پنجاب حکومت نے صوبے میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے بڑا اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری محکموں میں پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت آئندہ تمام سرکاری محکمے صرف الیکٹرک یا ہائبرڈ گاڑیاں ہی خرید سکیں گے، تاہم فیلڈ ڈیوٹی پر مامور گاڑیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں 95 فیصد کمی کا اعلان
چیف سیکریٹری پنجاب کے مطابق صوبے میں ماحولیاتی تحفظ اور گرین انرجی کے فروغ کو ترجیح دی جا رہی ہے، اسی سلسلے میں نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی جلد متعارف کرائی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں قائم ہونے والے نئے پیٹرول پمپس کے لیے این او سی کی منظوری کو الیکٹرک چارجنگ یونٹس کی تنصیب سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
فیلڈ ڈیوٹی پر مامور گاڑیاں پابندی سےمستثنیٰ قرار ،نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی کا اعلان جلد متوقع۔ نئے پٹرول پمپس کے لیے این او سی کی منظوری اب الیکٹرک چارجنگ یونٹ لگانے سے مشروط ہوگی۔ کسی بھی نئے پیٹرول پمپ کو الیکٹرک چارجنگ یونٹ کی تنصیب کے بغیر کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ 2/4
— Chief Secretary Punjab (@CS_Punjab) January 14, 2026
چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ کسی بھی نئے پیٹرول پمپ کو الیکٹرک چارجنگ یونٹ کی تنصیب کے بغیر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس فیصلے کے تحت این او سی حاصل کرنے والے 170 نئے پیٹرول پمپس پر الیکٹرک چارجنگ یونٹس کی تنصیب لازمی قرار دے دی گئی ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق صوبے کے 31 شہروں میں ای بز پورٹل کے ذریعے 170 نئے پیٹرول پمپس کے لیے این او سیز جاری کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان ماحولیاتی چیلنجز سے تنہا نہیں نمٹ سکتا، دنیا کو مدد کرنا ہوگی، وزیراعظم شہباز شریف
فیصل آباد میں 29، لاہور میں 14، بہاولپور میں 10 جبکہ خانیوال اور بہاولنگر میں 9، 9 نئے پیٹرول پمپس کو الیکٹرک چارجنگ کی سہولت فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
اسی طرح راولپنڈی اور جھنگ میں 8، جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، قصور اور چنیوٹ میں 7، 7 نئے پیٹرول پمپس کو الیکٹرک چارجنگ یونٹ کی تنصیب کی شرط پر منظوری دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد فضائی آلودگی میں کمی، ایندھن پر انحصار کم کرنا اور صوبے میں پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ دینا ہے۔













