یہ بات اب سب پر واضح ہو چکی ہے کہ ونڈر بوائے کوئی نہیں، حتیٰ کہ محسن نقوی بھی نہیں۔ سسٹم یہی چلے گا، سونا یہی بکے گا، ہیرا یہی بنے گا ، کابینہ یہی رہے گی، سب اسی تنخواہ پر کام کریں گے، نہ کوئی انقلاب آئے گا، نہ کوئی ان ہاؤس تبدیلی ہو گی، نہ نظام ہلایا جائے گا، نہ تخت گرایا جائے گا۔
سہیل وڑائچ صاحب کے ونڈر بوائے والے کالم نے خاصا ارتعاش پیدا کیا۔ ٹیکنو کریٹ والے جملے نے بہت سے سیاست دانوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا۔ بہت سے ٹیکنو کریٹس اپنے سی وی پر ’ٹاکی پوچا‘ مارنے لگے۔ بہت سے اپنی بیرون ملک یونیورسٹیوں میں تعلیم کے قصے سنانے لگے۔ بہت سوں نے نئے سوٹ کا آرڈر دے دیا، کچھ شیروانیاں امیدوں کی کھونٹیوں پر لہرانے لگیں۔ شُدھ انگریزی بولنے والے اردو حلف نامے کے ہجے کرنے لگے کہ اچانک خبر یہ آئی کہ نظام یہی چلے گا۔ وزارتوں کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ اور لہراتی شیروانیوں کو آگ لگ گئی۔
انصار عباسی صاحب سے لاکھ اختلاف سہی مگر یہ ان کا طرہ امتیاز ہے کہ خبر ان کی غلط نہیں ہوتی۔ تمثیل، علامت یا فسانے میں بات وہ نہیں کرتے۔ چاہے کچھ بھی ہو کسی کی توہین یا تضحیک ان کی سرشت میں نہیں۔ ان سے زیادہ مستند ذرائع کسی اور صحافی کے ہیں ہی نہیں۔
وہ جب کہہ رہے ہیں کہ نظام یہی چلے گا تو یہ بات مصدقہ ہے کہ تبدیلی کی کوئی خبر نہیں۔ انصار عباسی صاحب مصر ہیں کہ ونڈر بوائے کسی کی فرمائش پر تخلیق نہیں ہو سکتا، کسی کالم نگار کی فرمائش پر نظام نہیں الٹا جا سکتا۔
طلعت حسن معروف صحافی ہیں۔ انہوں نے بھی اپنے ایک وی لاگ میں ٹیکنو کریٹس کی حکومت والے اندیشے کو سرے سے رد کر دیا۔ اندیشے سے اختلاف کی توجیہ بہت کمال کی تھی۔ یہ نہیں کہا کہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت نہیں آئے گی بلکہ کہا کہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت آ چکی ہے۔ اس بات کو انہوں نے مزید دلائل و براہین سے ثابت کیا۔
جیسے کپتان ڈنکے کی چوٹ پر، ڈھول کی تھاپ پر کہتا تھا کہ تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ تبدیلی آ چکی ہے۔ اسی طرح معروف صحافی نے ایک ایک وزارت کی چھان پھٹک کے بعد کہا کہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت آ چکی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب لائق بھی ہیں، فائق بھی۔ آئی ایم ایف سے پنجے لڑانا ان کو خوب آتا ہے۔ بہت سے بین الاقوامی اداروں کا تجربہ رکھتے ہیں لیکن عوام اور ان کے ووٹوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ وہ ایک باقاعدہ ٹیکنو کریٹ ہیں۔
اپنے وزیر داخلہ محسن نقوی لاجواب شخصیت کے حامل ہیں۔ انتھک محنت کے عادی ہیں۔ چومکھی لڑائی میں مہارت رکھتے ہیں۔ ابھی داخلہ کے امور پر بات کر رہے ہوں گے، کچھ ہی دیر میں کرکٹ کے معاملات سلجھا رہے ہوں گے۔ وہاں سے فارغ ہوں گے تو علما کے وفد کے ساتھ بیٹھ جائیں گے، وہاں سے فرصت پائیں گے تو شہدا کے جنازے کو کندھا دینے روانہ ہو جائیں گے۔ محسن نقوی مقبول بھی ہیں اور معروف بھی مگر عوام کے نمائندے نہیں۔ ہیں وہ ٹیکنو کریٹ ہی۔ اچھے ٹیکنو کریٹ۔
وزارت خارجہ اسحاق ڈار صاحب نے سنبھالی ہے۔ یہ اچھا کام کر رہے ہیں۔ دنیا کے ممالک میں بہت عزت ہے ان کی۔ نواز شریف کے دستِ راست وہی ہوا کرتے تھے۔ خارجہ کے محاذ پر ان کا کام لاجواب ہے لیکن وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب نہیں ہوئے۔ وہ ہیں ایک اعلیٰ ٹیکنو کریٹ، ایک بہت قابل ٹیکنو کریٹ۔
وزارتِ دفاع خواجہ آصف کے پاس ہے جو پکے عوامی نمائندے ہیں۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں۔ لیکن وزارتِ دفاع کی ریت ہے کہ اسے چلاتے سیکرٹری دفاع ہی ہیں۔ وزیرِ دفاع صرف بیان دینے کے لیے ہوتا ہے۔ تو اس اعتبار سے 4 اہم وزارتوں داخلہ، خارجہ، خزانہ اور دفاع پر ٹیکنو کریٹس موجود ہیں۔ تو باقی غیر اہم وزارتوں سے کوئی اتنا فرق نہیں پڑتا۔ وہاں سیاست دان بھی چل سکتے ہیں۔ چند وزارتوں کے لیے نظام کو لپیٹنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
سہیل وڑائچ صاحب کی تھیوری اس حوالے سے بھی غلط ثابت ہوتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ٹیکنو کریٹس کا نظام لانے کے لیے کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بغیر نظام نہیں چلتا۔ موجودہ نظام میں تحریک انصاف کی پوزیشن سے سب ہی واقف ہیں۔ ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔
9 مئی کا بیانیہ اس شدت سے بنایا گیا کہ اگر کوئی چاہے بھی تو جس طرح کی ذہن سازی ہو چکی ہے اس کے بعد 9 مئی کے سانحے سے یو ٹرن ممکن نہیں۔ پیپلز پارٹی کی آئین پسندی کے سب ہی معترف ہیں مگر ان کی گورننس سے بھی سب ہی ڈسے ہوئے ہیں۔ ان کی ٹوکری میں سارے انڈے ڈالیں گے تو ٹوکری بھی نہیں رہے گی۔ ن لیگ جس شدت سے تابعداری پر آمادہ ہے وہ نظام کی امکانی تبدیلی کی صورت میں اتنی فرمانبردار نہیں رہے گی۔ تو اتنے دشمنوں کے درمیان ٹیکنو کریٹس کی حکومت پنپ نہیں سکتی۔
شہباز شریف کا طرزِ سیاست ایسا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے زبان پر شکایت نہیں لاتے۔ بڑے بڑے زخم سینے پر کھا کر مسکراتے رہتے ہیں۔ ان سے بہتر چوائس موجودہ سسٹم میں نہیں ہے۔ کیونکہ اگر شہباز شریف اپنی مدت پوری نہیں کر سکے تو وزیرِ اعظم کی مدت والا صفحہ آئین کی کتاب سے پھاڑ دینا چاہیے۔
سہیل وڑائچ صاحب کے ونڈر بوائے والے کالم کے بعد اگلا کالم بلی چوہے کے کھیل والا آ چکا ہے۔ جس کا لبِ لباب یہ کہ بلی چوہے کے شکار میں بے قصور ہے کیونکہ یہ اس کی سرشت میں ہے۔ وہ بیچاری مجبوری میں ایسا کر رہی ہے۔
خیر یہ نظام ایسی بے سروپا باتوں سے بالاتر ہے۔ یہ نظام پوری ثابت قدمی سے اپنے قدموں پر کھڑا ہے اور اس کے ڈھے جانے کا قطعی کوئی خطرہ نہیں۔
ہاں البتہ یہ درست ہے کہ جوہری ہر وقت گوہرِ نایاب کی تلاش میں رہتا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک ہیرا اس کی نظر میں ہوتا ہے۔ وہ ان کی پرکھ بھی کرتا رہتا ہے لیکن قوموں کے خزانوں میں ہیرا شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔
ابھی تو حالات بہت بہترین چل رہے ہیں۔ خارجہ کے محاذ پر کامرانیاں ہمارے قدم چوم رہی ہیں، عسکری محاذ پر دنیا میں ہمارا ڈنکا بج رہا ہے، معاشی میدان میں پوری دنیا ہمارے ہاں سرمایہ کاری کرنے پر تلی ہوئی ہے اس لیے سب کچھ ایسے ہی چلے گا۔
ہاں البتہ اگر کبھی حالات خراب ہوں، بین الاقوامی تعلقات درست نہ ہو رہے ہوں، معیشت گھاٹے میں جا رہی ہو، سیاست سنبھل نہ رہی ہو تو ایسے شخص کی طرف نظر کرنے کی ضرورت ہے جو لاہور میں انتخابات کے بعد سے اپنی انا سنبھالے ناراض بیٹھا ہے۔ نشانی اس شخص کی یہ ہے کہ اس کے ہاتھ پر کبوتر اور سر پر ہما بیٹھتا ہے۔ جوہری اگر جوہر شناس ہے تو اس کو پتہ ہو گا اس ملک کے خزانے میں ہیرا ایک ہی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













