امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سینیئر سینیٹ بل (Graham-Blumenthal Sanctions Bill) کو ہری جھنڈی دکھائی ہے، جس کے تحت صدر امریکا کو اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ روسی تیل یا یورینیم خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرِف عائد کرے۔
اس اقدام کا مقصد روس کی فوجی کارروائیوں کے لیے مالی وسائل کو روکنا اور یوکرین میں جاری جنگ کے دوران ماسکو کی اقتصادی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
بل کی تفصیلات
بل کا مسودہ ریپبلکن سینیٹر لنڈسی گراہم اور ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومن تھل نے تیار کیا۔ اس کے تحت امریکی صدر روس کے تیل، گیس، یورینیم اور دیگر برآمدات خریدنے والے ممالک پر اضافی ٹیکس یا ثانوی پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔ بل کا مقصد یہ ہے کہ روس کے فوجی آپریشنز کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو روکا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کی حمایت
گراہم نے بتایا کہ انہوں نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں ٹرمپ نے بل کی حمایت کی۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کی۔
یہ بھی پڑھیے امریکی پابندیوں کے بعد بھارتی ریفائنریز کا روسی تیل کی درآمدات میں کمی کا فیصلہ
گراہم نے کہا کہ یہ وقت بہت مناسب ہے، کیونکہ یوکرین امن کے لیے کچھ رعایتیں دے رہا ہے جبکہ پیوٹن صرف باتیں کر رہے ہیں اور بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔
ممکنہ اثرات
اگر بل منظور ہو گیا تو بھارت، چین، برازیل اور دیگر ممالک جو روسی تیل خرید رہے ہیں، ان پر سخت اقتصادی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
سینیٹ میں ممکنہ ووٹ اگلے ہفتے ہو سکتا ہے، تاہم ابھی تک اس کے امکانات واضح نہیں ہیں۔ سینیٹ اگلے ہفتے حکومتی فنڈنگ پیکیج پر غور کرے گا، اور اس کے بعد مارٹن لوتھر کنگ جونیئر ڈے کے موقع پر وقفہ ہوگا۔
کانگریس میں قانونی پس منظر
سینیٹ کے بل کے ساتھ ہاؤس میں ایک ہم منصب بل بھی موجود ہے، جسے ریپبلکن نمائندہ برائن فٹزپیٹرک نے پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی بھارت کو پھر تنبیہ، روسی تیل کی درآمدات پر ’سنجیدگی‘ دکھانے کا مطالبہ
ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کو حتمی شکل دے، جس میں اسٹیو وائٹکوف اور جارڈ کشنر (ٹرمپ کے داماد) مذاکرات کے اہم نمائندے ہیں۔













