پشاور پولیس نے ریڈیو پاکستان کیس میں سہیل آفریدی کے خلاف کارروائی کے لیے فارنسک رپورٹ کی بنیاد پر مشاورت شروع کر دی ہے، جس میں 9 مئی کے واقعہ کی ویڈیوز میں ان کی بصری موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ریڈیو پاکستان پشاور کا گیٹ 9 ہزار روپے میں فروخت کرنے والا مرکزی ملزم گرفتار
اینٹی ٹیررازم کورٹ میں پیش کی گئی فارنسک سائنس لیبارٹری (PFSL/PFSA) کی رپورٹ میں ساہیل آفریدی کی ویڈیو فوٹیج میں موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 9 مئی کے واقعے کی 16 ویڈیوز کے فریم بہ فریم تجزیے اور پروفائل فوٹو میچنگ سے یہ ثابت ہوا کہ آفریدی واقعے کی جگہ موجود تھے۔

پشاور پولیس نے اس رپورٹ کی روشنی میں مشاورت شروع کر دی ہے کہ آیا سہیل آفریدی کو اس کیس میں ملزم نامزد کیا جائے یا نہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں تمام قانونی پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔














