گرین لینڈ پر امریکی دعوے پر ڈنمارک کی پھر سخت وارننگ اور اٹلی کی روس سے بات چیت کی اپیل

ہفتہ 10 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گرین لینڈ کے مستقبل پر امریکا اور ڈنمارک کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے نیٹو اور یورپی سیاست میں نئی بےچینی پیدا کر دی ہے، جبکہ یوکرین جنگ کے تناظر میں اٹلی نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ روس سے براہِ راست مذاکرات کا آغاز کرے۔ دونوں پیشرفتیں یورپ اور امریکا کے تعلقات اور خطے کے سلامتی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ پر کنٹرول کے لیے سخت مؤقف، صدر ٹرمپ نے طاقت کے استعمال کا اشارہ دے دیا

ڈنمارک کے رکنِ پارلیمنٹ اور دفاعی کمیٹی کے سربراہ راسمُس یارلوف نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر فوجی حملے کی کوشش کی تو ڈنمارک اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا، اگرچہ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ڈنمارک کی فوج امریکا کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

ان کے مطابق ایسے کسی اقدام کی کوئی وجہ یا جواز موجود نہیں، کیونکہ امریکا پہلے ہی دفاعی معاہدے کے تحت گرین لینڈ تک رسائی رکھتا ہے اور وہاں کان کنی سمیت دیگر سرگرمیوں کی اجازت حاصل ہے۔ یارلوف نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال 2 نیٹو ممالک کے درمیان تباہ کن جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔

ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا نے طاقت کے ذریعے گرین لینڈ پر قبضے کی کوشش کی تو نیٹو کا آرٹیکل فائیو فعال کرنا پڑے گا، جو بالآخر اتحاد کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ کے پوشیدہ ‘خزانے’ جن کی وجہ سے امریکا اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے امریکا کی قومی سلامتی کی ترجیح قرار دے چکے ہیں، اگرچہ امریکی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کا مؤقف خریداری پر مبنی ہے، فوجی کارروائی پر نہیں۔ اس تناظر میں امریکا اور ڈنمارک کے حکام کے درمیان آئندہ ملاقات متوقع ہے۔

اسی دوران اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے یوکرین جنگ کے حوالے سے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ روس سے براہِ راست بات چیت شروع کرے۔ روم میں سالانہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ یورپ کو صرف ایک فریق سے بات کرنے کے بجائے مذاکرات میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی تیاری، شہریوں کو فی کس ایک لاکھ ڈالر کی پیشکش پر غور

میلونی نے یوکرین کے لیے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے کی تقرری کی تجویز بھی دی، تاکہ بات چیت منظم اور مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔

یورپی یونین اس معاملے پر اندرونی اختلافات کا شکار ہے، خصوصاً بالٹک ممالک روس سے رابطے کے سخت مخالف ہیں، جبکہ امریکا گزشتہ ایک سال سے ماسکو کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی امن منصوبہ یوکرین کی بڑی حد تک منظوری حاصل کر چکا ہے، تاہم روس نے تاحال باضابطہ ردِعمل نہیں دیا۔ روسی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی ذرائع سے مقاصد حاصل نہ ہوئے تو فوجی راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بنگلہ دیش: فوجی تحویل میں بی این پی کارکن ہلاک، اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم

عامر خان خود کو دیکھ کر ہنس پڑے، سنیل گروور کی پرفیکٹ نقل پر اداکار تالیاں بجاتے رہ گئے

ایم ایل ون منصوبہ: کراچی پورٹ سے تعمیراتی کام جولائی میں شروع ہونے کا امکان

7 افراد قتل کیس: پیپلز پارٹی کے رہنما محمد اسماعیل کی ضمانت منظور،رہائی کا حکم

بھاری سپر ٹیکس سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہے، نجی کمپنیوں کا عدالت میں مؤقف

ویڈیو

اسلام آباد گیس لیکج حادثہ، ‘میرا سب ختم ہوگیا، گھر واپس کیسے جائیں گے’

اسلام آباد کی سردی میں سوپ کے لیے لمبی قطاریں، اس میں خاص کیا ہے؟

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کالم / تجزیہ

امریکی یلغار: تصویر کے 3 رخ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے