نیدرلینڈز کی عدالت نے ایک جوڑے کی شادی کو غیر قانونی قرار دے دیا کیونکہ ان کے شادی کے وعدے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیے گئے تھے۔
جوڑے نے اپریل 2025 میں زولویے میں ایک غیر رسمی سول تقریب منعقد کی اور اپنی شادی کے وعدے لکھوانے کے لیے دوست کی مدد سے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا۔ تاہم عدالت نے کہا کہ جوڑے نے قانونی تقاضوں کے مطابق یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ شادی سے جڑے تمام قانونی فرائض پوری طرح ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مذکورہ بالا بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرد اور عورت نے ڈچ سول کوڈ کے آرٹیکل 1:67، پیراگراف 1 میں بیان کردہ اعلان نہیں کیا۔
فیصلے میں عدالت نے اپنی بات واضح کرنے کے لیے اے آئی سے تیار شدہ وعدے بھی نقل کیے۔ مرد سے تقریب کے دوران پوچھا گیا ’کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ آج، کل اور ہمیشہ (عورت کا نام) کے ساتھ رہیں گے؟ کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ ہنسیں گے، ساتھ بڑھیں گے اور ایک دوسرے سے محبت کریں گے چاہے جو بھی ہو؟‘۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا وہ ’ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھیں گے، ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے حتیٰ کہ مشکل وقت میں بھی؟‘
یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی سیکھنے کی صلاحیت متاثر کر رہی ہے؟ نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف
تاہم عدالت کو یہ سب پسند نہیں آیا کیونکہ تقریب میں استعمال ہونے والا متن قانونی طور پر درست نہیں تھا اور اس نے فیصلہ دیا کہ مرد اور عورت کے درمیان شادی رسمی طور پر مکمل نہیں ہوئی۔
جوڑے نے دلیل دی کہ ان کا یہ ارادہ نہیں تھا اور تقریب کے وقت سول افسر نے بھی اس کی نشاندہی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ شادی کی تاریخ تبدیل کرنا ان کے لیے جذباتی طور پر مشکل ہوگا اور درخواست کی کہ انہیں ابتدائی شادی کی تاریخ کو قانونی شادی کی تاریخ رکھنے کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کون سا اے آئی چیٹ بوٹ حساب کتاب میں سب سے زیادہ درست ہے؟
لیکن عدالت نے قانون کے مطابق یہ درخواست مسترد کر دی۔ اور کہا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ سرٹیفکیٹ میں درج شادی کی تاریخ مرد اور عورت کے لیے کتنی اہم ہے لیکن یہ قانون کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔














