سینیئر سیاستدان شیر افضل مروت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے فیصلوں پر سوالات اٹھا دیے۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے تحت منعقدہ نیشنل کانفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، لیاقت بلوچ، بیرسٹر سیف، عمران اسماعیل اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت شامل تھے۔
کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قیادت اور فیصلوں پر کھل کر تنقید کی۔
کوئی ایک فیصلہ بھی ٹھیک نہیں کیا گیا، اتنی بڑی جماعت ہے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کسی اور جماعت سے ہے،قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کسی اور جماعت سے ہے
شیر افضل مروت pic.twitter.com/OcBx4Jxnm7— Ehtisham ul haq (@ehtishamulhaq87) January 7, 2026
ان کا کہنا تھا کہ ایک بڑی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود اپوزیشن لیڈر کے لیے کسی اور شخصیت کو نامزد کیا گیا، جو فیصلہ سازی پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایسے فیصلے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں، اور سوال اٹھایا کہ کیا کوئی ایک فیصلہ بھی درست ثابت ہوا ہے۔
شیر افضل مروت نے مزید کہاکہ میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ ملک کو اس حالت میں پہنچانے کی ذمہ دار پی ٹی آئی بھی ہے۔
دوسری جانب بیرسٹر سیف نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملک کو اس وقت شدید سیاسی پولرائزیشن کا سامنا ہے، جس کے باعث مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے مکالمے قومی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم بعض سیاسی جماعتوں کی عدم شرکت اس خدشے کی عکاسی کرتی ہے کہ انہیں سیاسی نقصان کا اندیشہ ہے۔
مزید پڑھیں: تحریک انصاف کے سابق رہنماؤں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کے بجائے کس کی رہائی مطلوب ہے؟
بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال سے حکمران طبقات کو خدشات لاحق ہیں، تاہم مسائل کا حل بات چیت اور مفاہمت میں ہی ہے۔














