ممتاز شاعر مختار صدیقی کے قلم سے سنہ 1956 میں لین یو تانگ کی کتاب ’امپورٹنس آف لونگ‘ کا اردو ترجمہ ’جینے کی اہمیت‘ کے عنوان سے سامنے آیا تھا۔ معروف شاعر اور مترجم قیوم نظر کے بقول ’اگر لین یو تانگ کا اندازِ تحریر تیز طرار اورپرخلوص ہے تو مختار صدیقی نے بھی اپنے ترجمے میں بے ساختہ شگفتگی اور مناسب الفاظ کے برمحل استعمال کو اپنایا ہے‘۔
عصر حاضر کے نامور ادیبوں میں ڈاکٹر ناصر عباس نیر اور سید کاشف رضا کی ذہنی زندگی پر اس کتاب نے گہرا اثر ڈالا ہے۔ ’جینے کی اہمیت‘ راقم کی پسندیدہ کتب میں شامل ہے اوراس کی طرف قاری بار بار پلٹتا ہے۔
اس تصنیف میں بھانت بھانت کے موضوعات زیر بحث آتے ہیں مثلاً انسان کیا ہے؟ ہمارا حیوانی ورثہ، انسانیت پرستی، زندگی سے کون زیادہ حظ اٹھا سکتا ہے؟ زندگی کی نعمتیں، گھر گرہست کے مزے و دیگر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: منو بھائی کیوں یاد آئے؟
گزشتہ دنوں اس کتاب سے ’پڑھنے کا فن‘ زیر مطالعہ رہا تو اس میں سے چند نکتے ایسے نظر آئے جن سے ممتاز فکشن نگار نیّر مسعود اور ان کے والد معروف محقق اور نقاد مسعود حسن رضوی ادیب کی طرف ذہن منتقل ہوا۔ باپ بیٹا دونوں میری محبوب ادبی ہستیاں ہیں۔ کتابیں جن کی زندگی کا محور تھیں۔
لین یو تانگ اس مکتب فکر سے نسبت رکھتے ہیں جو کتاب کے بارِ دیگر مطالعہ پر زور دیتا ہے۔ ان کے خیال میں زندگی کے مختلف مراحل میں ایک ہی کتاب کو پڑھنے سے آپ ہر دفعہ نیا لطف حاصل کرسکتے ہیں۔
وہ اپنے ذاتی مطالعے کی روشنی میں ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ 15،16 برس کی عمر میں چارلس کنگزلے کا ناول ’جانب مغرب‘ اور تھیکرے کا ناول ’دی ہسٹری آف ہنری ایسمنڈ‘ پڑھنے کا موقع ملا تو اول الذکر ناول انہیں بہت اچھا لگا پر مؤخر الذکر پسند نہیں آیا، بہت بعد میں جب وہ ان کی نظر سے گزرا تو وہ اس کے معترف ہو گئے۔
اردو میں نیّر مسعود کتاب بار بار پڑھنے والے ادیبوں کے قبیلے میں شامل ہیں۔ معروف فکشن نگار انیس اشفاق نے ’نیّرمسعود ہمہ رنگ ہمہ داں‘ میں لکھا ہے کہ وہ پڑھی ہوئی کتابیں بار بار پڑھتے تھ۔ ایک دن انہیں مولانا محمد حسین آزاد کی ’آب حیات‘ پڑھتے دیکھ کر انیس صاحب نے پوچھا:
’نیّر بھائی میں کئی بار آپ کے ہاتھ میں یہ کتاب دیکھ چکا ہوں، آپ اسے بار بار کیوں پڑھتے ہیں؟‘
اس پر نیّر مسعود نے جواب دیا:
’پرانے ادب کو بار بار پڑھتے رہنا چاہیے۔ آپ بھی مقدمہ(شعرو شاعری)، موازنہ(انیس و دبیر)، آب حیات اور شعر العجم کو بار بار پڑھا کیجیے اور سودا، میر اور انیس کو بھی۔ ان کلاموں کو جتنی بار پڑھیے گا، نئے رخ سامنے آئیں گے۔ غالب اور شیکسپیئر میں ابھی تک نئے معنی اسی لیے نکل رہے ہیں کہ انہیں بار بار پڑھا جا رہا ہے۔‘
نیّر مسعود نے ساگری سین گپتا کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہوں نے ’آب حیات‘ 5 سال کی عمر میں پڑھ لی تھی۔ ان کے بقول ’ہجے کرکر کے پڑھتا تھا، کوئی لفظ سمجھ میں نہیں آیا تو کئی کئی طرح سے اس کا تلفظ کرکے خیال ہوتا تھا کہ اچھا لفظ یوں ہو گا۔ 10 سال کی عمر تک ’دربار اکبری‘ اور کئی دوسری موٹی موٹی کتابیں پڑھ چکا تھا۔‘
نیّر مسعود کو کتاب بار بار پڑھنے کی عادت باپ سے ورثے میں ملی تھی۔ ادیب علمی و ادبی کتابوں اور شاعری کا مطالعہ برابر کرتے تھے لیکن فکشن اور مزاح سے بھی رشتہ برقرار رہتا۔ نیّر مسعود سے انہوں نے کئی بار سید رفیق حسین کے افسانوں کا مجموعہ ’آئینہ حیرت‘ لے کر پڑھا تھا۔
مزید پڑھیے: کانپور کے وہ کاٹا اور لاہور کے بوکاٹا میں فرق
شفیق الرحمٰن اور پطرس بھی ان کے محبوب مصنف تھے۔ نیّر مسعود نے لکھا ہے کہ پطرس کے ’مرید پور کا پیر‘ کے انہیں کئی ٹکڑے زبانی یاد تھے۔ شفیق الرحمٰن کے فقروں پر بھی بہت ہنستے تھے۔ ان فقروں میں سے ایک نیّر صاحب نے نقل کیا ہے:
‘سفید اونٹ سفید رنگ کا ہوتا ہے اور بھورا اونٹ بھورے رنگ کا۔’
لین یو تانگ کے نزدیک اپنے محبوب مصنف کا کھوج لگا لینا قاری کی ذہنی ترقی کا نہایت نازک اور اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ ان کے بقول ’پرانے اور نئے مصنفوں کی صفوں میں اس ایک مصنف کو ڈھونڈ لینا چاہیے جس کی روح آپ سے ہم آہنگ ہو۔ مطالعے سے کوئی فائدہ اٹھانے کی بنیادی شرط یہی ہے۔ مگر اپنے محبوب مصنف کی تلاش میں آزادی رائے اور خود اختیاری سے کام لینا چاہیے۔‘
مسعود حسن رضوی ادیب مطالعہ کے میدان میں محبوب مصنفین کی کھوج میں کامیاب رہے تھے۔ ان ادیبوں کا تعلق مختلف زبانوں سے تھا۔ نثر میں شیخ سعدی، رابرٹ لوئی اسٹیونسن اور محمد حسین آزاد ان کے محبوب مصنف تھے۔ نیّر مسعود کے بقول ان کو ’ان تینوں کی لمبی لمبی عبارتیں شعروں کی طرح ازبر تھیں۔‘
ان ادیبوں سے اپنے اٹوٹ رشتے اور محبت کو انہوں نے ’ہماری شاعری‘ کے انتساب سے امر کردیا ہے:
‘ ہدیۂ ارادت
میں اپنے ادبی ریاض کے ان تازہ رس پھولوں کو خلوص و عقیدت’ کے ہاتھوں سے سعدی، اسٹیونسن اور آزاد کے نام پر نثار کرتا ہوں جن کی تحریروں کی شگفتہ متانت، سنجیدہ ظرافت، سادہ رنگینی، پرکار سادگی نے خضر راہ اور شمع ہدایت بن کر میرے ذوق و ادب کی رہ نمائی کی ہے۔ کیا عجب ہے کہ ان ناموں کی برکت سے قبول عام کی ہوا ان پھولوں کو سدا بہار کر دے
ناچیز مؤلف
جون 1927‘
مسعود حسن رضوی ادیب کی یہ دعا مستجاب ہوئی اور ’ہماری شاعری‘ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کے 11ویں ایڈیشن کی اشاعت پر ادیب نے لکھا تھا: ’مصنف کے لیے اس سے زیادہ خوشی کا اور کون سا موقع ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے اپنی سعی کو مشکور اور اپنی تصنیف کو مقبول دیکھے۔خدا کا شکر ہے کہ ادب کے نگاہ دار جوہریوں نے کتاب کو حسن قبول کی سند عطا کی۔‘
مزید پڑھیں: انتظار حسین اور ’آب حیات‘
نیّرمسعود کا کتابوں سے ایک منفرد رشتہ یہ تھا کہ وہ دوسروں کو کتابیں خرید کر مہیا کرنے پر بھی مستعد رہتے تھے۔ محمد خالد اختر کے لیے لکھنؤ میں کتابوں کی مشہور دکان دانش محل سے عظیم بیگ چغتائی کی ’قصر صحرا‘ خریدنے کی خبر ان کے ایک خط سے ملتی ہے اور اسی دکان سے انہوں نے انیس اشفاق کے لیے ‘مجمع اللغات’ حاصل کیا تھا ۔
اب پھر سے آجاتے ہیں ’جینے کی اہمیت’ کی طرف جس میں لین یو تانگ نے چینی شاعرہ لی چنگ چاؤ اور ان کے شوہر کی کتاب دوستی کا تذکرہ کیا ہے جو یافت کا بیش تر حصہ کتابوں پر اڑا دیتے تھے۔ اس کے بدلے سختیاں جھیلتے لیکن قانع اور خوش رہتے۔ لین یو تانگ نے لی چنگ چاؤ کا جو بیان نقل کیا ہے اس کا منتخب حصہ ملاحظہ کیجیے :
’رفتہ رفتہ ہمارے پاس کتابوں کا ذخیرہ بڑھتا گیا۔ فن پاروں کی گنتی بھی بڑھتی گئی اور میزوں، کرسیوں، بستر ہر جگہ کتابیں اور نوادر ہی نظر آنے لگے۔ ہم ان سے اپنی آنکھوں اور اپنے ذہنوں سے لطف اٹھاتے تھے اور ان کے بارے میں بحث مباحثے کرتے تھے۔ ہماری مسرت ان مسرتوں سے کہیں ارفع اور گہری تھی جو امیر لوگوں کو کتے پالنے،گھوڑے رکھنے، رقص و سرود کی محفلیں منعقد کرانے سے حاصل ہوتی ہے۔‘
اب مسعود حسن رضوی ادیب کے بارے میں نیّر مسعود کا بیان بھی دیکھ لیجیے:
’ان کو اہم اور کم یاب اردو فارسی کتابوں اور مخطوطوں کی جمع آوری کا ایسا شوق پیدا ہوا کہ وہ پرانے لکھنؤ کے گلی کوچوں میں گھوم گھوم کر کتابوں کے ذخیروں تک پہنچتے اور شہر کے کتب فروش نادر کتابوں کی گٹھڑیاں لے لے کر ان کے پاس پہنچنے لگے اور رفتہ رفتہ ان کے پاس قدیم، نادر اور کم یاب کتابوں اور مخطوطوں کا ایسا ذخیرہ جمع ہو گیا جس کا شمار ملک کے اہم کتاب خانوں میں ہونے لگا ۔ طبعاً کفایت شعار ہونے کے باوجود کتابوں کی خریداری پر وہ بڑی بڑی رقمیں خرچ کر دیتے اور مزید کتابوں کی جستجو میں رہتے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے: شاعرِ مشرق اور مصورِ مشرق کی پتنگ بازی
ادیب کے کتب خانے سے بہت سے تشنگانِ علوم نے اپنی پیاس بجھائی۔ ان کے لیے نادر اور وزنی کتابوں کو اٹھا کرباہری کمرے میں رکھنے کا کشٹ بھی ادیب خود اٹھاتے تھے۔ کتابوں کو عاریتاً نہ دینے کے اصول کو وہ بعض شخصیات کے لیے توڑ دیتے تھے۔
ایک دفعہ کانپور میں حسرت موہانی کے یہاں انہیں چند ایسی کتابیں دکھائی دیں جن کی انہیں اشد ضرورت تھی۔ مولانا سے انہیں کچھ دن کے لیے لکھنؤ لے جانے کی عرضی ڈالی جو منظور نہ ہوئی۔نیّر مسعود نے لکھا ہے:
’مولانا نے بھی عذر کیا کہ کتابیں میرے گھر پر پڑھنے کے لیے حاضر ہیں، انہیں باہر نہیں جانے دوں گا۔ ادیب نے برا مانے بغیر کہا کہ میرا بھی یہی اصول ہے۔ کچھ دن بعد پھر کان پور آؤں گا تو ان کتابوں سے استفادہ کروں گا۔ پھر کوئی دوسری گفتگو چھڑ گی۔ دیر کے بعد جب ادیب رخصت ہونے لگے تو مولانا نے کہا:
’اچھا، آپ کے لیے میں اپنا اصول توڑے دیتا ہوں‘
مزید پڑھیں: درختوں کے قتل پر اہل لاہور کی خاموشی
اور وہ کتابیں ادیب کے حوالے کردیں، پھر کچھ دیر رک کر اپنے مخصوص معصومانہ لہجے میں بولے:
’مگر واپس کر دیجیے گا‘
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













