اسمارٹ فونز کی بڑھتی قیمتیں، چینی کمپنیوں نے بھی پالیسی بدل دی

جمعرات 15 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چینی اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں نے میموری چِپس کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث اپنی مصنوعات کی قیمتوں اور ماڈلز کی ترتیب میں تبدیلیاں شروع کردی ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر کم قیمت موبائل فونز کے شعبے پر پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وائرل سستے فونز کی حقیقت، کیا آپ کو یہ خریدنے چاہییں یا نہیں؟

ٹیکنالوجی ریسرچ فرم او ایم ڈی آئی اے کے ایک تجزیہ کار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران اسٹوریج کمپوننٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے خاص طور پر 100 ڈالر سے کم قیمت اسمارٹ فونز کو شدید متاثر کیا۔ تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ یہ دباؤ رواں سال بھی برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث صنعت بھر میں قیمتوں اور شپمنٹس کی حکمت عملیوں میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

او ایم ڈی آئی اے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے ابتدائی 9 ماہ میں دنیا بھر میں تقریباً 900 ملین اسمارٹ فونز کی ترسیل ہوئی، جن میں سے 60 فیصد سے زائد فروخت چینی کمپنیوں کے حصے میں آئی۔ تاہم کم قیمت ماڈلز عالمی سطح پر زیادہ فروخت ہونے کے باوجود اہم پرزہ جات، خصوصاً میموری چِپس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث منافع متاثر ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سستے ترین آئی فون کی لانچنگ متوقع، اہم فیچرز کون سے ہونگے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی موبائل فون کمپنیاں ماضی میں سستے ماڈلز کے ذریعے مارکیٹ میں وسعت حاصل کرتی رہی ہیں، تاہم اب وہ اپنی مصنوعات کو نسبتاً بلند قیمت والے درجوں میں منتقل کر رہی ہیں۔ اگرچہ یہ برانڈز مختلف ممالک میں متعارف ہوتے رہیں گے، مگر ان کی مسابقتی حکمت عملی میں واضح تبدیلی آ رہی ہے۔

آنر کو گزشتہ سال کے ابتدائی 9 ماہ میں بیرونِ ملک مارکیٹس میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا چینی برانڈ قرار دیا گیا، جس کی فروخت میں سال بہ سال بنیاد پر 55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی زیادہ تر ترقی مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں فروخت کے باعث ہوئی۔ آنر نے زیادہ تر 300 سے 500 ڈالر کے درمیانی درجے کے موبائل فونز پر توجہ مرکوز رکھی، جو اس کی بیرونی فروخت کا 23 فیصد بنے۔

یہ بھی پڑھیں: بیٹری کے بعد اب موبائل فون بنانے والی چینی کمپنی بھی پنجے جھاڑ کر ٹیسلا کے پیچھے پڑگئی

آنر ایکس 9 کی فروخت، سابقہ ایکس 9 بی ماڈل کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ رہی، جبکہ آنر 400 سیریز کی ترسیل آنر 200 سیریز کے مقابلے میں تقریباً 86 فیصد بڑھی۔

دیگر کمپنیوں میں بھی مصنوعات کی ازسرنو ترتیب دیکھی جا رہی ہے۔ اوپو نے ترقی پذیر ممالک میں 200 ڈالر کے لگ بھگ قیمت والے ماڈلز متعارف کرانے کی پالیسی سے ہٹ کر درمیانے اور نسبتاً بلند درجے کے 4 جی فونز پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے پرانے ماڈل کے آئی فونز کی رجسٹریشن فیس کم کر دی

 شیاؤمی نے جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی یورپ میں اپنے برانڈ امیج کو بہتر بنانے اور درمیانے سے اعلیٰ درجے کے فونز کی فروخت بڑھانے پر کام کیا ہے، جبکہ ویوو نے جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ ساتھ شمالی افریقہ اور لاطینی امریکا، خصوصاً برازیل میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔

ادھر ٹرانسشن ہولڈنگز، جو اسٹوریج کی قیمتوں میں اضافے سے شدید متاثر ہوئی ہے، اب قسطوں میں ادائیگی جیسے مالیاتی طریقوں کے ذریعے صارفین کے لیے خریداری کو آسان بنانے اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں ترسیل برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو، فیصل کریم کنڈی

بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر کی واشنگٹن میں امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں، دوطرفہ اقتصادی تعان پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر اطلاعات کی عشرت فاطمہ کے گھر آمد، پی ٹی وی میں بطور مینٹور شمولیت کی پیشکش

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ 15 روز کے لیے برقرار

بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ آج رات 12 بجے کے بعد ممنوع

ویڈیو

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

مردان کے ریڈ بلڈ بیڑوچ مالٹے کی خاص بات کیا ہے؟

وی ایکسکلوسیو: نہ کوئی ونڈر بوائے آرہا ہے نہ ٹیکنوکریٹس اس ملک کے مسائل حل کرسکتے ہیں: مصدق ملک

کالم / تجزیہ

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘

ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن