ایرانی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے کسی بھی شہر سے بے امنی یا بدامنی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔
سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی مؤثر کارروائیوں کے بعد ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال بحال ہو چکی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی میڈیا کو انٹرویو
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ملک میں امن و سکون قائم ہے اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایران کے عوام احتجاج جاری رکھیں اور اداروں پر قبضہ کرلیں، مدد پہنچنے والی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے، ورنہ نتیجہ وہی نکلے گا جو پہلے نکلا تھا۔ ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا۔
مظاہروں کے پیچھے بیرونی عناصر کا الزام
ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ مظاہروں میں شامل عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔
ان کے مطابق بعض مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی، داعش طرز کی دہشتگردانہ کارروائیاں کی گئیں اور بعض مقامات پر پولیس اہلکاروں کو زندہ جلایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض یورپی ممالک کی جانب سے مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔
سفارتکاری بہتر راستہ، مگر تجربہ تلخ رہا
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگرچہ سفارتکاری ایک بہتر راستہ ہے، لیکن امریکا کے ساتھ ایران کا ماضی کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔ اس کے باوجود، سفارتکاری جنگ سے بہتر ہے۔
مظاہرین کو پھانسی دینے کی خبروں کی تردید
ایرانی وزیر خارجہ نے مظاہرین کو پھانسی دینے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا۔
مزید پڑھیں: ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کا عوامی بغاوت کا اعلان، تہران واپسی کی تیاری
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ایران میں لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، پھانسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
احتجاج کی نوعیت پر وضاحت
عباس عراقچی کے مطابق ایران میں معاشی مشکلات کے خلاف 10 دن تک پرامن احتجاج جاری رہا، جس کے بعد 3 دن تک تشدد دیکھنے میں آیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ تشدد اسرائیل کی جانب سے منظم کیا گیا تھا۔
صورتحال پر مکمل قابو کا دعویٰ
ایرانی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر کہا کہ اب ملک میں حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں، امن بحال ہو چکا ہے اور وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی پھانسیوں کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔













