سپریم کورٹ پاکستان کے ججز جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل وفد نے اکتوبر 2025 میں ورلڈ کانفرنس آن کانسٹیوشنل میں شرکت کی۔
اعلامیے کے مطابق ججز نے عدالتی آزادی، اختیارات کی تقسیم اور بنیادی حقوق کے تحفظ پر تفصیلی مباحثہ میں حصہ لیا۔ انہوں نے بڑھتی عوامی توقعات اور ادارہ جاتی دباؤ کے تناظر میں عدلیہ کے کردار پر بھی بات کی۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی قانون، کیا عدلیہ اور پنجاب حکومت آمنے سامنے ہیں؟
سپریم کورٹ کے وفد نے عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر خصوصی زور دیا اور واضح کیا کہ اے آئی انسانی عدالتی فہم کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی وفد کی کانفرنس میں فلسطینی اور ترک عدالتی وفود سے اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ترک وفد سے بات چیت میں قومی سلامتی اور آئینی آزادیوں کے توازن پر تبادلہ خیال کیا گیا اور پاکستان اور ترکی کے تاریخی و برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ عالمی فورم پر سپریم کورٹ پاکستان نے آئینی بالادستی سے وابستگی کا اظہار کیا اور کانفرنس سے حاصل ہونے والے تجربات سے پاکستان میں عدالتی اصلاحات کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔













