کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن

بدھ 14 جنوری 2026
author image

وسی بابا

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کاپر اس وقت ہائی ڈیمانڈ منرل ہے۔ سپلائی ڈیمانڈ سے کم ہے اس لیے کاپر کی قیمتوں کو پر لگے ہوئے ہیں۔ کاپر کی فی ٹن قیمت 13300 ڈالر کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں۔ 2040 تک کاپر کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں فرق 10 ملین ٹن تک پہنچ جائے گا۔ یہ فرق جتنا بڑھتا جائے گا اتنا ہی کاپر کی قیمت بڑھے گی۔

ان بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے منرل اور مائننگ کمپنیاں اکٹھی ہورہی ہیں۔ 2 بڑی مائننگ کمپنیوں گلینکور اور ریو ٹنٹو میں مرجر کے لیے بات چیت ہورہی ہے۔ دونوں کمپنیوں کا مرجر اگر ہوا تو ان کی مشترکہ مالیت کا اندازہ 260 ارب ڈالر تک جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

ریو ٹنٹو بڑی کمپنی ہے جس کی مالیت 162 ارب ڈالر ہے۔ مرجر کی خبریں آنے کے ساتھ ہی لندن کی اسٹاک مارکیٹ میں گلینکور کے شیئر کی قیمت میں 8.8 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ دونوں کمپنیاں 2024 میں بھی مرجر کے لیے بات چیت کرچکی ہیں جو ناکام رہی تھی۔

مرجر کی بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی وجہ کاپر کی بڑھتی قیمت ہے۔ بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی یہ اکلوتی وجہ نہیں ہے۔ 9 ستمبر 2025 کو اینگلو امریکن اور ٹیک ریسورسز (کینیڈا) بھی اپنے مرجر کا اعلان کرچکی ہیں۔ اینگلو امریکن اور ٹیک ریسورسز کے انضمام کے بعد نئی کمپنی اینگلو ٹیک کہلائے گی، اس کا ہیڈکوارٹر کینیڈا میں ہوگا۔

ان دونوں کمپنیوں کا انضمام زیرو پریمیم آل شیئر کی بنیاد پر ہوا ہے۔ نئی کمپنی کے 62.4 فیصد شیئر اینگلو امریکن کے شیئر ہولڈرز کے پاس ہوں گے جبکہ بقایا 37.6 فیصد ٹیک ریسورسز کے شیئر ہولڈرز کو ملیں گے۔ اس انضمام کے بعد اینگلو ٹیک دنیا کی پانچویں بڑی کاپر پروڈیوسر بن جائے گی۔ یہ وہ مرجر ہے جس کی وجہ سے گلینکور اور ریو ٹنٹو نے بھی مرجر کے لیے دوبارہ بات شروع کی ہے۔

اینگلو اب ٹیک کے پانچویں نمبر کی مائننگ کمپنی بن چکی ہے مگر اس سے قبل یہ اعزاز گلینکور کو حاصل تھا۔ گلینکور مائننگ، پروسیسنگ اور ٹریڈنگ تینوں شعبوں میں کام کرتی ہے۔ کاپر کے علاوہ یہ کوئلے اور انرجی میں بھی کام کرتی ہے۔ ریو ٹنٹو، جو گلینکور کو خرید رہی ہے، صرف مائننگ تک محدود ہے اور اس کی زیادہ آمدن آئرن اور سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر دونوں کمپنیوں کا مرجر ہوجاتا ہے تو یہ دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی بن جائیں گی۔

پاکستان بھی کاپر کے بڑے ذخائر رکھنے والا ملک ہے۔ ریکوڈک کاپر پراجیکٹ کو بارک گولڈ کارپوریشن آپریٹ کررہی ہے۔ یہ ایک کینیڈین کمپنی ہے جو کاپر مائننگ میں بڑے آپریٹرز بی ایچ پی، فری پورٹ مکمورن، کوڈیلکو اور گلینکور سے بہت پیچھے ہے۔ کاپر مائننگ میں بارک گولڈ اس وقت ٹاپ 10 میں بھی نہیں ہے۔ ٹاپ 10 سے باہر ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ بارک گولڈ کا زیادہ فوکس گولڈ پر ہی رہا ہے۔

بارک گولڈ کے پاس پاکستان میں ریکوڈک اور زیمبیا میں لموانا کاپر مائن کی لیز ہے۔ ان مائنز کے آپریشنل ہونے کے بعد بارک گولڈ ایک بڑا جمپ لیتے ہوئے کاپر مائننگ کی پانچویں بڑی کمپنی بن جائے گی۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ بارک گولڈ کے پاس ریکوڈک کے صرف 50 فیصد شیئر ہیں۔ یہ آدھے شیئر ہی اسے پانچویں پوزیشن دلوانے کے لیے کافی ہیں۔

ریئر ارتھ اور کریٹیکل منرلز کی مائننگ، سپلائی اور کنٹرول کے لیے بڑی کمپنیوں اور عالمی طاقتوں کی زور آزمائی میں شدت آتی جارہی ہے۔ چین نے حال ہی میں جاپان کو ریئر ارتھ منرلز کی ایکسپورٹ پر پابندی لگائی ہے۔ اس پابندی کا اطلاق فوجی استعمال کے لیے ایکسپورٹ کے علاوہ سول استعمال کے امپورٹ پر بھی ہوگا۔ کاپر کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں سپلائی بہت کم ہے۔ پاکستان میں کاپر کے ریکوڈک کے علاوہ بھی ذخائر موجود ہیں، جن پر سرمایہ کاری کے لیے بات چیت مختلف مراحل میں جاری ہے۔

پاکستان میں کاپر کے علاوہ بھی کریٹکل منرل موجود ہیں۔ اینٹومنی ایک اہم ریئر ارتھ منرل ہے۔ یہ نائٹ ویژن، میزائل سینسر، گولہ بارود، ٹینک، دھماکا خیز مواد اور نیوکلیئرپروگرام میں استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس کے ذخائر بلوچستان میں ژوب، پشین، قلعہ عبداللہ میں دریافت ہوئے ہیں۔

کمپنیوں کے مرجر کی کہانی بتاتی ہے کہ پاکستان منرل کا ایک پلیئر بننے جارہا ہے۔ اینٹومنی کے ذخائر بلوچستان کی پشتون بیلٹ میں دریافت ہوئے ہیں جہاں بدامنی کی لہر موجود نہیں ہے۔ ان نئے ذخائر کو ایک ٹیسٹ کیس بنایا جاسکتا ہے۔ اگر ان اضلاع میں منرل کی دریافت کے فوائد مقامی آبادی کو ملیں تو بلوچستان کے شورش والے علاقوں میں بھی اس کے مثبت اثرات ہوں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو، فیصل کریم کنڈی

بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر کی واشنگٹن میں امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں، دوطرفہ اقتصادی تعان پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر اطلاعات کی عشرت فاطمہ کے گھر آمد، پی ٹی وی میں بطور مینٹور شمولیت کی پیشکش

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ 15 روز کے لیے برقرار

بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ آج رات 12 بجے کے بعد ممنوع

ویڈیو

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

مردان کے ریڈ بلڈ بیڑوچ مالٹے کی خاص بات کیا ہے؟

وی ایکسکلوسیو: نہ کوئی ونڈر بوائے آرہا ہے نہ ٹیکنوکریٹس اس ملک کے مسائل حل کرسکتے ہیں: مصدق ملک

کالم / تجزیہ

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘

ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

کتاب کا بار بار پڑھنا اور محبوب مصنف