ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے پاکستان کا اپنا اردو چیٹ جی پی ٹی ’قلب‘ باضابطہ طور پر لانچ کر دیا گیا ہے۔
یہ جدید ترین مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل امریکا میں زیرِ تعلیم پاکستانی طالب علم تیمور حسن کی قیادت میں تیار کیا گیا ہے، جسے دنیا کا اردو زبان کے لیے مخصوص سب سے بڑا لارج لینگویج ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ متعارف، گوگل سے کتنا مختلف؟
قلب کو 1.97 ارب ٹوکنز پر مشتمل وسیع ڈیٹا سیٹ پر تربیت دی گئی ہے اور اسے سات سے زائد بین الاقوامی جانچ کے معیارات پر پرکھا گیا ہے۔
نتائج کے مطابق قلب نے حقیقی دنیا میں کارکردگی کے اہم پیمانوں پر موجود اردو زبان پر مبنی دیگر اے آئی ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس سے پاکستان میں نیچرل لینگویج پروسیسنگ کے لیے ایک نیا معیار قائم ہوا ہے۔
Pakistani student develops Pakistan’s own Urdu ChatGPT titled Qalb https://t.co/GtIz8KXmb5 via @the_nation
— Sarfraz Hussain (@SarfrazInfo) January 14, 2026
تیمور حسن ایک نوجوان سیریل انٹرپرینیور ہیں جو اب تک13 اسٹارٹ اپس کامیابی سے لانچ اور ایگزٹ کر چکے ہیں، وہ مائیکروسافٹ کپ کے فاتح رہ چکے ہیں اور مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔
انہوں نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں بی ایس مکمل کیا اور اس وقت امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: طبی مشوروں کے لیے ’چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ‘ متعارف کرانے کا اعلان
دنیا بھر میں 23 کروڑ سے زائد افراد اردو بولتے ہیں، پاکستان کا اپنا اردو چیٹ جی پی ٹی قلب قومی زبان میں جدید اے آئی سہولیات فراہم کر کے طویل عرصے سے موجود تکنیکی خلا کو کم کرنے میں مدد دے گا۔
یہ ماڈل مقامی کاروبار، اسٹارٹ اپس، تعلیمی پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل سروسز اور وائس بیسڈ اے آئی ایجنٹس کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس سے جدت اور ترقی کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔
مزید پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کے آڈیو فیچرز جدید بنانے کا اعلان، ہارڈویئر لانچ سے پہلے تیاریوں کا آغاز
قلب کی تیاری میں شامل ٹیم کا کہنا ہے کہ بامعنی جدت اب صرف بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی، تیمور حسن کے مطابق، انہیں اپنے ملک کے لیے ایک بڑے مشن میں چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔
’اپنے انڈرگریجویٹ ساتھیوں جواد احمد اور محمد اویس کے ساتھ مل کر ہم مخصوص صنعتوں کے لیے لوکلائزڈ ماڈلز کو مسلسل بہتر بناتے رہیں گے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی صارفین کیا تلاش کرتے ہیں؟ اوپن اے آئی کا بڑا انکشاف
تیمور حسن نے مزید بتایا کہ ٹیکنالوجی اب بڑے بجٹ یا بڑی ٹیموں کی محتاج نہیں رہی، درست سوچ کے ساتھ ایک چھوٹی ٹیم بھی ایسی پروڈکٹس بنا سکتی ہے جو لاکھوں لوگوں کو تعلیم دیں، خودکار بنائیں اور سہولت فراہم کریں۔
پاکستان کا اپنا اردو چیٹ جی پی ٹی لانچ ہونا خطے میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کے حوالے سے پاکستان کو نمایاں مقام دلاتا ہے اور اردو کو مرکز بنا کر ڈیجیٹل تجربات کی نئی راہیں کھولتا ہے۔











