وینزویلا پر امریکی فوجی کارروائی کے بعد ایشیا کے اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کے ساتھ بڑھیں۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 0.2 فیصد بڑھ کر $60.87 تک پہنچ گئے، کیونکہ سرمایہ کار امریکی مداخلت کے اثرات اور اوپیک (OPEC) کے فیصلے کا جائزہ لے رہے تھے کہ وہ پیداوار کو برقرار رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا پر دوسرا امریکی حملہ ممکن ہے، صدر ٹرمپ کا اعلان
سرمایہ کار اس ہفتے کے اقتصادی ڈیٹا کے اجرا سے قبل وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتاری کے اثرات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اعلان کیا تھا کہ وینزویلا عارضی طور پر امریکی کنٹرول میں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مادورو کی گرفتاری کے فوری اقتصادی اثرات محدود ہوں گے، لیکن سیاسی اور جغرافیائی سیاسی اثرات گہرے اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ وینزویلا کی تیل کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے بڑی سرمایہ کاری اور انجینئرنگ کی ضرورت ہوگی، اس لیے فی الحال تیل کی قیمتیں اضافے کی راہ پر رہ سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: کولمبیا سے کیوبا تک، وینزویلا کے بعد کونسے ممالک امریکی حملے کا شکار ہوسکتے ہیں؟
ایشیا کی دیگر مارکیٹس میں بھی تیزی دیکھی گئی، جیسے جاپان کا نکی 225 انڈیکس 2.8 فیصد بڑھ گیا، جبکہ کوریا اور تائیوان کے اسٹاک مارکیٹس نئے ریکارڈ سطحوں پر پہنچے۔ چین میں مارکیٹس نسبتاً معتدل رہیں، جبکہ آسٹریلین اسٹاک 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ سیاسی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال تیل کی قیمتوں کو حمایت فراہم کر سکتی ہے اور قیمتی دھاتوں جیسے سونا بھی مارکیٹ میں مضبوط رہ سکتا ہے۔














