر آئے۔

پولیس حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے طالب علم کا نام مہدی حسن ہے، جو ضلع ہوبی گنج میں اس تحریک کے جنرل سیکریٹری ہیں اور برندا بن گورنمنٹ کالج کے پہلے سال کے طالب علم ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: منصوبہ بند انتخابات قبول نہیں کیے جائیں گے، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا انتباہ

پولیس کا کہنا ہے کہ مہدی حسن کو ہفتے کی شام شائستہ گنج میں ایک مقامی سیاسی شخصیت کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔ ہوبی گنج کی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مسز یاسمین خاتون نے تصدیق کی کہ مہدی اس وقت ضلعی پولیس اسٹیشن میں موجود ہیں اور بعد ازاں فیصلہ کیا جائے گا کہ ان کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کیا جائے یا نہیں۔

مہدی حسن کی حراست کی خبر سامنے آتے ہی حالات کشیدہ ہو گئے۔ اینٹی ڈسکرمنیشن اسٹوڈنٹس موومنٹ کے کارکنان پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہو گئے اور داخلی راستہ بند کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ممکنہ صورتحال کے پیشِ نظر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔

تحریک کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ مہدی حسن کو کسی مقدمے کے بغیر حراست میں لیا گیا ہے اور انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک انہیں رہا نہیں کیا جاتا، احتجاج اور دھرنا جاری رکھا جائے گا۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مہدی حسن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ شائستہ گنج پولیس اسٹیشن کے انچارج سے ایک احتجاج کے دوران بحث کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ احتجاج ایک دوسرے طالب علم کارکن کی گرفتاری کے خلاف کیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے امیر کی طارق رحمان سے ملاقات، بی این پی کے ساتھ تعاون پر آمادگی کا اظہار

ویڈیو میں مہدی حسن یہ دعویٰ کرتے نظر آئے کہ ماضی میں کارکنان نے ایک پولیس اسٹیشن کو آگ لگائی تھی اور ایک پولیس افسر پر حملہ بھی کیا تھا، جس پر سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔

بعد ازاں پولیس نے پہلے گرفتار کیے گئے طالب علم کو سینیئر افسران کی مداخلت کے بعد رہا کر دیا۔ اسی روز بعد میں میڈیا کو بھیجے گئے ایک ریکارڈ شدہ بیان میں مہدی حسن نے کہا کہ ان کے بیانات جذبات کی شدت میں دیے گئے تھے اور عوام تک غیر ارادی طور پر غلط پیغام پہنچا۔

اینٹی ڈسکرمنیشن اسٹوڈنٹس موومنٹ بنگلہ دیش کی جامعات میں سرگرم ایک تنظیم ہے، جو حالیہ مہینوں میں کئی احتجاجی مظاہروں میں شریک رہی ہے اور متعدد مواقع پر مقامی انتظامیہ کے ساتھ اس کے تصادم کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرمپ کی وارننگ کے بعد وینزویلا کی قائم مقام صدر نے مفاہمتی لہجہ اپنالیا

احتجاج کو روکنے کا اختیار، عوامی ایکشن کمیٹی ہمارے ساتھ حکومت کا حصہ بن جائے، وزیراعظم آزاد کشمیر کی پیشکش

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، چین اور روس کا وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نسیم شاہ کو مہنگی پڑ گئی، آئی سی سی کا بڑا فیصلہ

برطانوی ولی عہد ولیئم اپنے چھوٹے بھائی پرنس ہیری کو وراثت سے محروم کروانے کے لیے کوشاں

ویڈیو

پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری، نئی تاریخ رقم ہوگئی

پاکستان اور چین کا باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

خیبر پولو فیسٹیول 2026 کا پہلا ایڈیشن، گلگت بلتستان نے چترال کو شکست دیدی

کالم / تجزیہ

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟

جنریشن زی سوال ہی تو نہیں اٹھاتی

100 ارب سپر کمپیوٹرز کے برابر انسانی ذہن کے ارتقا، استعمال اور مغالطوں کا احوال