وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

منگل 13 جنوری 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سہیل آفریدی صاحب نے کیا نصیب پایا ہے، سوچتا ہوں اور رشک آتا ہے۔  خدا شاہد ہے معلوم انسانی تاریخ میں ایسا ’حیرت ناک‘ حکمران کبھی نہیں آیا، نہ عثمان بزدار سے پہلے، نہ گنڈا پور  کے بعد۔ یہ صرف قافلہ انقلاب  کا نصیب ہے جس کی گود بھرائی میں قدرت نے ایسے جواں بخت ڈال دیے ہیں۔

ہر حکمران کی کوشش ہوتی ہے کہ کچھ نہ کچھ  کارکردگی ضرور دکھائے  تا کہ لوگ کسی حد تک مطمئن ہوں۔  یہ صرف قافلہ انقلاب کے سورما ہیں جو کارکردگی نام کے کسی بھی تکلف سے یکسر بے نیاز ہیں۔ کوئی یاد کروا دے تو وہ الہڑ عمر کی بے نیازی سے کہتے ہیں کہ ہمارے ووٹر تو ہم سے کارکردگی کا پوچھتے ہی نہیں۔ ہم تو صرف خان صاحب کو رہا کروانے آئے ہیں۔

خان صاحب کو رہا کروانے میں ان کی بصیرت کے کمالات یہ ہیں کہ رہائی تو دور کی بات ہے، صاحب ملاقات تک نہیں فرما سکے۔  گنڈا پور تھے تو اڈیالہ کے اسیر سے ان کی ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ آفریدی صاحب نے آتے ہی عثمانی سلطانوں کی طرح وہ رجز پڑھے کہ وہ ملاقاتیں بھی قصہ ماضی ہو گئیں۔ وہ غلیلیں ہی ٹوٹ گئیں جن سے خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جنریشن زی سوال ہی تو نہیں اٹھاتی

اب عالم یہ ہے کہ کے پی کی وزارت عالیہ اپنے صوبے میں کم دکھائی دیتی ہے اور اومنی بس کی طرح پشاور سے اڈیالہ، اڈیالہ سے لاہور اور لاہور سے کراچی کے روٹ پر دوڑتی پھرتی ہے اور اعلان عام کرتی جاتی ہے کہ : روٹ ہمراہ ہے۔

نہ کارکردگی کا کوئی چیلنج ہے نہ جواب دہی کا خطرہ، بانکے میاں عشق عمران میں سرسوں کی طرح لہلاتے ہوئے جاتے ہیں، گرجتے ہیں، کڑکتے ہیں، برستے ہیں اور رجز سنا کر دلوں کو گرماتے چلے جاتے ہیں۔  ان کے میمنہ و میسرہ پر کتنے ہی زباں بکف جنگجو ہیں، بولتے ہیں تو سماج آتش فشاں کی زد میں آ جاتا ہے۔

صوبے میں کیا ہو رہا ہے ان کی بلا سے۔ مقامی حکومتوں کے کیا شکوے ہیں ان کے دشمن جانیں۔ لوگ کس حال میں، ان کو پرواہ نہیں۔  62 فی صد سکولوں میں ٹوائلٹس نہیں اور 58 فیصد اسکول پینے کے پانی سے محروم ہیں تو ان کی جانے بلا۔ بے روزگاری کی شرح سارے ملک سے زیادہ یہاں ہے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صوبے پر بیرونی قرضہ 723 ارب تک جا پہنچے یہ مزے میں ہیں، اس قرض میں صرف ایک سال میں 28 فی صد اضافہ ہو جائے یہ ان کا درد سر ہی نہیں۔

  وہ سب سے بے نیاز، اپنے بانکوں کے ہمراہ سرکاری پروٹوکول میں دوسرے صوبوں کے مطالعاتی دورے پر ہیں۔ جس حادثے نے انہیں مسند پر بٹھایا اس حادثے کو وہ حیرت کدے کی طرح دیکھتے ہیں، مسکراتے ہیں، آنکھیں ملتے ہیں اور پھر مسکرا دیتے ہیں۔ ان کا ہر روز، روز عید ہے اور ہر رات شب برات ۔ یہ قافلہ انقلاب کو لے کر پکنک پر نکلے ہوئے ہیں۔ اپنے صوبے میں یہ بیرونی دورے پر تشریف لاتے ہیں۔

ان کے کارکنان بھی انسانی تاریخ کا حیرت کدہ ہیں۔  وہ کوئی سوال ہی نہیں پوچھتے۔ وہ کوئی مطالبہ ہی نہیں کرتے۔ ان کی نظر میں گڈ گورننس بس ایک غیر ضروری تکلف ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی جبلتوں کی تسکین ہو جائے، وہ اسی ہنگامہ ہاؤ ہُو پر راضی ہیں۔  خوشی ہو یا غم ، می رقصم کی کیفیت ان پر ٹھہر گئی ہے۔ ایک وزیر اعلیٰ آتا ہے تو می رقصم صدا دیتا ہے دیکھا میرے کپتان کی بصیرت کو، رستم کو لے آیا۔ وہی وزیر اعلیٰ گھر بھیج دیا جاتا ہے تو قافلہ می رقصم سے صدا آتی ہے واہ میرے کپتان، تیرے ماسٹر اسٹروک پر قربان، تو نے اس کم ہمت کو گھر بھیج دیا۔ ان کا ہر وزیر اعلیٰ حیرت کی طرح آتا ہے اور برف کی مانند تحلیل ہو جاتا ہے۔  یہ اپنی حیرتوں میں بھی ‘ می رقصم’ ہوتے ہیں اور تحلیل ہوتی برف میں بھی۔

مزید پڑھیے: سہیل آفریدی لاہور کیا کرنے گئے تھے؟

پلاننگ اور ترقی ان کے نزدیک شاید ایک فضول چیز ہے۔  ان کے ابن خلدون نے  اپنے تربیتی کورس میں انہیں بتا رکھا ہے  کہ قومیں سڑکیں بنانے سے نہیں بنتیں۔  تعمیر میں وقت لگتا ہے اور وقت ان کے پاس نہیں ہے۔ محنت اور گڈ گورننس ان کے خیال میں پٹواریوں کا کام ہے۔ اسڑک بنانے سے بہتر ہے ایکس پر ٹرینڈ بنائے جائیں۔ ایک ایشو کھڑا کرو، اس جھوٹ کے ملبے کو رات تک سچائی کا تاج محل بنا کر سرخرو ہو جاؤ۔ پوسٹ ٹروتھ میں ان کے کمالات پر آئینہ بھی حیرتی ہے۔

مزید پڑھیں: بابر اعظم کو کنگ کیوں کہا جاتا ہے؟

اب آپ دل پر ہاتھ رکھیے اور بتائیے، پارلیمانی جمہوریت کی معلوم انسانی تاریخ میں ایسا جواں بخت وزیر اعلیٰ آپ نے پہلے کبھی دیکھا یا سنا جو کچھ نہ کر کے بھی معتبر ہو، جس کا صرف وزیر اعلیٰ بن جانا ہی رستم و سہراب سے بڑی شجاعت قرار دی جائے۔ جس کی آنیاں جانیاں دیکھ کر ہی کارکن ‘ یا قربان’ کے نعرے لگاتے ہوں، جو آدھی رات کو سیاہ چشمے لگا کر دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ان کے صوبے میں جا کر ہیڈ ماسٹروں کی طرح ڈانٹ پلاتا ہو اور انہیں سمجھاتا  ہو کہ کیا ہوا تم نے بہت ترقی کر لی، ترقی کر لینے سے قومیں تھوڑی بنتی ہیں۔

ایسا کہاں سے لائیں کہ ان سا کہیں جسے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فلسطینی نژاد مصنفہ کے ادبی میلہ سے اخراج پر احتجاج، 180 مصنفین کا شرکت سے انکار، فیسٹیول بورڈ ارکان مستعفی

بلوچستان فائنانس ایکٹ 2020 آئینی قرار، اٹک سیمنٹ کی درخواست مسترد

نوجوان اداکار سمجھتے ہیں ہمیں سب کچھ آتا ہے، صبا فیصل کی تنقید

بنگلہ دیش میں شخصی حکمرانی روکنے کے لیے ایوان بالا قائم کرنے کی تجویز پیش

مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے میٹا کی نئی حکمتِ عملی

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘

تحریک انصاف کا دشمن کون؟