قومی پیغامِ امن کمیٹی (NPAC) نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات، وزیر مذہبی امور اور وزیرِ مملکت داخلہ بھی موجود تھے۔
کمیٹی کے اراکین نے حکومت پاکستان کی امن کے فروغ کی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا اور صوبائی حکومتوں کی اس قومی ایجنڈے کے نفاذ میں مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ اجلاس میں تحریک طالبان پاکستان (TTP)، بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور آئی اے جی (IAG) کی شدید مذمت بھی کی گئی۔
مزید پڑھیں: قومی پیغام امن کمیٹی کا جمعہ کو ’پیغام امن‘ کے طور پر منانے کا اعلان
وزیرِ اعظم نے امن کمیٹی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کمیٹی کے اراکین کو خوش آمدید کہا اور کمیٹی کے کام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تشدد پسندی کے آغاز کو 1980 کے بعد افغانستان کے جنگی حالات سے جوڑا۔ کہا کہ پاکستان کے وسائل موجود ہیں لیکن ترقی کے لیے پرامن ماحول ضروری ہے۔
انہوں نے مئی 2025 کے حالیہ تنازع میں پاک افواج کی کارکردگی کو سراہا اور قیادت کا ذکر کیا۔ فرقہ وارانہ تقسیم پر قابو پانے اور اقلیتوں کے مثبت کردار کو اجاگر کیا۔
انہوں نے دہشتگردی کی وجہ سے ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کی کوششوں کا اعتراف ضروری قرار دیا۔
مزید پڑھیں: تمام مکاتب فکر کی دینی قیادت نے پیغامِ پاکستان کو آئین کے بعد مضبوط ترین دستاویز قرار دیدیا
وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان اور مذہبی علما کے تعاون سے پاکستان قومی سطح پر دہشتگردی کے خاتمے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ پاکستان میں امن اور ہم آہنگی قائم رکھنے کے لیے مختلف طبقات اور اقلیتوں کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ دہشتگردی کے خلاف قومی کوششیں ہر سطح پر جاری رہیں۔














