حکومت نے گزشتہ سال پاک پی ڈبلیو ڈی ادارے کو ختم کر دیا تھا جس کے بعد ملازمین نے بھرپور احتجاج کیا اور اپنی نوکری کو بچانے کے لیے احتجاج کیے، اب انکشاف ہوا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی کے 2800 سے زائد ملازمین کو مختلف اداروں میں ایڈجسٹ کیے گئے ہیں اور ملازمین کو بلا تعطل تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے اجلاس میں بتایا گیا کہ پاک پی ڈبلیو ڈی کے 1,493 ملازمین سی ڈی اے، 970 اسٹیٹ آفس، 95 وزارت دفاع، ایک وفاقی شرعی عدالت، 60 وزارت خارجہ، 116 ایف بی آر، 35 نیب اور 90 کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر قریباً 2,860 ملازمین کو تنخواہیں باقاعدگی سے مل رہی ہیں، جبکہ 173 ملازمین کے لیے موجودہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری زیر غور ہے اور 83 آئی بی ملازمین کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
مزید پڑھیں: سینیٹ قائمہ کمیٹی سی ڈی اے پر برہم، سیکریٹری داخلہ کو بھی طلب کرلیا
اجلاس کے دوران پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) کے مینٹیننس اسٹاف کے ملازمین کو یکم جولائی 2025 سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان ملازمین کو فوری طور پر بقایاجات کی ادائیگی اور انہیں اسی تاریخ سے ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت کی، جس تاریخ سے بلوچستان میں دیگر پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کو مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کیا گیا تھا۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر محمود نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام مذکورہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی تصدیق کر کے واضح اور مستند رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔
اجلاس میں سینٹرل سول ڈویژن پاک پی ڈبلیو ڈی کے 15 درجے چہارم کے ملازمین کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جنہیں اے جی پی آر اور ٹی آفس لاہور منتقل تو کیا گیا مگر گزشتہ 6 ماہ سے نہ تو ایڈجسٹ کیا گیا اور نہ ہی تنخواہیں ادا کی گئیں۔ کمیٹی نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری حل اور تنخواہوں کی ادائیگی کی ہدایت کر دی ۔
وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے حکام نے کمیٹی کو پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ، تنخواہوں، پنشن، گریجویٹی اور دیگر واجبات کی ادائیگی کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں کانسٹینشیا اسٹیٹ مری کے حصول، ترقی اور استعمال سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) مری نے زمین کی میوٹیشن کے لیے ڈپٹی کمشنر کو باضابطہ درخواست دینے کی ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں: سی ڈی اے مزدور یونین کے ملازمین کی پروموشن کردی گئی
چونکہ اسٹیٹ آفس کو زمین کی صرف نگرانی (واچ اینڈ وارڈ) کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس لیے معاملہ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ میوٹیشن وفاقی حکومت یا وزارت کے نام کی جائے۔
مزید برآں، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے سول کورٹ راولپنڈی کو خط لکھ کر زیر التوا مقدمات کو پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس کے تحت ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کو منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے بروقت فیصلوں، شفافیت اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو جلد از جلد پیش رفت رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی۔













