عمران خان کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر آغاز میں پی ٹی آئی میں بھی اختلافات سامنے آئے تھے، بعض رہنماؤں کا خیال تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا تعلق پی ٹی آئی سے ہی ہونا چاہیے، بعد ازاں پی ٹی آئی کے تمام رہنماؤں نے محمود خان اچکزئی کے نام پر اتفاق کر لیا، تاہم اب بھی پی ٹی آئی کے سابق سینیئر رہنما اس فیصلے پر تنقید کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا عمل کب تک مکمل ہونے کا امکان ہے؟ معاملات طے پا گئے
پی ٹی آئی کے سابق سینیئر رہنما شیر افضل مروت نے اس حوالے سے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر نامزدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت پر عمران خان کو اعتماد نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ عمران خان کو کسی نے کہا ہو کہ ان کی پارٹی کے رہنما اس بہتر انداز میں اپوزیشن نہیں کر سکتے کہ جس طرح محمود خان اچکزئی کر سکتے ہیں۔
’ان کی نامزدگی پاکستان تحریک انصاف کی ترقی اور مستقبل کے لیے اچھی بات نہیں‘
شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ ان کی نامزدگی پاکستان تحریک انصاف کی ترقی اور پاکستان تحریک انصاف کے مستقبل کے لیے اچھی بات نہیں ہے، اور مستقبل میں عمران خان کا یہ فیصلہ پارٹی کے لیے طعنہ بن سکتی ہے، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سوچ رہے ہوں گے کہ ان پر عمران خان نے عدم اعتماد کیا ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ایک سینیئر سیاست دان ہیں اور ان کا سیاست اور پارلیمنٹ میں وسیع تجربہ ہے، ایک بات واضح ہے کہ محمود خان اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، وہ فرینڈلی اپوزیشن نہیں کریں گے، وہ ایک بڑے سیاست دان ہیں اور ان کا سیاسی تجربہ بہت زیادہ ہے، میرے خیال میں پی ٹی آئی رہنماؤں سے بہتر اپوزیشن محمود خان اچکزئی کر سکتے ہیں۔
’پی ٹی آئی کے موجودہ رہنما قابل نہیں، اس لیے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا گیا‘
پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چوہدری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر اس لیے نامزد کیا گیا ہے کیونکہ اس وقت جو پی ٹی آئی کے موجودہ رہنما ہیں ان میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں ہے کہ اس کو اپوزیشن لیڈر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے کسی ایسے بندے کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کا کوئی سیاسی قد ہو، جس کی بات میں کوئی وزن ہو یا جس کی بات کوئی سنتا ہو، تو پی ٹی آئی میں اس وقت ایسا کوئی بھی بندہ موجود نہیں ہے، اس لیے محمود خان اچکزئی کی نامزدگی میرے خیال میں بہتر فیصلہ ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ اس وقت کوئی بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، اس لیے پی ٹی آئی میں سوچا گیا ہے کہ کوئی ایسا بندہ ہو جو کسی بھی طرح معاملات کو آگے بڑھا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف نے محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف نامزد کر دیا
فواد چوہدری نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی نامزدگی سے اس وقت جو تناؤ کی فضا ہے اس میں کمی آئے گی، اس وقت جو مذاکرات کی بات چل رہی ہے اور جو ملاقاتیں ہو رہی ہیں، محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد ان ملاقاتوں اور مذاکرات میں بھی کافی سہولت ہوگی۔ پی ٹی آئی کے موجودہ رہنما کشیدگی کم کرنے میں بالکل ناکام ہوئے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے سے کشیدگی میں کچھ کمی ہو سکے۔














