تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

پیر 12 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کی سرحدی فورسز نے تصدیق کی ہے کہ تیکناف سرحد کے راستے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیے گئے تمام 53 روہنگیا افراد، اوکھیا اور تیکناف کے مہاجر کیمپوں میں رجسٹرڈ مہاجر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

مقامی حکام کے مطابق یہ گروپ اس سے قبل کاکس بازار کے مہاجر کیمپوں سے نکل کر سمندری اور دریائی راستوں کے ذریعے میانمار کی ریاست راکھین میں داخل ہوا تھا۔

تاہم راکھین میں دوبارہ شروع ہونے والی شدید لڑائی اور فائرنگ کے باعث انہوں نے اتوار کے روز نَف دریا عبور کر کے بنگلہ دیش واپس آنے کی کوشش کی۔

ان افراد کو تیکناف کے ہوائیکانگ سرحدی علاقے میں گشت کے دوران بارڈر گارڈ بنگلہ دیش  نے حراست میں لیا جس کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

مزید پڑھیے: بھارتی حکام سے حقوق انسانی تنظیم کا روہنگیا ماں کی رہائی کا مطالبہ

پولیس کے مطابق تیکناف ماڈل پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں شامل ایک 20 سالہ روہنگیا نوجوان کفایت اللہ کو گولی لگنے کے زخم آئے تھے۔ اسے پہلے ٹیکناف اپازلا ہیلتھ کمپلیکس منتقل کیا گیا بعد ازاں چٹاگرام میڈیکل کالج اسپتال ریفر کر دیا گیا جہاں وہ زیر علاج ہے۔ سرحدی فورس کی جانب سے درج مقدمے میں کفایت اللہ کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بتایا کہ تمام گرفتار افراد مہاجر کیمپوں کے رہائشی ہیں تاہم یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا ان میں سے کسی کے میانمار میں سرگرم مسلح روہنگیا گروہوں سے روابط تو نہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے روہنگیا مہاجرین کو سمیں جاری کرنے کا عمل شروع کردیا

ادھر پولیس نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ریاست راکھین میں اراکان آرمی اور روہنگیا مسلح گروہوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

فائرنگ کے تبادلے کے دوران بعض گولیاں بنگلہ دیشی حدود میں داخل ہو گئیں جس کے نتیجے میں ٹیکناف کے ہوائیکانگ علاقے میں ایک اسکول جانے والی بچی زخمی ہو گئی۔ بچی اس وقت چٹاگرام میڈیکل کالج اسپتال میں زیر علاج ہے، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت تشویشناک قرار دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بھارت کیجانب سے بنگلہ دیشیوں اور روہنگیا مسلمانوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری

یہ واقعہ ایک بار پھر بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد پر سیکیورٹی خدشات کو اجاگر کرتا ہے جہاں راکھین میں بڑھتی ہوئی بدامنی خطے کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان