ایک نئی سائنسی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران دنیا کے سمندروں نے تاریخ کی سب سے زیادہ حرارت جذب کی، جو آئندہ برسوں میں شدید موسمی بحرانوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال سمندروں میں جمع ہونے والی حرارت میں تقریباً 23 زیٹا جول کا اضافہ ہوا، جو عالمی سطح پر تقریباً 4 دہائیوں کی توانائی کھپت کے برابر ہے۔ یہ سطح 1950 کی دہائی کے بعد سے ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ سمندری حرارت ہے۔
Record heat never ends in OCEANIA.
Historic hot night in PALAU
Minimum 27.2C at Koror WSO
It ties its January highest Minimum on record which was set…guess when..
Last year of course.
Oceania has been breaking heat records for years, no-stop,even with a Nina. pic.twitter.com/x4nJUlvsMW— Extreme Temperatures Around The World (@extremetemps) January 11, 2026
سائنس دانوں کے مطابق سمندر زمین میں پیدا ہونے والی اضافی گرمی کا تقریباً 90 فیصد جذب کرتے ہیں، اسی وجہ سے انہیں موسمیاتی تبدیلی کا سب سے واضح پیمانہ قرار دیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندروں میں بڑھتی ہوئی حرارت سمندری سطح میں اضافے، شدید بارشوں، طاقتور سمندری طوفانوں اور مرجانوں کی بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی بحرِ اوقیانوس، بحیرۂ روم، شمالی بحرِ ہند اور جنوبی سمندر ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں 2025 کے دوران ریکارڈ حدت جذب ہوئی۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ 2025 میں سطحِ سمندر کے درجۂ حرارت میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر سمندروں کی گہرائی میں حرارت کا بڑھنا ایک خطرناک رجحان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:رواں برس شدید سردی کا امکان، اس بار کون سا سسٹم آرہا ہے؟
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جب تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی نہیں کی جاتی، زمین میں جمع ہونے والی حرارت بڑھتی رہے گی، جس کے نتیجے میں سمندر نئے ریکارڈ توڑتے رہیں گے اور دنیا کو مزید شدید موسمی اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔












