ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن کو ’اغوا‘ کرنے کے سوال پر کیا جواب دیا؟

ہفتہ 10 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اغوا کرنے یا پکڑنے کا کوئی حکم نہیں دیں گے، کیونکہ ان کے بقول ایسی کارروائی ضروری نہیں اور ان کا پیوٹن کے ساتھ تعلق اچھا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: گرین لینڈ پر کنٹرول کے لیے سخت مؤقف، صدر ٹرمپ نے طاقت کے استعمال کا اشارہ دے دیا

امریکی میڈیا کے مطابق صحافیوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی خواہش پر عمل کرتے ہوئے پیوٹن کو گرفتار کرنے کا حکم دیں گے، جیسا کہ زیلنسکی نے وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد تبصرہ کیا تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ضروری ہوگا۔ میں نے ہمیشہ ان کے ساتھ اچھا تعلق رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ روس یوکرین جنگ میں امن کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں، لیکن وہ توقع کے مطابق کامیاب نہیں ہو سکیں۔

مزید پڑھیں: وینزویلا پر دوسرا حملہ منسوخ کردیا، تیل میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

یہ جواب عالمی سطح پر امریکی خارجہ پالیسی اور روس امریکا تعلقات پر جاری بحث کے دوران آیا ہے، خاص طور پر وینزویلا میں امریکی کارروائی کے بعد بین الاقوامی ردِعمل میں اضافہ ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا