امریکا نے اپنی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے تحت ویزا بانڈ پروگرام میں مزید توسیع کرتے ہوئے وینزویلا سمیت 25 نئے ممالک کو اس فہرست میں شامل کر لیا ہے، جن کے شہریوں کو امریکا میں داخلے کے لیے بھاری مالی ضمانت جمع کرانا ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں:H-1B لاٹری سسٹم ختم، امریکا نے ورک ویزا دینے کا نیا طریقہ متعارف کرا دیا
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری معلومات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایسے ممالک کی فہرست میں مزید 25 ریاستوں کا اضافہ کیا ہے، جن کے شہریوں سے امریکا کا بزنس یا سیاحتی ویزا حاصل کرنے کے لیے 5 ہزار، 10 ہزار یا 15 ہزار ڈالر تک کا بانڈ طلب کیا جا سکتا ہے۔
اس فہرست میں شامل زیادہ تر ممالک کا تعلق افریقہ، لاطینی امریکا اور جنوبی ایشیا سے ہے، جبکہ مجموعی تعداد 38 ممالک تک پہنچ گئی ہے۔

محکمہ خارجہ کے مطابق نئے شامل کیے گئے ممالک پر یہ پالیسی 21 جنوری سے نافذ العمل ہو گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فہرست میں شامل کسی بھی ملک کے پاسپورٹ پر سفر کرنے والے شہری، اگر بی ون یا بی ٹو ویزا کے لیے اہل قرار پاتے ہیں، تو انہیں ویزا انٹرویو کے وقت مقررہ رقم کا بانڈ جمع کرانا ہوگا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویزا بانڈ کی رقم کا تعین انٹرویو کے دوران کیا جائے گا اور درخواست گزاروں کو امریکی محکمہ خزانہ کے آن لائن ادائیگی کے نظام Pay.gov کے ذریعے اس کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کرنا ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے امیر تارکین وطن کے لیے گولڈ کارڈ ویزا اسکیم متعارف کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وینزویلا کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو امریکی کارروائی کے بعد نیویارک منتقل کیے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد ایسے غیر ملکیوں کو روکنا ہے جو سیاحتی یا کاروباری ویزے پر امریکا آ کر مقررہ مدت سے زائد قیام کرتے ہیں۔ یہ ویزا بانڈ پائلٹ پروگرام گزشتہ سال اگست میں محدود ممالک کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد امیگریشن کے حوالے سے سخت اقدامات کیے ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر ملک بدری، ویزوں اور گرین کارڈز کی منسوخی، اور تارکین وطن کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی جانچ شامل ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے قانونی تقاضوں اور اظہارِ رائے کی آزادی متاثر ہو رہی ہے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسیاں داخلی سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔














