وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں، اب اگر کسی نے دہشتگردوں کی حمایت کی تو کوئی نرمی نہیں کی جائےگی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ برس دہشتگردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے، لیکن صوبائی حکومت غیرقانونی افغانیوں کو واپس نہیں بھیجنا چاہتی۔
مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کن علاقوں میں موجود ہے؟
انہوں نے کہاکہ کیا سہیل آفریدی کو ابھی تک نہیں پتا کہ دہشتگردی کہاں سے ہو رہی ہے، پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔
طلال چوہدری نے کہاکہ دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور ٹریننگ کیمپ افغانستان میں ہیں، پی ٹی آئی کی جانب سے دہشتگردوں کے لیے نرم رویہ رکھنے کی کوئی تو وجہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کا ترجمان کھل کر دہشتگردوں کی مذمت نہیں کررہا، لیکن اب وزیراعلیٰ ہو یا کوئی عام رہنما، قومی بیانیے کے خلاف کوئی گفتگو برداشت نہیں کی جائےگی۔
وفاقی وزیر مملکت نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے کسی ایک ضلع میں بھی سیف سٹی نہیں ہے، جبکہ یہ دانستہ طور پر فرانزک لیب نہیں بنا رہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر کسی کو افغانستان سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو وہیں تشریف لے جائے، یا ہم چھوڑ آتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ سیاسی تحریک 100 دفعہ چلائیں لیکن پاکستان کے خلاف رویہ برداشت نہیں کیا جائےگا۔
انہوں نے کہاکہ کوئی چھوٹی طاقت ہو یا بڑی، پاکستان کے خلاف اقدام پر اس کا وہی علاج ہوگا جو مئی کی جنگ میں بھارت کا کیا گیا، کسی کو بھی پاکستانیوں کے خون سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
طلال چوہدری نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت نے دانستہ انسداد دہشتگردی کے اداروں پر پیسے خرچ نہیں کیے۔
مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم آئینی اختیار ہونے کے باوجود خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں لگانا چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ سمجھ جائیں۔ ’یہ ویسے ہی انڈر 19 بچہ ہے، بات کرکے بعد میں اس کو معافیاں مانگنا پڑتی ہیں۔‘
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ انسداد دہشتگردی پر ہونے والے اجلاس میں شریک نہیں ہوتے، جبکہ این ایف سی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آ جاتے ہیں، کیوں کہ وہاں سے پیسے ملنے ہوتے ہیں۔













