چترال سے ہتھیائے گئے نایاب قرآنی نسخے کی برطانیہ میں نیلامی

ہفتہ 2 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

1895ء میں انگریز فوج کی جانب سے بالائی چترال میں قبضے میں لیے گئے قرآن کے نایاب نسخے کی حال ہی میں آکسفورڈ میں نیلامی کی گئی ہے۔

نسخے کے ساتھ موجود ہاتھ سے لکھے گئے ایک نوٹ کے مطابق یہ 19ویں صدی کے اوائل یا 18ویں صدی کے اواخر کا ایک نایاب قرآنِ پاک ہے جو 1895 میں اپر چترال کے گاؤں سونوغر میں برطانوی افسر لیفٹیننٹ ایچ بی بیتھون کو ملا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: مکہ مکرمہ: قرآن پاک کا 1623 میں شائع ہونے والا پہلا نادر جرمن ترجمہ نمائش کے لیے پیش

برطانوی فوج کا یہ دستہ چترال پر لشکر کشی کے دوران کرنل کیلی کی قیادت میں گلگت سے چترال قلعے کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا۔ اس نوٹ کے مطابق تلاشی کے دوران یہ نسخہ برطانوی افسر کو گاؤں کے مقامی سردار کے گھر سے ملا۔

اس نایاب نسخے کے ہر صفحے پر عربی رسم الخط کی 18 سطور درج ہیں، جبکہ اوقاف سونے کی سیاہی سے بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خوبصورت خطاطی، نفیس روشن کاری والے صفحات اور چرمی جلد بندی اس کے حسن کو مزید نمایاں بناتی ہے۔

اس نسخے کی خوبصورت خطاطی، نفیس روشن کاری والے صفحات اور چرمی جلد بندی اس کے حسن کو مزید نمایاں بناتی ہے، تصویر: ملامس

حالیہ دنوں میں یہ قرآن برطانیہ کے معروف نیلامی ادارے میلمس کی ملکیت میں موجود تھا اور مختلف نیلامی ویب سائٹس پر پیش کیے جانے کے بعد فروری میں کامیاب بولی کے ذریعے فروخت کر دیا گیا۔ تاہم لیفٹیننٹ بیتھون کے ہاتھ لگنے کے بعد قریباً 130 سال یہ نسخہ کس کس کے پاس رہا اور بالآخر نیلامی تک کیسے پہنچا، اس بارے میں معلومات نہ مل سکیں۔

نوادرات کی باہر منتقلی اور اس سے جڑے سوالات

نوآبادیاتی دور میں مقامی نوادرات کی اُن کے اصل وطن سے باہر منتقلی اور اس سے جڑی اخلاقی اور قانونی سوالات ہمیشہ سے زیرِ بحث رہے ہیں۔ چترال سے تعلق رکھنے والے تاریخ دان ہدایت الرحمان کے مطابق صدیوں پرانے اس نایاب قرآنی نسخے پر ایک فوجی افسر کا قبضہ اور پھر سو سال سے بھی زائد عرصے میں اس کی نیلامی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چترال میں شکار اور جانوروں کے مناظر پر مبنی قدیم ترین چٹانی نقوش دریافت

انہوں نے بتایا کہ خود ان کے اپنے دریافت کردہ ایک تاریخی مخطوطے کو چترال سے برطانیہ منتقل کیا گیا اور ایک بار برطانیہ کی ایک لائبریری میں انہوں نے اس نسخے تک رسائی کی اجازت چاہی تو ان سے بھاری فیس کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے نوادرات پر اصل مالک کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا بنیادی اخلاقی اور قانونی تقاضا ہے۔

حال ہی میں برطانوی بادشاہ چارلس سوئم کے دورہ امریکا کے دوران جب نیویارک کے میئر زوہران ممدانی سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں برطانوی بادشاہ کے ساتھ نجی گفتگو کا موقع ملا تو وہ انہیں کیا کہیں گے۔ زوہران ممدانی کا کہنا تھا کہ وہ انہیں کوہِ نور ہیرا واپس کرنے کی ترغیب دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: کرغیز خانہ بدوش جنہیں تُرک صدر کی ہدایت پر چترال سے ترکی لے جاکر آباد کیا گیا

واضح رہے کہ مشہورِ زمانہ کوہِ نور ہیرے کا شمار برصغیر کے اُن بیش بہا نوادرات میں ہوتا ہے جو برطانوی نوآبادیات کے دور میں یہاں سے باہر منتقل کیے گئے۔ اس ہیرے کو انگریزوں نے 1849ء میں ایک متنازع معاہدے کے تحت پنجاب کے اس وقت کے 11 سالہ حکمران دلیپ سنگھ سے حاصل کیا تھا۔

چترال سے تعلق رکھنے والا یہ قرآنی نسخہ اس خطے سے باہر منتقل ہونے والا واحد مذہب متن نہیں۔ اس سے قبل گزشتہ صدی کے تیسرے عشرے میں گلگت سے ملنے والے بدھ مت کے نایاب ترین قدیم مخطوطے بھی سری نگر اور بعد میں دہلی منتقل کردیے گئے تھے۔ یہ مخطوطے ‘گلگت مینو اسکرپٹس’ کے نام سے مشہور ہیں اور ابھی تک بھارت کے قبضے میں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

علی الزیدی کو عراق کا وزیراعظم منتخب ہونے پر شہباز شریف کی مبارکباد، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار

کیا اداکاری کرنے والے اے آئی بوٹس کو آسکر ایوارڈ مل سکے گا؟ اکیڈمی نے وضاحت جاری کردی

سعودی عرب کے علاقے قصیم میں نجی عجائب گھروں کا مقامی تاریخی ورثے کی حفاظت میں اہم کردار

گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ سسٹم کی منظوری، شہر میں جدید سفری سہولت کا منصوبہ حتمی مرحلے میں

امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں ’قزاقوں‘ کی طرح کام کر رہی ہے، یہ منافع بخش کاروبار ہے، صدر ٹرمپ

ویڈیو

ٹرمپ کا کانگریس کو خط، ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان

پنجاب حکومت کی ’اپنا کھیت اپنا روزگار‘ اسکیم: لیہ کے بے زمین کسان کیا کہتے ہیں؟

ایندھن کی خریداری میں ہڑبونگ: عوام کی گھبراہٹ کتنی بجا، ملک میں ایندھن کتنا باقی؟

کالم / تجزیہ

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ

چندی گڑھ میں لاہوری