سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی بھتیجی اور مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب ’دی آور آف دی وولف‘ کی رونمائی 27 جنوری کو امریکا میں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: مرتضیٰ بھٹو کا قتل کیوں ہوا، کیا وہ اپنی بہن کو قتل کرنا چاہتے تھے؟
ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ کتاب ایک یادداشت (میموئر) ہے جس میں مصنفہ اور سماجی کارکن فاطمہ بھٹو نے اپنی زندگی کے مشکل ترین ادوار، ذہنی بے چینی، رشتوں کی پیچیدگیوں اور اپنے پالتو کتے کی بے لوث محبت کو موضوع بنایا ہے۔
یہ کتاب فاطمہ بھٹو اور ان کے جیک رسل ٹیریئر نسل کے کتے کوکو کے تعلق پر مبنی ہے جو ان کے مطابق ان کے تاریک ترین دنوں میں ان کا قریبی ساتھی بن گیا۔
کوکو کی رفاقت میں فاطمہ بھٹو کو اپنی زندگی کے گہرے ذاتی صدمات اور پیچیدہ تعلقات پر غور کرنے کا موقع ملا۔
میموئر میں فاطمہ بھٹو نے اپنے والد کے المناک قتل، محبت کے تجربات، ایک زہریلے اور جذباتی طور پر نقصان دہ رشتے، اور ماں بننے کی خواہش جیسے حساس موضوعات پر کھل کر بات کی ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنی کتاب کی تشہیر کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ تقریباً پوری زندگی بے چینی کا شکار رہی ہیں۔
مزید پڑھیے: فاطمہ بھٹو کے ہاں بیٹے کی پیدائش، نام مرتضیٰ بھٹو رکھ دیا
فاطمہ بھٹو کے مطابق یوگا، سبزی خوری اور ویگن طرز زندگی آزمانے کے باوجود، ان کی بیس کی دہائی میں گھبراہٹ کے دوروں سے نجات دو چیزوں نے دلائی۔
کتاب میں مادری جذبے، فن، خاندان اور ایک کتے کی غیر مشروط محبت کے ذریعے شفا کے مواقع کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، دوستی کو بھی ایک اہم موضوع کے طور پر پیش کیا گیا ہے جسے فاطمہ بھٹو نے اپنی زندگی میں سہارا بننے والا عنصر قرار دیا۔
ایک اور پروموشنل پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ اگر مجھے ایسے دوست نہ ملتے تو شاید میں زندگی کے کئی مرحلے طے نہ کر پاتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی دوستی گہرے رشتے کی مانند ہوتی ہے جو وقت، تعلقات اور حالات سے بالاتر رہتی ہے۔
فاطمہ بھٹو نے خاص طور پر اپنی دوست الیگرا کا ذکر کیا جنہوں نے ان کی زندگی میں کئی کردار ادا کیے۔ کتاب کے سرورق کا ڈیزائن جون گرے نے تیار کیا ہے جبکہ مصنفہ کی تصویر الیگرا نے لی ہے جس میں فاطمہ بھٹو اپنے کتے کوکو کو بازوؤں میں تھامے ہوئے نظر آتی ہیں۔
مزید پڑھیں: فاطمہ بھٹو کے ساتھ مل کر نئی سیاسی جماعت قائم کرکے لیاری سے الیکشن لڑوں گا، ذوالفقار بھٹو جونیئر
واضح رہے کہ فاطمہ بھٹو فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنے والی نمایاں شخصیات میں شامل ہیں۔ گزشتہ برس انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کی دستاویز بندی کے لیے شائع ہونے والی کتاب ’غزہ: دی اسٹوری آف اے جینوسائیڈ‘ کی مشترکہ تدوین بھی کی تھی۔














