جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

جمعہ 16 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جامعہ اشرفیہ لاہور پاکستان کے مشہور اور قدیم دینی اداروں میں سے ایک ہے جہاں اسلامی علوم، قرآن، حدیث اور دیگر دینی علوم کی اعلیٰ سطح کی تعلیم دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امت کو متحد کرنے میں جامعہ اشرفیہ کا کردار ہے، وزیراعظم کی مولانا فضل الرحیم کے انتقال پر فاتحہ خوانی

اس جامعہ میں ایک نابینا مدرس ہیں اور انہی نابینا مدرس کی نگرانی میں انگریزی کا رسالہ بھی شائع ہوتا ہے۔

نابینا مدرس تقریباً 10 سال سے مدرسہ میں انگریزی پڑھا رہے ہیں اور نہایت محنت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔

جامعہ اشرفیہ میں جو علما کرام دورہ حدیث مکمل کرکے آتے ہیں ان کو ایک سال کا تخصص بھی کروایا جاتا ہے جس میں انگریزی، کمپیوٹر اور عربی جیسے مضامین شامل ہوتے ہیں تاکہ وہ بیرونِ ملک جا کر غیر ملکی لوگوں تک اسلام کا پیغام بہتر انداز میں پہنچا سکیں۔

مزید پڑھیے: پنجاب میں مدارس کی رجسٹریشن: سلمان رفیق کے ساتھ علما کی بیٹھک، اہم امور پر تبادلہ خیال

جامعہ اشرفیہ لاہور سے شائع ہونے والا رسالہ الحسن انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں نکلتا ہے اور انگریزی ایڈیشن کی نگرانی نابینا مگر نہایت قابل استاد کے پاس ہے۔

نابینا مدرس روزانہ رائیونڈ سے  آن لائن ٹیکسی کے ذریعے جامعہ اشرفیہ آتے ہیں اور اپنے کام کو پوری محنت اور سنجیدگی سے سرانجام دیتے ہیں۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت کارروائی کا سامنا ہوگا، طلال چوہدری

بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی قیادت میں انتخابی اتحاد، 253 نشستوں پر انتخابی معاہدہ طے

دھند کے باعث پاکستان میں فضائی آپریشن متاثر

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

مردان کے ریڈ بلڈ بیڑوچ مالٹے کی خاص بات کیا ہے؟

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘