گزشتہ برس 17 ستمبر کو پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ طے پایا تو اُس سے بین الاقوامی سطح پر ارتعاش پیدا ہوا۔ بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے کہا گیا کہ کئی اور ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن گزشتہ 2 ہفتوں سے اس دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت کے حوالے سے کافی بات چیت ہوئی اور خبررساں ادارے بلومبرگ نے ایک خبر کے ذریعے بتایا کہ ترکیہ کی شمولیت کے حوالے سے بات چیت کافی ایڈوانسڈ لیول پر ہے۔
تُرک وزیرِ خارجہ خاقان فیدان کا مؤقف؟
ترک وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے استنبول میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے بات چیت ضرور ہوئی ہے، تاہم ابھی تک کسی قسم کا باضابطہ معاہدہ طے نہیں پایا۔
مزید پڑھیں: ایران نے پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہر کردی
اس سوال کے جواب میں کہ آیا اس نوعیت کا کوئی فوجی اتحاد بن سکتا ہے، خاقان فیدان نے کہا کہ خطے میں وسیع تر علاقائی تعاون اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی مسائل اس صورت میں حل ہو سکتے ہیں اگر متعلقہ ممالک ایک دوسرے پر مکمل اعتماد اور یقین قائم کر لیں۔
اتفاقِ رائے ضروری ہے
دوسری جانب بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان کے وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات کا کہنا ہے کہ ’3 علاقائی طاقتوں کے درمیان ممکنہ یہ معاہدہ گذشتہ سال اعلان کیے گئے پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدے سے الگ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا ہے کہ ’معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے ضروری ہے۔‘
وزیر برائے دفاعی پیداوار کا کہنا ہے کہ ’پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سہ فریقی معاہدہ وہ معاملہ ہے جو پہلے ہی زیرِ غور ہے۔’اس معاہدے کا مسودہ ہمارے پاس بھی موجود ہے، سعودی عرب کے پاس بھی ہے اور ترکی کے پاس بھی۔ تینوں ممالک اس پر غور و خوض کر رہے ہیں، اور یہ معاہدہ گذشتہ دس ماہ سے زیرِ بحث ہے۔‘
پاکستان سعودی عرب دفاعی بنیاد
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نیا تصور نہیں۔ دونوں ممالک دہائیوں سے عسکری تربیت، مشاورت اور تعیناتیوں کے شعبوں میں قریبی شراکت دار رہے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں اس تعاون کو ایک زیادہ منظم اور اسٹریٹجک شکل دینے کی کوششیں نمایاں ہوئیں، جنہیں عالمی مبصرین ایک اسٹرکچرل ڈیفنس شراکت داری سے تعبیر کرتے ہیں۔
اسٹیمسن سینٹر کے سینئر فیلو اسفندیار میر نے الجزیرہ کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاہدہ ایک واٹر شیڈ ہے۔ پاکستان نے پہلے بھی امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے، مگر وہ ختم ہو گئے۔ چین کے ساتھ تعاون کے باوجود کوئی باقاعدہ معاہدہ نہ تھا۔ اب یہ معاہدہ متعدد جہتوں میں دفاعی تعاون کو ایک نئی اور بُلند سطح پر لے جائے گا۔
مبصرین کے نزدیک اس فریم ورک کا مقصد صرف دوطرفہ سلامتی نہیں بلکہ خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیکیورٹی ضروریات کے تناظر میں ایک قابلِ اعتماد دفاعی بندوبست قائم کرنا ہے۔
ترکیہ کی ممکنہ شمولیت؟
ترکیہ جو نیٹو کا رکن اور جدید دفاعی صنعت کا حامل ملک ہے، پہلے ہی پاکستان کے ساتھ قریبی عسکری تعاون رکھتا ہے، خصوصاً دفاعی پیداوار، ڈرون ٹیکنالوجی اور مشترکہ مشقوں کے میدان میں۔ سعودی عرب کے ساتھ بھی حالیہ برسوں میں انقرہ کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدے کے حق میں پنجاب اسمبلی میں متفقہ قرار داد منظور
عالمی میڈیا اور پالیسی رپورٹس کے مطابق، اگر ترکیہ اس دفاعی فریم ورک میں شامل ہوتا ہے تو یہ اتحاد جغرافیائی اور عسکری دونوں حوالوں سے ایک نئی نوعیت اختیار کرسکتا ہے۔ عالمی تجزیے کے مطابق سعودی عرب کے مالی وسائل، پاکستان کی بڑی اور تجربہ کار فوجی صلاحیت، اور ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت اگر ایک فریم میں آ جائیں تو یہ ایک غیر معمولی تزویراتی امتزاج ہوگا۔
تُرک وزیرِ خارجہ نے ممکنہ شمولیت کے حوالے سے جاری بات چیت کو کنفرم کیا لیکن اُنہوں نے کسی باضابطہ معاہدہ ہونے کی تصدیق نہیں کی۔
عالمی طاقتوں کا محتاط مشاہدہ
اس ممکنہ اتحاد پر عالمی طاقتوں کا ردِعمل محتاط مگر گہری دلچسپی کا حامل ہے۔ عالمی تجزیاتی اور تھنک ٹینک رپورٹس کے مطابق امریکا میں پالیسی حلقے اسے مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے سیکیورٹی حساب کتاب کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
اٹلانٹک کونسل کے مطابق، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون میں گہرائی، اور اس میں ترکیہ کی ممکنہ شمولیت، سعودی عرب کی جانب سے دفاعی معاملات میں زیادہ خود انحصاری کی خواہش کی عکاس ہے، اگرچہ واشنگٹن اب بھی خطے میں ایک کلیدی سیکیورٹی کردار ادا کرتا رہے گا۔
چین نے سرکاری سطح پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم مبصرین کے نزدیک بیجنگ ایسے کسی اتحاد کو اصولی طور پر عدم مداخلت کی پالیسی کے تحت دیکھے گا، بشرطیکہ یہ اس کے اقتصادی اور علاقائی مفادات سے متصادم نہ ہو۔
روس کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماسکو نیٹو سے ہٹ کر ابھرنے والے کسی بھی نئے سیکیورٹی فریم ورک کو بغور دیکھتا ہے، خصوصاً جب اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا تک پھیلنے کا امکان ہو۔
مزید پڑھیں: ایران کی پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی خواہش، سربراہ پاسداران انقلاب کا اہم بیان
خطے میں طاقت کے توازن پر ممکنہ اثرات
عالمی مبصرین کے مطابق، اگر پاکستان، سعودی عرب کے بعد ترکیہ بھی اس فوجی اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف 3 ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ سابق پاکستانی سفارتکار اور تجزیہ کار ملیحہ لودھی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ پاکستان اب محض ایک شراکت دار نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی فراہم کنندہ کے طور پر ابھر رہا ہے، جس کے اثرات دیر پا ہوں گے۔
مضمرات کیا ہو سکتے ہیں؟
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ممکنہ فوجی اتحاد کو عالمی مبصرین ابھرتے ہوئے تزویراتی رجحان کے طور پر دیکھ رہے ہیں، نہ کہ محض ایک رسمی معاہدے کے طور پر۔ آنے والے مہینوں میں اس حوالے سے اگر کوئی پیشرفت ہوتی ہے تو نہ صرف تینوں ممالک بلکہ عالمی سیاست کے لیے بھی فیصلہ کن اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے۔














