پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، جو اپنے سبزے اور قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، ان دنوں ایک شدید تنازعے کی زد میں ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں جیسے شکرپڑیاں، ایف نائن پارک، سری نگر ہائی وے اور دیگر گرین بیلٹس میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کی گئی۔ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی صرف “پیپر ملبری” (Paper Mulberry) نامی درختوں تک محدود ہے، جو پولن الرجی اور دمہ کی وجہ بنتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’یہ اسلام آباد کو اجاڑ کر رہیں گے‘، درختوں کی کٹائی پر محسن نقوی اور چیئرمین سی ڈی اے تنقید کی زد میں
تاہم شہریوں، صحافیوں اور ماحولیاتی ماہرین کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ کٹائی منظم طور پر جنگلات کی تباہی کا باعث بن رہی ہے، اور نہ صرف پیپر ملبری بلکہ دیگر مقامی درخت بھی نشانہ بن رہے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ مسئلہ 2025 سے جاری ہے اور اب 2026 میں بھی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں ایک طرف صحت کی بہتری کا دعویٰ ہے تو دوسری طرف ماحولیاتی نقصان کا خدشہ۔
آخر یہ مسئلہ ہے کیا؟
اسلام آباد کو 1960 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا، اور اس وقت تیزی سے سبزہ اگانے کے لیے چین سے درآمد کیے گئے پیپر ملبری کے بیج بڑے پیمانے پر استعمال کیے گئے۔
واضح رہے کہ پیپر ملبری مختلف قسم کے ماحول میں آسانی سے اگ جاتا ہے، اسی لیے اسے ایک جارحانہ یا انویسیو درخت سمجھا جاتا ہے۔ یہ معتدل سے گرم آب و ہوا میں بہتر نشوونما پاتا ہے اور کم یا زیادہ بارش دونوں کو برداشت کر لیتا ہے۔
یہ خراب، بنجر اور آلودہ مٹی میں بھی تیزی سے بڑھ سکتا ہے اور عام طور پر سڑکوں کے کنارے، خالی زمینوں اور شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی تیز رفتار افزائش کی وجہ سے یہ مقامی پودوں اور درختوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں شجر کاری کے دوران ان پودوں کو بڑی تعداد میں لگایا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ دیکھتے ہی دیکھتے یہ درخت شہر کے باسیوں کے لیے ایک بڑی مصیبت بن گئے۔
خاص طور پر مارچ اور اپریل کے مہینوں میں یہ درخت فضا میں پولن (پھلیوں جیسا مواد) پھیلاتے ہیں، جو الرجی، دمہ اور سانس کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
پاکستان کی وزارت صحت کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کی مشترکہ آبادی کا 30% الرجینک رائنائٹس (جو زیادہ تر پولن سے ہوتا ہے) کا شکار ہے۔
شہریوں کی صحت کو مدنظر رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، عرفان نیازی
ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انوائرمنٹ سی ڈی اے عرفان خان نیازی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا پر اس الرجی فری مہم کو بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ سی ڈی اے کی جانب سے یہ قدم شہریوں کی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے اٹھایا جا رہا ہے۔
عرفان خان نیازی کے مطابق ماضی میں سپریم کورٹ نے ایک سوموٹو کیس میں پیپر ملبری کو شدید الرجن قرار دیا اور اسے مقامی درختوں سے تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ اسی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک ماہرانہ کمیٹی تشکیل دی، جس میں موحولیاتی ماہرین شامل تھے، جنہوں نے اسلام آباد کا جائزہ لیا، اور پیپر ملبری کو مارک کیا، جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان درختوں کو ہٹانے اور مقامی کم درخت لگانے کی سفارش کی۔
انہوں نے کہاکہ سی ڈی اے نے 2025 سے یہ مہم شروع کی، اور اب تک ہزاروں درخت ہٹائے جا چکے ہیں۔ جہاں تک یہ کہا جا رہا ہے کہ پیپر ملبری کے علاوہ اور بھی درخت کاٹے گئے ہیں تو سی ڈی اے کی جانب سے صرف ٹارگٹڈ درخت کاٹے گئے ہیں۔
’پیپر ملبری کے ارد گرد نیٹیو پلانٹس گرو ہی نہیں ہو سکتے، کیونکہ پیپر ملبری ایلیلو پیتھک افیکٹ رکھتا ہے۔ یعنی وہ اپنی ٹریجیکٹری میں کسی اور سپیشی کو گرو ہی نہیں ہونے دیتا، لہٰذا لوگ پروپیگنڈا نہ پھیلائیں۔
’سی ڈی اے نے پہلے مرحلے میں پیپر ملبری کو ختم کرنا ہے‘
انہوں نے مزید بتایا کہ سی ڈی اے نے پہلے مرحلے میں پیپر ملبری کو ختم کرنا ہے، دوسرے مرحلے میں لانٹینا (یہ بھی پیپر ملبری کی طرح ایک انویسیو سپیشی ہے۔)، جو کہ مارگلہ ہلز سے تمام نیٹیو پلانٹس کو ختم کررہی ہے، اور تیسری مرحلے میں پارتھئنیم (یہ بھی ایک انویسیو سپشی ہے، جو ماحول، انسان اور جانوروں کی صحت کے لیے مضر ہے) کو ختم کیا جائے گا۔
سی ڈی اے کی جانب سے ان تمام پودوں کو بہت پہلے کاٹ دیا جانا چاہیے تھا تاکہ اس وقت جب پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے اور اسلام آباد بھی شدید اسموگ کے مسائل میں گھرا جا رہا یے، تو کم از کم اب اس وقت کے لگائے گئے پودے درختوں کی شکل اختیار کر چکے ہوتے۔ اس سوال کے جواب میں عرفان خان نیازی نے بتایا کہ بدقسمتی سے پیپر ملبری کو بہت پہلے ختم ہو جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہاکہ سی ڈی اے کی جانب سے بہت بار کوشش بھی کی گئی، لیکن ہر بار ماحولیاتی تبدیلی کے ماہرین کی جانب سے اسی طرح شور مچایا گیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ابھی شکر پڑیاں کے مقام سے قریباً 8 ہزار درختوں کو کاٹا گیا ہے، اور جتنے اس وقت درخت کاٹے گئے ہیں، اس طرح کے 2 پیچز شکر پڑیاں پر مزید کاٹے جائیں گے۔
’ماحول دوست پودے لگانے کی مہم آج سے ہی شروع کردی‘
ان کا کہنا ہے کہ ویسے تو ان درختوں کی جگہ ماحول دوست پودے لگانے کی مہم ہم نے فروری سے شروع کرنی تھی، لیکن ہم نے ابھی سے وہ شروع کردی ہے، اور ایک درخت کی جگہ 3 نئے اور بڑے پودے لگائے جا رہے ہیں جن کی بڑھوتری کا عمل چھوٹے پودوں کی نسبت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ ان درختوں کے بجائے ماحول دوست درخت لگا رہے ہیں، جس میں امل تاس، سکھ چین، کچنار اور دیگر پودے شامل ہیں۔
گلوبل فاریسٹ واچ کے مطابق 2021 سے 2024 تک اسلام آباد میں قریباً 14 ہیکٹر درختوں کے قدرتی کور میں کمی ہوئی، جس میں سیکڑوں بالغ درخت شامل تھے، بشمول پولن الرجی والے پودوں کی بڑی تعداد۔
واضح رہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے اب تک عوام کے لیے درختوں کی مکمل فہرست یا جیو ٹیگڈ ڈیٹا باقاعدہ طور پر جاری نہیں کیا گیا۔
درختوں کی کٹائی سے شہر کی سبز جگہ کم ہو رہی ہے، ماہرین
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق درختوں کی کٹائی سے شہر کی سبز جگہ کم ہو رہی ہے، جو ہوا کی صفائی اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے ضروری ہے۔ جس کی وجہ سے یہ کارروائی اسلام آباد کو اسموگ اور گرمی کی لپیٹ میں لا سکتی ہے، جیسا کہ لاہور میں ہوا، جبکہ جنگلات کی تباہی سے جنگلی حیات، پرندے اور کیڑے مکوڑے متاثر ہورہے ہیں۔
ماحولیاتی ماہر محمد طلحہ بھٹی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بیشک پیپر ملبری درخت عوام کی صحت کے لیے مضر ہے، لیکن اس کے باوجود بھی شہر کو درختوں کی بے حد ضرورت ہے، اور ان درختوں کی کٹائی مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ اسلام آباد کا درجہ حرارت پہلے ہی متاثر ہو چکا ہے، اور اب اسموگ بھی اسلام آباد میں معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
’اگر یہی معمول رہا تو آنے والے وقت میں اسلام آباد کا حال درجہ حرارت مزید بڑھ جائے گا۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات ابھی سے واضح ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ 2025 میں گرمی کی شدت اور ریکارڈ درجہ حرارت، سردی میں بارشوں میں کمی اور دیگر عناصر شامل ہیں۔‘
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ جو بدلے میں پودے لگائے جا رہے ہیں، ان کا اثر اور یہ اس مقام تک تو 15 سے 20 سال بعد پہنچیں گے۔ جہاں یہ ماحول کا تحفظ کر سکیں، مگر اس عرصے کے دوران جو آپ ایڈیشنل کاربن شامل کریں گے، جیسا کہ نیو بلیو ایریا اور مختلف بلڈنگز بنائی گئی ہیں، ان کا پریشر کون برداشت کرےگا۔
اسلام آباد سے درختوں کی بے دریغ کٹائی پر صحافیوں کی تنقید
دوسری جانب صحافی برادری کی جانب سے بھی سی ڈی اے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور کہا جا رہا ہے کہ کٹائی بغیر مناسب نشان دہی یا ایس او پیز کے کی جا رہی ہے۔ کئی علاقوں میں نہ صرف پیپر ملبری بلکہ دیگر درخت بھی کاٹے جا رہے ہیں۔
صحافی اسد طور اور رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ یہ ’سب کچھ اکھاڑ دو‘ کی پالیسی ہے، درختوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، جہاں صرف نر پیپر ملبری کو ہٹانے کا حکم تھا۔
اسلام آباد کے باسیوں کی رائے اس حوالے سے منقسم ہے، چند افراد کا کہنا ہے کہ شہر میں پولن الرجی کے کیسز تو بہت زیادہ ہیں، مگر دوسری جانب زیادہ تر افراد کا کہنا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے درخت کسی صورت نہیں کاٹے جانے چاہیییں، کیوں کہ یہ اسلام آباد کی خوبصورتی تھی جس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
پیپر ملبری سے نجات کے لیے عالمی سطح پر کیا پالیسی اپنائی گئی؟
عالمی سطح پر انویسیو درختوں خصوصاً پیپر ملبری جیسے الرجینک پودوں سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک نے مکمل کٹائی کے بجائے مرحلہ وار اور سائنسی حکمتِ عملی اپنائی۔
چین، بھارت، امریکا اور یورپی ممالک میں تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اچانک بڑے پیمانے پر درخت کاٹنا شہری ماحولیاتی توازن کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے وہاں زیادہ تر Targeted Removal کی پالیسی اپنائی گئی، جس کے تحت صرف نر یا زیادہ پولن پیدا کرنے والے درخت ہٹائے گئے، جبکہ مادہ درخت یا کم الرجینک اقسام کو برقرار رکھا گیا۔
کئی ممالک میں Gradual Replacement Strategy اختیار کی گئی، یعنی پہلے مقامی اور کم پولن والے درخت لگائے گئے، اور جب وہ مضبوط ہو گئے تو پرانے درخت مرحلہ وار ختم کیے گئے۔ اس کے علاوہ بعض شہروں میں پولن فلٹرنگ، جراثیمی کنٹرول، درختوں کی شاخ تراشی اور شہری منصوبہ بندی کے ذریعے ہوا کے بہاؤ کو منظم کرنے جیسے اقدامات بھی کیے گئے تاکہ صحت اور ماحول دونوں کو یکساں تحفظ دیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: ایف 9 پارک میں درختوں کی کٹائی پر حکم امتناع برقرار رہے گا، سپریم کورٹ
ماہرین کے مطابق عالمی تجربہ یہی بتاتا ہے کہ انویسیو اسپیشیز سے لڑائی کا مؤثر حل مکمل صفایا نہیں بلکہ سائنسی، تدریجی اور ماحولیاتی توازن کو مدنظر رکھ کر کیا جانے والا عمل ہے۔













