پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی قانون جس کے تحت ڈپٹی کمشنرز اور ریونیو اہلکاروں کے ذریعے لوگوں کی زمینوں پر قبضے چُھڑائے جا رہے ہیں، پنجاب حکومت اور عدلیہ کے درمیان تنازع کی وجہ بن گیا ہے اور دونوں اطراف سے بیانات جاری کئے جا رہے ہیں۔
اس سلسلے میں وکلا تنظیموں کا زیادہ تر جھکاؤ لاہور ہائی کورٹ کی طرف ہے اور باقاعدہ بیانات جاری کئے گئے ہیں کہ وکلا تنظمیں لاہور ہائی کورٹ اور جسٹس عالیہ نیلم کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی قانون کی معطلی، کیا یہ قانون جاتی عمرہ کے لیے بھی خطرناک تھا؟
وکلا کی اپیکس باڈی پاکستان بار کونسل نے آج اس سلسلے میں مفصل بیان جاری کیا جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون الرشید نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے فیصلے کی تائید کی۔
تنازعے کا آغاز 22 دسمبر کو ہوا جب چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عابدہ پروین اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی آرڈیننس پر عمل درآمد روک دیا، تمام قبضوں کو واپس کرنے کا حکم دیا اور فل بنچ کی تشکیل کی سفارش کی۔
اس کے بعد پنجاب حکومت اور لاہور ہائی کورٹ کے درمیان ایک تنازع کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔

گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے فلور سے اس عدالتی فیصلے پر تنقید کی گئی تو آج لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس سلطان تنویر نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ’اسمبلی فلور کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور وہاں سے کسی ادارے کو ٹارگٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔’ انہوں نے کہا کہ ‘اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ادارے ایک دوسرے کا احترام کریں، ہم آپ کا احترام کریں گے، آپ ہمارا احترام کریں، پاکستان کو آگے بڑھنا ہے اور اداروں کو سیکھنا چاہیے کہ باہمی احترام لازم ہے۔’
یہ بھی پڑھیے: پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی قانون کی معطلی، پاکستان بار کونسل کا خیرمقدم
اس سے قبل وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز شریف نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو اعلیٰ عدلیہ کے طے کردہ مسلمہ اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون سازی صوبائی اسمبلی کا آئینی حق ہے اور اس قانون کی معطلی سے غریبوں اور بیواؤں کے حقوق متاثر ہوں گے۔
پنجاب حکومت نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 جاری کیا جس کے تحت ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیاں قائم کی گئیں تاکہ زمین اور پراپرٹی کے تنازعات 90 دن کے اندر حل کیے جائیں۔ اس قانون کا مقصد برسوں تک عدالتوں میں پھنسی زمین سے متعلق مقدمات کا حل فراہم کرنا بتایا گیا تھا۔
پاکستان بار کونسل کا مؤقف
وکلا کی ایپکس باڈی پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین چوہدری طاہر نصراللہ وڑائچ نے آج ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی آرڈینس پر حکم امتناع خوش آئند ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اُنہوں نے وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کے بیان کی مذمت بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف غیر منقولہ قانون کی معطلی پر مریم نواز شریف کا ردعمل
پاکستان بار کونسل نے کہا ہے کہ نئے آرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کمیٹیوں کو جائیداد تنازعات کا اختیار دینا آئین و قانون کے منافی ہے، نیا آرڈینینس عدالتی بالادستی، شہری حقوق اور سول نظام کو کمزور کرتا ہے۔ زیر سماعت مقدمات میں ریونیو افسران کے ذریعے قبضہ دلوانا عدالتی اختیارات پر حملہ ہے۔ وکلا برادری چیف جسٹس اور ادارے کے ساتھ کھڑی ہے۔
عدالتی نگرانی کے بغیر ریونیو افسران کو اختیارات دینا غلط ہے: ہارون الرشید
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر ہارون الرّشید ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان بار کونسل کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں لیکن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ابھی تک اِس پر اپنا باقاعدہ مؤقف جاری نہیں کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ میری ذاتی رائے میں ریونیو اہلکاروں کو اِتنے زیادہ اختیارات دینا مناسب نہیں۔ یہ اختیارات کا غلط استعمال کریں گے جیسے کہ پہلے بھی کرتے ہیں۔ جس طرح سے پولیس اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتی ہے۔ ملک بھر کے وکلا چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ساتھ اِس لئے کھڑے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں زمینوں پر قبضے چُھڑانے کے معاملے میں ضلعی عدالتوں یا ہائی کورٹ کی نگرانی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹریک کم، ٹرینیں آدھی، زمینوں پر قبضے، آئینی عدالت میں ریلوے کارکردگی پر کڑی تنقید
ہارون الرشید نے کہا کہ ریونیو اہلکاروں پر چیک رکھنا ضروری ہے۔ گو کہ پنجاب کا یہ قانون عام آدمی کے لئے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے لیکن اس کو بغیر چیک اینڈ بیلنس کے نہیں چھوڑا جا سکتا۔
بیرسٹر علی ظفر کا موقف
معروف قانون دان بیرسٹر علی ظفر نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس آرڈیننس کا مقصد بہت اچھا ہے لیکن جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ غیر آئینی ہے۔ کسی قانون کو معطل کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے اور اس کے لیے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ آیا وہ قانون، آئین کے خلاف تو نہیں۔ یہ قانون آئین کے خلاف تھا کیونکہ اس میں قانون شہادت اور دیگر متعلقہ قوانین کو غیر مؤثر کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: دریا کنارے زمینیں طاقتور طبقے کے قبضے میں ہیں، مصدق ملک
انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے بالکل درست فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب حکومت اگر لوگوں کو جلد انصاف کی فراہمی چاہتی ہے تو اس کے لیے ٹربیونلز بنائے جا سکتے تھے جن کو فیصلے کے لیے مقررہ مدت کا پابند بنایا جاتا تب یہ درست عمل ہوتا۔ لیکن پنجاب حکومت نے کسی درست قانونی مشورے کے بغیر یہ قانون بنایا تو اس لیے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔














