ہر سال 4 جنوری کو دنیا بھر میں ورلڈ بریل ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن فرانسیسی موجد لوئیس بریل کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بصارت سے محروم افراد کے حقوق، تعلیم اور معلومات تک رسائی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا موقع بھی ہے۔ لوئیس بریل نے محض 15 برس کی عمر میں 1824 میں 6نقطوں پر مشتمل ایک ایسا نظام متعارف کرایا جس نے نابینا افراد کے لیے علم کی دنیا کے دروازے کھول دیے۔ یہ نظام ابھری ہوئی تحریر پر مبنی ہے جسے انگلیوں کی پوروں سے چھو کر پڑھا جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے 2019 میں پہلی بار سرکاری طور پر ورلڈ بریل ڈے منانے کا آغاز کیا تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ تعلیم اور معلومات تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، چاہے وہ دیکھ سکتا ہو یا نہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 39 ملین افراد مکمل طور پر بصارت سے محروم ہیں جبکہ 253 ملین افراد جزوی بصارت کی کمزوری کا شکار ہیں۔ پاکستان میں اندازاً 20 لاکھ سے زائد افراد بینائی سے محروم ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہاں 80 فیصد کیسز ایسے ہیں جن میں بروقت علاج کے ذریعے بینائی بچائی جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، اسکرین ریڈرز اور آڈیو بکس کے باوجود بریل کی اہمیت آج بھی برقرار ہے کیونکہ بریل سیکھنے والے طلبہ کی املا، گرامر اور تحریری صلاحیتیں نسبتاً مضبوط ہوتی ہیں۔ بریل بصارت سے محروم افراد کے لیے محض ایک تعلیمی نظام نہیں بلکہ خودمختاری اور شناخت کی علامت بھی ہے۔
پاکستان میں بریل کتب کے اشاعتی مراکز محدود ہیں جبکہ بیشتر سرکاری عمارتوں، بینکوں، لفٹوں اور عوامی مقامات پر بریل سائن بورڈز کی عدم موجودگی بصارت سے محروم افراد کو دوسروں کا محتاج بناتی ہے۔ ماہرین جامع نظامِ تعلیم کو فروغ دینے اور سرکاری سطح پر مؤثر اقدامات پر زور دیتے ہیں۔
نیشنل بریل پریس سے وابستہ محمد شاہد رشید کے مطابق پاکستان میں نابینا افراد کے مستند اعداد و شمار موجود نہیں، مگر لاکھوں افراد میں سے صرف 15 سے 20 ہزار تک بریل کی سہولت پہنچ پا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بصارت سے محروم طلبہ کی بڑی تعداد دینی مدارس کا رخ کرتی ہے، مگر وہاں ان کے لیے دوستانہ تعلیمی نظام موجود نہیں، جس پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔
ایم فل اسکالر وقار احمد کا کہنا ہے کہ بریل لکھائی نہ صرف مہنگی بلکہ حجم میں بھی زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ہر کتاب دستیاب نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق موبائل فون، لیپ ٹاپ اور اسکرین ریڈرز نے تعلیم کو نسبتاً آسان بنا دیا ہے، خاص طور پر سی ایس ایس جیسے امتحانات کی تیاری میں، جہاں سینکڑوں کتابیں الیکٹرانک ڈیوائسز میں آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں۔
بریل کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے والوں میں صائمہ سلیم، پاکستان کی پہلی نابینا سفارت کار، یوسف سلیم، پاکستان کے پہلے نابینا جج، پروفیسر عائشہ سلیم، پنجاب یونیورسٹی کی پہلی نابینا گولڈ میڈلسٹ، ڈاکٹر فاطمہ شاہ، معذور افراد کے حقوق کی علمبردار، سردار احمد پیرزادہ، پاکستان کے پہلے نابینا صحافی اور ذیشان عباسی، سابق کپتان پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم شامل ہیں۔
ورلڈ بریل ڈے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معذوری جسم میں ہوتی ہے، ہمت میں نہیں۔ اگر ریاست اور معاشرہ بریل اور معاون ٹیکنالوجی کو فروغ دیں اور عوامی مقامات کو بریل فرینڈلی بنایا جائے تو بصارت سے محروم افراد بھی قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اصل اندھیرا آنکھوں میں نہیں بلکہ احساس کی کمی میں ہوتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













