گرین لینڈ حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا ایک اہم اور حساس مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں امریکا، چین اور روس کی نظریں مرکوز ہیں۔ آرکٹک خطے میں واقع یہ وسیع و عریض جزیرہ، جو رقبے کے لحاظ سے 8 لاکھ 36 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے، قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع اور عسکری اہمیت کے باعث بڑی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی کی علامت بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ پر امریکی دعوے پر ڈنمارک کی پھر سخت وارننگ اور اٹلی کی روس سے بات چیت کی اپیل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں تیل اور گیس کے شعبے سے وابستہ افراد سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل نہ کیا تو روس یا چین یہ موقع حاصل کر سکتے ہیں، جو امریکا کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہوگا۔

گرین لینڈ کا جغرافیائی محلِ وقوع
گرین لینڈ شمالی امریکا اور یورپ کے درمیان واقع ہے اور آرکٹک سمندر تک رسائی کا اہم دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ محلِ وقوع اسے شمالی بحرِ اوقیانوس میں تجارتی اور عسکری بالادستی کے لیے نہایت اہم بناتا ہے۔ ناردرن سی روٹ اور ٹرانس پولر روٹ جیسے ممکنہ بحری راستے ایشیا اور یورپ کے درمیان سفر کا وقت 30 سے 40 فیصد تک کم کر سکتے ہیں، جس سے عالمی تجارت کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اگر امریکا گرین لینڈ پر قبضہ نہیں کرے گا تو چین اور روس کرلیں گے جو قابل قبول نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
قدرتی وسائل کی دولت
گرین لینڈ کی اہمیت کا ایک بڑا سبب اس کے قدرتی وسائل ہیں۔ یہاں تیل، گیس اور نایاب معدنیات کے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں، جو الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں، سیمی کنڈکٹرز، ہوا سے بجلی بنانے والی ٹربائنز اور دفاعی سازوسامان میں استعمال ہوتے ہیں۔

یورپی کمیشن کے 2023 کے سروے کے مطابق گرین لینڈ میں موجود 34 میں سے 25 معدنیات کو انتہائی اہم خام مواد قرار دیا گیا ہے۔ عالمی حدت میں اضافے کے باعث برف پگھلنے سے یہ وسائل مزید قابلِ رسائی ہو رہے ہیں، جس نے عالمی مقابلے کو تیز کر دیا ہے۔
امریکا کی دلچسپی کیوں؟
امریکا کے لیے گرین لینڈ کی سب سے بڑی اہمیت اس کا دفاعی پہلو ہے۔ یہ خطہ شمالی امریکا سے یورپ تک مختصر ترین راستہ فراہم کرتا ہے، جو میزائل حملوں کی بروقت نشاندہی اور نگرانی کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔

گرین لینڈ میں امریکی زیرِ انتظام پٹوفک بیس پہلے ہی امریکا کے دفاعی نظام کا اہم حصہ ہے، جہاں خلائی نگرانی اور ابتدائی وارننگ ریڈار نصب ہیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا کو گرین لینڈ معدنیات کے لیے نہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے چاہیے، تاہم وسائل پر کنٹرول بھی ایک اہم محرک سمجھا جاتا ہے۔
چین کے لیے گرین لینڈ کی اہمیت
چین خود کو ’نزدیکی آرکٹک ریاست‘ قرار دیتا ہے اور گرین لینڈ کو اپنی پولر سلک روڈ کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ یہ جزیرہ آرکٹک اور اٹلانٹک کے درمیان ایک گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے، جو یورپی منڈیوں تک مختصر بحری راستے فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی تیاری، شہریوں کو فی کس ایک لاکھ ڈالر کی پیشکش پر غور
چین پہلے ہی آرکٹک میں سائنسی مہمات اور تحقیقی جہازوں کے ذریعے اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے۔ گرین لینڈ کے نایاب معدنیات چین کے لیے اس لیے بھی اہم ہیں کہ وہ پہلے ہی عالمی سطح پر ریئر ارتھ معدنیات کی کان کنی اور پراسیسنگ میں نمایاں برتری رکھتا ہے۔
روس کا کردار اور خدشات
روس گرین لینڈ کو اپنے خطے میں ایک اسٹریٹجک توازن کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہ جزیرہ جی یو آئی کے گیپ پر واقع ہے، جو ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ روس نے آرکٹک میں اپنی عسکری موجودگی بڑھاتے ہوئے پرانے فوجی اڈے بحال کیے، فضائی دفاعی نظام نصب کیے اور اپنے شمالی بحری بیڑے کو مضبوط کیا ہے۔

روس اور چین کے درمیان آرکٹک بحری راستوں پر تعاون بھی بڑھ رہا ہے، جس کے ذریعے چین کو تیل اور گیس کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے۔
گرین لینڈ کے عوام کی آواز
عالمی طاقتوں کی اس کشمکش میں سب سے اہم سوال گرین لینڈ کے عوام کے مستقبل کا ہے۔ گرین لینڈ کی سیاسی جماعتوں کے مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ نہ امریکی بننا چاہتے ہیں اور نہ ڈینش، بلکہ اپنی شناخت کے ساتھ خودمختار فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، گرین لینڈ کا مستقبل صرف اور صرف گرین لینڈ کے عوام کو طے کرنا چاہیے۔

یوں گرین لینڈ محض ایک برفانی جزیرہ نہیں رہا، بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات، وسائل کی دوڑ اور سکیورٹی خدشات کا مرکز بن چکا ہے، جہاں آنے والے برسوں میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بشکریہ: دی نیوز













