سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کے خلاف ان کے اہلِ خانہ اور حامیوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے ملاقاتوں پر پابندیوں کے پس منظر میں جیل کے باہر دعاؤں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کی بازگشت مگر اڈیالہ ملاقاتیں تاحال خارج از امکان
علیمہ خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ منگل کو دوپہر ایک بجے اڈیالہ جیل کے باہر سورۂ یٰسین ختم کا اہتمام کیا جائے گا۔
ان کے مطابق اس موقع پر تمام شہدا، ناحق قید افراد اور ہر قسم کے ظلم و جبر کا سامنا کرنے والوں کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔
Tomorrow, Tuesday at 1:00 PM, Surah Yaseen Khatam will take place outside Adyala Jail. Prayers will be offered for all the martyrs, those unjustly imprisoned, and everyone facing oppression.
— Aleema Khanum (@Aleema_KhanPK) January 5, 2026
ذرائع کے مطابق عمران خان سے اہلِ خانہ، پارٹی رہنماؤں اور وکلا کی ملاقاتوں پر گزشتہ کچھ عرصے سے سخت پابندیاں عائد ہیں، جسے تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کا مؤقف ہے کہ ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا عمران خان کو تنہا کرنے اور دباؤ میں لانے کی کوشش ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کے دن اڈیالہ جیل کے باہر کیسا ماحول ہوتا ہے؟
علیمہ خان کا کہنا ہے کہ دعاؤں کا یہ اہتمام پرامن اور مذہبی نوعیت کا ہوگا، جس کا مقصد ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور ناحق قید افراد کے لیے دعا کرنا ہے۔
انہوں نے کارکنان اور ہمدردوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن طریقے سے شرکت کریں۔
اس منگل اڈیالہ جیل کے باہر دس ہزار سے زائد افراد کو جمع کرنا ہے۔
اپنے واٹس ایپ گروپس اور دیگر تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ پیغام بھرپور انداز میں پھیلائیں۔ ہر شخص اپنی ذمہ داری ادا کرے، اب وقت آ گیا ہے کہ تعداد خود بولے۔
⁰#چلو_چلو_اڈیالہ_چلو https://t.co/nDZQo9vWba— PTI (@PTIofficial) January 4, 2026
دوسری جانب پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں پارٹی ورکرز کو منگل کے روز اڈیالہ جیل کے باہر 10 ہزار سے زائد افراد کو جمع کرنی کی ہدایت کی گئی ہے۔
بیان میں ورکرز سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے واٹس ایپ گروپس اور دیگر تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ پیغام بھرپور انداز میں پھیلائیں۔ ’ہر شخص اپنی ذمہ داری ادا کرے، اب وقت آ گیا ہے کہ تعداد خود بولے۔‘














