وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ایک لاکھ 20 ہزار عازمینِ حج کی بیک وقت تربیت کا آغاز کر دیا گیا ہے اور لازمی حج تربیت مکمل نہ کرنے والے عازمین حج کی سعادت سے محروم رہ سکتے ہیں۔
حاجی کیمپ اسلام آباد میں جاری حج تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ حج تربیت کے دونوں مراحل میں شرکت لازمی ہے۔ تربیت کا پہلا مرحلہ 14 فروری تک جاری رہے گا جبکہ دوسرا مرحلہ ماہِ رمضان کے بعد منعقد کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک بھر میں 200 سے زائد مقامات پر بیک وقت حج تربیتی ورکشاپس منعقد کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: عازمین حج کے لیے تربیتی پروگرام میں شرکت لازمی قرار دے دی گئی
ان کا کہنا تھا کہ حج تربیت مناسک کی درست ادائیگی، عبادت کی قبولیت، نظم و ضبط، صبر اور اجتماعی شعور پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے، جبکہ بغیر تربیت حج میں غلطیوں، بدنظمی اور ہجوم کے دوران حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
وفاقی وزیر نے عازمین پر زور دیا کہ مناسکِ حج کی درست ادائیگی کے لیے سعودی قوانین اور انتظامات سے مکمل آگاہی حاصل کریں اور حج کے دوران سیاسی یا مذہبی اجتماعات سے اجتناب کریں۔ انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ عازمین خود بھی محفوظ رہتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی آسانی پیدا کرتے ہیں۔
اس موقع پر وفاقی سیکریٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان نے کہا کہ منشیات یا ممنوعہ اشیا رکھنے والوں کے خلاف سعودی عرب میں سخت کارروائی کی جاتی ہے، اس لیے عازمین حج سعودی حکام اور پاکستانی خدام الحجاج کی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کی جانب سے نئے عمرہ سیزن کا اعلان
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کے تناسب سے حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کے لیے سعودی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے حج کوٹہ میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر حج پالیسی 2026 کے تحت تمام انتظامات سعودی ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیے جا رہے ہیں۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کا حج پیکیج اب بھی سستا اور معیاری ہے۔ روٹ ٹو مکہ پراجیکٹ کے تحت اسلام آباد اور کراچی کے بعد لاہور ایئرپورٹ کو بھی شامل کرنے کے لیے کام تیزی سے جاری ہے، جس سے عازمین حج کی دوہری امیگریشن پاکستان میں ہی مکمل ہو سکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حج 2026 کے لیے 38 ہزار سے زائد عازمین اسلام آباد ایئرپورٹ سے روٹ ٹو مکہ سہولت کے تحت سفر کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: مکہ مدینہ ہائی وے پر بس حادثے میں 42 بھارتی عمرہ زائرین جاں بحق
وفاقی وزیر کے مطابق سرکاری حج اسکیم کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار عازمین کو دو اقساط میں رقم ادائیگی کی سہولت دی گئی، جس پر عوام نے اعتماد کا اظہار کیا۔ پرائیویٹ حج اسکیم میں بھی اصلاحات لائی جا رہی ہیں تاکہ نجی شعبے کے ذریعے جانے والے عازمین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس حج انتظامات میں بہتری کے باعث شکایات میں نمایاں کمی آئی اور سعودی حکومت نے پاکستان کو ایکسلینس ایوارڈ سے نوازا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حج عملے کے لیے خدام الحجاج کی اصطلاح دوبارہ بحال کر دی گئی ہے اور تمام سرکاری عازمین کے لیے مکہ میں مساوی سہولیات والی رہائش گاہیں حاصل کی گئی ہیں۔














