محمود اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، پی ٹی آئی کے لئے کتنا فائدہ مند یا نقصان دہ؟

جمعہ 16 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عمران خان کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر آغاز میں پی ٹی آئی میں بھی اختلافات سامنے آئے تھے، بعض رہنماؤں کا خیال تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا تعلق پی ٹی آئی سے ہی ہونا چاہیے، بعد ازاں پی ٹی آئی کے تمام رہنماؤں نے محمود خان اچکزئی کے نام پر اتفاق کر لیا، تاہم اب بھی پی ٹی آئی کے سابق سینیئر رہنما اس فیصلے پر تنقید کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا عمل کب تک مکمل ہونے کا امکان ہے؟ معاملات طے پا گئے

پی ٹی آئی کے سابق سینیئر رہنما شیر افضل مروت نے اس حوالے سے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر نامزدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت پر عمران خان کو اعتماد نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ عمران خان کو کسی نے کہا ہو کہ ان کی پارٹی کے رہنما اس بہتر انداز میں اپوزیشن نہیں کر سکتے کہ جس طرح محمود خان اچکزئی کر سکتے ہیں۔

’ان کی نامزدگی پاکستان تحریک انصاف کی ترقی اور مستقبل کے لیے اچھی بات نہیں‘

شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ ان کی نامزدگی پاکستان تحریک انصاف کی ترقی اور پاکستان تحریک انصاف کے مستقبل کے لیے اچھی بات نہیں ہے، اور مستقبل میں عمران خان کا یہ فیصلہ پارٹی کے لیے طعنہ بن سکتی ہے، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سوچ رہے ہوں گے کہ ان پر عمران خان نے عدم اعتماد کیا ہے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ایک سینیئر سیاست دان ہیں اور ان کا سیاست اور پارلیمنٹ میں وسیع تجربہ ہے، ایک بات واضح ہے کہ محمود خان اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، وہ فرینڈلی اپوزیشن نہیں کریں گے، وہ ایک بڑے سیاست دان ہیں اور ان کا سیاسی تجربہ بہت زیادہ ہے، میرے خیال میں پی ٹی آئی رہنماؤں سے بہتر اپوزیشن محمود خان اچکزئی کر سکتے ہیں۔

’پی ٹی آئی کے موجودہ رہنما قابل نہیں، اس لیے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا گیا‘

پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چوہدری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر اس لیے نامزد کیا گیا ہے کیونکہ اس وقت جو پی ٹی آئی کے موجودہ رہنما ہیں ان میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں ہے کہ اس کو اپوزیشن لیڈر بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے کسی ایسے بندے کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کا کوئی سیاسی قد ہو، جس کی بات میں کوئی وزن ہو یا جس کی بات کوئی سنتا ہو، تو پی ٹی آئی میں اس وقت ایسا کوئی بھی بندہ موجود نہیں ہے، اس لیے محمود خان اچکزئی کی نامزدگی میرے خیال میں بہتر فیصلہ ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ اس وقت کوئی بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، اس لیے پی ٹی آئی میں سوچا گیا ہے کہ کوئی ایسا بندہ ہو جو کسی بھی طرح معاملات کو آگے بڑھا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف نے محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف نامزد کر دیا

فواد چوہدری نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی نامزدگی سے اس وقت جو تناؤ کی فضا ہے اس میں کمی آئے گی، اس وقت جو مذاکرات کی بات چل رہی ہے اور جو ملاقاتیں ہو رہی ہیں، محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد ان ملاقاتوں اور مذاکرات میں بھی کافی سہولت ہوگی۔ پی ٹی آئی کے موجودہ رہنما کشیدگی کم کرنے میں بالکل ناکام ہوئے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے سے کشیدگی میں کچھ کمی ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے

سیول کی کچی آبادی میں ہولناک آتشزدگی، 300 فائر فائٹرز متحرک

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘