مشہور ٹی وی اینکر اور جرنلسٹ اقرار الحسن نے آج اپنی نئی سیاسی جماعت ’پاکستان عوام راج تحریک‘ کا باضابطہ اجرا کر دیا ہے۔ نئی پارٹی کا اعلان لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اقرار الحسن نے کیا، جہاں اقرار الحسن نے پاکستان کی سیاسی منظر نامے میں ایمانداری، احتساب اور عوامی خدمت کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے موجودہ سیاسی جماعتوں جیسے پی ٹی آئی، پی پی پی اور پی ایم ایل این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعتیں خاندانی وراثت کی طرح چلائی جا رہی ہیں اور عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں کرتیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان عوام راج تحریک، اینکر پرسن اقرار الحسن نے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کردیا
اقرار الحسن کی اس نئی تحریک کا بنیادی مقصد نوجوانوں اور متوسط طبقے کو سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان عوام راج تحریک‘ ایک ایسا جمہوری پلیٹ فارم ہوگا جو کسی فرد یا خاندان کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی مشترکہ ملکیت ہوگا۔
جماعت میں انٹرنل الیکشن کے ذریعے عہدیداران کا انتخاب کیا جائے گا، اور فیصلے مشاورت سے لیے جائیں گے۔ مقصد ہے کہ پاکستان کو شخصیت پرستی سے آزاد کرکے میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے، تاکہ حقیقی ’نیا پاکستان‘ بنایا جا سکے۔
جماعت کا منشور
’پاکستان عوام راج تحریک‘ کا منشور نوجوانوں کی بااختیاری، کرپشن کا خاتمہ، اداروں کی جمہوریت اور عوامی خدمت پر مبنی ہے۔ منشور میں زور دیا گیا ہے کہ جماعت خاندانی سیاست سے پاک رہے گی، اور ہر سطح پر میرٹ کو ترجیح دی جائے گی۔
اقرار الحسن نے کہا کہ یہ تحریک جنریشن زیڈ اور نوجوانوں کو سیاست میں لائے گی، جو ملک کی ترقی کا انجن بنیں گے۔ منشور میں اقتصادی اصلاحات، تعلیم اور صحت کی بہتری، اور عوامی مسائل کے حل کو بھی کلیدی حیثیت دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کو پی ٹی آئی نہیں ہماری تحریک رہا کروائے گی، اقرار الحسن کا دعویٰ
اقرار الحسن خود اس جماعت کے بانی ہیں لیکن انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی پارٹی یا حکومتی عہدے پر فائز نہیں ہوں گے اور نہ ہی الیکشن لڑیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں صرف ایک فکری تحریک کا آغاز کر رہا ہوں، تاکہ یہ جماعت کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ عوام کی ہو۔ یہ اعلان ان کی جانب سے ایک حلف کے طور پر کیا گیا ہے، جو جماعت کو شخصیت پرستی سے بچانے کا مقصد رکھتا ہے۔
پاکستان کے عام لوگ اس پارٹی کے مالک ہوں گے، اور میں اللہ اور اس کے رسول کو حاظر و ناظر جان کر یہ عہد کرتا ہوں کہ میں کوئی سیاسی، حکومتی یا سرکاری عہدہ نہیں لوں گا۔ اقرار الحسن کا نئی سیاسی جماعت کی لانچنگ تقریب سے خطاب pic.twitter.com/9x1UROSysT
— WE News (@WENewsPk) January 15, 2026
الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن
پارٹی بانی کے مطابق ’پاکستان عوام راج تحریک‘ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر کرانے کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔ ای سی پی کے قوانین کے مطابق، جماعت کو اپنا منشور، ارکان کی فہرست اور انتخابی نشان کی درخواست پیش کرنی ہو گی۔ توقع ہے کہ یہ عمل اگلے چند ماہ میں مکمل ہو جائے گا، اور جماعت کو اگلی عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت مل جائے گی۔ ای سی پی کے پرانے ریکارڈز میں ’پاکستان عوامی راج‘ نامی ایک جماعت پہلے سے موجود ہے، لیکن یہ نئی تحریک اس سے الگ ہے۔
حقیقی تبدیلی کی بنیاد ہے ؟
اقرار الحسن کی نئی پارٹی کی تقریب میں سنئیر تجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی نے بھی خصوصی شرکت کی۔ سینیئر تجزیہ نگار اور جرنلسٹ مجیب الرحمٰن شامی صاحب نے اس نئی جماعت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں پہلے بھی بہت سی سیاسی جماعتیں بنی ہیں، جن میں سے کئی تو صرف ایک شخصیت کے گرد گھومتی رہیں اور جلد ہی ختم ہو گئیں۔
اس نئی ’پاکستان عوام راج تحریک‘ میں کیا مختلف ہوگا؟ اگر یہ واقعی نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور خاندانی سیاست سے نجات دلانے پر مبنی ہے، تو یہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، لیکن اسے عملی طور پر ثابت کرنا ہو گا کہ یہ محض ایک اور دعویٰ نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی کی بنیاد ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی شادی کا پلان نہیں بنایا تھا، اور چوتھی شادی کا بھی اب تک کوئی پلان نہیں، اقرار الحسن
پریس کلب میں ہونے والی پریس کانفرنس میں بہت سے صحافیوں نے بانی عوام راج پارٹی سے پوچھا کہ آپ صحافت چھوڑ رہے ہیں اور کیا یہ جماعت اسٹیبلشمنٹ نے لانچ ہے اور اسکی فنڈنگ کیسے کریں گئے تو ان کا جواب تھا کہ وہ صحافت نہیں چھوڑیں گے۔ اس جماعت سے اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لینا دینا نہیں، پارٹی فنڈنگ کے دنیا میں ایک ہزار طریقے ہیں اور ابھی میری جماعت کو فنڈنگ کی ضرورت نہیں۔ ہمارا پارٹی کے اندر نظم ونسق، تنظم سازی، پارٹی چلانے کے معاملات اے آئی کی ذریعے ترتیب دیے جائیں گے۔
اقرار الحسن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک ملک کو تبدیلی کی راہ پر گامزن کرے گی، جبکہ ناقدین اسے ایک نئی سیاسی تجربہ قرار دے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ’پاکستان عوام راج تحریک‘ پاکستان کی سیاست میں کتنا اثر انداز ہوگی؟














