وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے سول سروسز اکیڈمی میں ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس 101‘ ماڈیول کا افتتاح کیا، جس کے تحت سی ایس ایس کے نصاب میں مصنوعی ذہانت کی تربیت شامل کی گئی ہے۔
وزیر نے خصوصی سی ایس ایس بیچ کے 108 پروبیشنری افسران سے خطاب میں کہا کہ یہ اقدام حکومت کے ڈیجیٹل نیشن وژن کے تحت اٹھایا گیا ہے اور یہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے مطابق ایک حکومتی اصلاحاتی فریم ورک کے طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے شادی کے وعدے کیوں لکھوائے؟ عدالت نے شادی غیر قانونی قرار دے دی
اس خصوصی بیچ میں بلوچستان کے 52 اور سندھ کے 56 افسران شامل تھے۔ اے آئی ماڈیول وزارتِ آئی ٹی و ٹیلیکام، پلاننگ کمیشن، سول سروسز اکیڈمی اور ایٹم کیمپ کے اشتراک سے تیار کیا گیا۔
وزیر نے بتایا کہ قومی مصنوعی ذہانت کی پالیسی میں حکومت کے اداروں میں انسانی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس تربیت کا مقصد مستقبل کے سول سرونٹس کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دار اور مؤثر استعمال کے لیے تیار کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی سیکھنے کی صلاحیت متاثر کر رہی ہے؟ نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف
اس پروگرام کے تحت 150 پروبیشنری افسران کو دو روزہ تربیت دی گئی، جس میں اے آئی کی بنیادی معلومات، پرامپٹ انجینئرنگ، انتظامی اور تحقیقی اطلاقات، پیداواری آلات اور اخلاقی پہلو شامل تھے۔ 30 فیکلٹی ممبران کے لیے ٹریننگ آف ٹرینرز پروگرام بھی مکمل کیا گیا تاکہ وہ ماسٹر ٹرینرز کے طور پر تربیت فراہم کر سکیں۔
وزیر نے اعلان کیا کہ اب اے آئی کی تربیت CSA کے باقاعدہ نصاب کا حصہ بن چکی ہے اور تمام مستقبل کے بیچز کو منظم طور پر مصنوعی ذہانت کی تعلیم دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ایٹم کیمپ کے ساتھ شراکت داری کو مزید جدید ماڈیولز کے لیے بڑھایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے 39 میں سے 38 ڈویژنز میں 100 فیصد ای-آفس نظام نافذ کر دیا ہے جس سے فائلوں کی کارروائی کا دورانیہ 25 سے 30 دن سے کم ہو کر صرف 4 دن رہ گیا ہے۔ سستی ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ملک کی ڈیجیٹل حکمت عملی کو تقویت ملی ہے۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزارت اے آئی کی تربیت کو درمیانی اور سینئر افسران تک بھی بڑھائے گی اور تمام صلاحیت سازی کے اقدامات ابھرتے ہوئے اے آئی گورننس اور ڈیٹا پروٹیکشن فریم ورکس کے مطابق ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’اے آئی ایٹمی طاقت جیسی، نیا عالمی ’اے آئی کلب‘ بن رہا ہے‘
یہ اقدام ڈیجیٹل نیشن پاکستان قانون سازی کے تحت اٹھایا گیا، جسے دسمبر 2024 میں قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت نیشنل ڈیجیٹل کمیشن قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی وزیراعظم کریں گے اور اس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور اہم ریگولیٹری اداروں کے سربراہ شامل ہوں گے تاکہ ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی نگرانی کی جا سکے۔














