وزیراعظم شہباز کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہوجائے گا، اگر تحریک انصاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے تحت ملاقات کے رولز فالو کرے تو عمران خان سے ملاقات کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ ہر ملک امیگریشن کے حوالے سے اپنی ترجیحات رکھتا ہے، ممالک کے اپنے رولز اینڈ ریگولیشن ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی، اسپیکر نے مشاورتی عمل مکمل کرلیا
رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان کے بہترین دوست ممالک بھی ویزوں کے حوالے سے جو پالیسی بناتے ہیں اس سے پاکستان کے لوگوں کو مشکلات ہوتی ہیں، ہمارے بعض لوگ ایسے ہیں جو بیرون ملک جاکر ان ممالک کے رولز کا احترام نہیں کرتے جو کہ انہیں کرنا چاہیے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ہر باہر جانے والا بندہ اپنے ملک کا سفیر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ممالک اپنی پالیسیوں میں ردوبدل کرتے رہتے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ ویزے پراسیسنگ روکنے سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات، یا ان ممالک کے ساتھ جن کی جانب میں نے اشارہ کیا ہے، ان کے تعلقات میں کوئی فرق آئے گا۔
کیا پاکستان کو ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے کے فیصلے پر نظرثانی نہیں کرنی چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکا میں وینزویلا کے معاملے پر پاکستان نے کھل کر آواز اٹھائی ہے کہ امریکا نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے، بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ امن کے حقیقی سفیر ہیں، شہباز شریف نے ایک بار پھر نوبل انعام دینے کی درخواست کردی
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایسا اقدام کرے جس سے آپ کو براہ راست فائدہ ہو تو اس کی تعریف کردینا یا اس کی خواہش کی حمایت کرنا، یہ چیزیں سفارتکاری میں چلتی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑی خواہش ہے کہ انہیں نوبیل انعام دیا جانا چاہیے بلکہ وہ خود کہتے ہیں کہ وہ نوبیل انعام کے حق دار ہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ رکوانے میں امریکا، خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مؤثر کردار ادا کیا تھا، تو جو تعریف کے قابل ہے اس کی تعریف کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد پاکستان کی دنیا میں عزت میں اضافہ ہوا ہے، اب پاکستان کی پاسپورٹ رینکنگ 128 سے 98 پر آ گئی ہے۔
کیا محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بننے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا؟ اس سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا ’میرے خیال میں آج یا کل نوٹیفکیشن جاری ہوجائے گا، اسپیکر قومی اسمبلی نے جو عمل شروع کیا تھا وہ آج مکمل ہوگیا ہے، فیصلہ محمود خان اچکزئی کے حق میں ہی ہوا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: میثاق جمہوریت کا مسودہ سامنے آئے گا تو دیکھیں گے، رانا ثنااللہ کا پی ٹی آئی کی پیشکش پر جواب
انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں، اپوزیشن پارلیمنٹ اور سینیٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹیز کا بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے اور پارلیمنٹ کے جو بھی عمل ہیں اس میں پوری طرح سے حصہ لے، یہ میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت کی بات بھی کریں اور میثاق استحکام پاکستان کی آفر پر وزیراعظم نے دی ہے اس پر بھی بات کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب اپوزیشن بیٹھے گی، بات کرے گی تو راستہ وہی سے نکلے گا، پہیہ جام یا کسی اور جگہ سے کوئی راستہ نہیں نکلے گا۔ جہاں تک عمران خان سے ملاقات کی بات ہے تو اگر 8 فروری کی پہیہ جام کی بات بیچ میں نہ آئے اور جس طرح عظمیٰ خان کی ملاقات کروائی گئی، عمران خان سے، تو ان کا ہائیکورٹ کا حکم پہلے دکھایا گیا تھا کہ ان ملاقاتوں کو کسی بھی طور پر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر تحریک انصاف اسلام آبادی ہائیکورٹ کے حکم کے تحت ملاقاتیں کرے تو پھر بھی یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے، 8 فروری کے بعد اگر کوئی 8 مئی کی کال نہ آئی تو میرے خیال میں یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا جس طرح لیڈر آف دی اپوزیشن کا مسئلہ حل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف نے محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف نامزد کر دیا
انہوں نے کہا کہ پابندی ہے کہ یہ ملک، ریاست اور اداروں کے خلاف بات نہ کریں، ان کو بدنام نہ کریں، اداروں کے سربراہوں کو گالیاں نہ دیں، اگر یہ اس طرح گالم گلوچ نہ کریں تو سیاست میں بات کرنے پر کون روکتا ہے، عمران خان ملاقاتوں میں سیاسی بات کم کرتے ہیں، گالیاں زیادہ دیتے ہیں۔














