امت کو متحد کرنے میں جامعہ اشرفیہ کا کردار ہے، وزیراعظم کی مولانا فضل الرحیم کے انتقال پر فاتحہ خوانی

اتوار 11 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مرحوم مہتمم اعلی مولانا فضل الرحیم اشرفی کی وفات پر تعزیت کے لیے جامعہ اشرفیہ لاہور کا دورہ کیا۔

وزیراعظم نے اس موقع پر موجودہ مہتمم اعلی مولانا قاری ارشد عبید سے ملاقات کی اور مرحوم مولانا فضل الرحیم اشرفی کے لیے فاتحہ خوانی اور دعا کی۔

اس موقع پر نائب مہتمم اعلی حافظ اسد عبید، نائب مہتمم و مرحوم کے صاحبزادے زبیر حسن اور ناظم اعلی قاری مولانا اویس حسن بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے مرحوم کی اسلام کے لیے خدمات کو عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے اس دوران وہ لمحات بھی یاد کیے جب وہ اپنے والد میاں محمد شریف کے ساتھ جامعہ اشرفیہ لاہور میں طویل عرصے تک مسلسل نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے حاضر ہوتے رہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ جامعہ اشرفیہ ہمیشہ امت مسلمہ کو متحد کرنے کا کردار ادا کرتی رہی ہے، جو ہر لحاظ سے قابل ستائش و تحسین ہے۔

مزید پڑھیں: ’مدارس کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے‘ مولانا فضل رحیم اشرفی کی وزیر داخلہ سے ملاقات

دورے کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ اور معاون خصوصی طلحہ برکی بھی وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بار سیاست: قائداعظمؒ کے نظریے سے گروپ ازم تک

اثاثہ جات کی تفسیلات جمع نہ کرانے والے درجنوں اراکین سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل

ججز کی کردار کشی: پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 14 لاکھ سے زائد ویب لنکس بلاک

پاکستان کی مالیاتی استعداد میں بہتری، وفاقی ٹیکس میں اضافہ ریکارڈ

ریڈیو پاکستان کیس، سہیل آفریدی کی ویڈیو میں موجودگی کی تصدیق، مقدمے میں نامزدگی پر غور

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘