امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے تحت غزہ سے متعلق قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی کے باوجود غزہ میں 100 سے زائد بچے ہلاک، اقوامِ متحدہ
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ میں امن اور انتظامی امور سے متعلق بورڈ آف پیس تشکیل دے دیا گیا ہے، جس کے ارکان کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس بورڈ میں بین الاقوامی سفارتی، سیاسی اور انتظامی تجربہ رکھنے والی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔
NEW:
🇮🇱🇵🇸 Trump’s ‘BOARD OF PEACE’ for Gaza:
– Tony Blair
– Marco Rubio
– Steve Witkoff
– Jared Kushner
– Marc Rowan
– Ajay Banga
– Robert Gabriel pic.twitter.com/e0kw9JryZV— Megatron (@Megatron_ron) January 17, 2026
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بورڈ کا مقصد غزہ میں جنگ کے بعد کی صورتحال میں امن، تعمیر نو اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق سفارشات مرتب کرنا ہے۔ ٹرمپ منصوبے کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ خطے میں استحکام لانے اور مستقبل کے سیاسی حل کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
تاہم عالمی سطح پر اس اعلان پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے اسے یکطرفہ اقدام قرار دیا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق کسی بھی منصوبے میں فلسطینی عوام کی رائے اور شمولیت ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ سے یکجہتی: استنبول میں نئے سال پر ہزاروں افراد کا مارچ
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بورڈ آف پیس کی تشکیل نے ایک بار پھر غزہ کے سیاسی مستقبل، اسرائیل فلسطین تنازع اور امریکا کے کردار پر عالمی بحث کو تیز کر دیا ہے۔













