پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ضابطہ فوجداری (پنجاب ترمیم) بل 2025 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل دائر کرنے کے طریقۂ کار میں اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ ترمیم کا مقصد اپیل کے عمل کو تیز، مؤثر اور غیر ضروری سرکاری تاخیر سے پاک بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کے اجلاسوں کا شیڈول جاری
پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ضابطہ فوجداری پنجاب ترمیم بل 2025 کی منظوری دے دی، جس کے تحت ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 417 میں ترمیم کی گئی ہے۔ اس ترمیم کا تعلق ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل دائر کرنے کے اختیار سے ہے۔
بل کے متن کے مطابق اب بریت کے خلاف اپیل دائر کرنے کی منظوری صوبائی حکومت کے بجائے حکومتِ پنجاب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن کے سیکریٹری دیں گے۔ ترمیم کے بعد سیکریٹری پبلک پراسیکیوشن کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ پبلک پراسیکیوٹر کو براہ راست بریت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی ہدایت جاری کر سکیں۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اس ترمیم کا بنیادی مقصد اپیل دائر کرنے کے عمل کو تیز کرنا اور اجازت کے طویل، پیچیدہ اور وقت طلب سرکاری طریقۂ کار کو ختم کرنا ہے۔ ماضی میں اکثر کیسز میں سرکاری منظوری میں تاخیر کے باعث قانونی مدت ختم ہو جاتی تھی، جس کے نتیجے میں بریت کے خلاف اپیل دائر نہیں ہو پاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 289 میں ن لیگ کے امیدوار اسامہ عبدالکریم بلامقابلہ منتخب
ضابطہ فوجداری (پنجاب ترمیم) بل 2025 کے اسٹیٹمنٹ آف آبجیکٹس اینڈ ریزنز کے مطابق دفعہ 417 میں ترمیم کے ذریعے محکمہ پبلک پراسیکیوشن کے سیکریٹری کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ براہ راست پبلک پراسیکیوٹر کو اپیل دائر کرنے کی ہدایت دے سکیں، تاکہ قانونی مدت کے اندر مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے۔
یہ بل پنجاب اسمبلی سے حتمی منظوری کے بعد گورنر پنجاب کو ارسال کیا جائے گا، جس کے بعد اس کا اطلاق فوری طور پر ہو جائے گا۔














