کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر دوسرے روز بھی قابو نہ پایا جا سکا، 6 افراد جاں بحق، عمارت کے کئی حصے منہدم

اتوار 18 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے مصروف ترین تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی شدید آگ نے شہر کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب بھڑکنے والی اس آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں افراد دم گھٹنے اور جھلسنے کے باعث زخمی ہو گئے۔ آگ کی شدت کے باعث کئی گھنٹوں تک ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن جاری رہا، جبکہ عمارت کو شدید ساختی نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ کی تاریخی اور تجارتی اہمیت کیا تھی؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق آگ ہفتے کی رات تقریباً سوا 10 بجے گل پلازہ کے میزنائن فلور پر لگی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فائر بریگیڈ حکام نے آگ کو تیسرے درجے کی آتشزدگی قرار دیتے ہوئے شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کر لیے۔

فائر بریگیڈ کے مطابق آگ بجھانے کے لیے 20 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکلز اور ایک واٹر باؤزر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پاک بحریہ کے فائر ٹینڈرز بھی امدادی کارروائی میں شریک ہیں۔ شدید تپش اور دھویں کے باعث فائر فائٹرز کو عمارت کے اندر داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق آگ کے باعث عمارت کے ایک حصے کا پلر گر گیا، جبکہ گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو چکی ہیں۔ شاپنگ پلازہ میں مجموعی طور پر تقریباً 1200 دکانیں موجود ہیں، جن میں بھاری مقدار میں تجارتی سامان رکھا گیا تھا۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آگ کے دوران کئی افراد عمارت میں پھنس گئے تھے، جنہیں نکالنے کے لیے مسلسل کوششیں کی گئیں۔ دھویں کے باعث متعدد افراد کی حالت غیر ہوئی جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ جاں بحق افراد میں 4 کی شناخت فراز، کاشف، عامر اور شہروز کے نام سے ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی اور اس سے کتنا نقصان ہوا؟

چیف فائر آفیسر کے مطابق آگ کے دوران عمارت میں ایک زوردار دھماکا بھی ہوا، جس کے بعد آگ مزید پھیل گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا گیس لیکج کے باعث ہوا، تاہم حتمی وجوہات کا تعین تفتیش کے بعد کیا جائے گا۔

ریسکیو آپریشن کے دوران ایک افسوسناک واقعے میں فائر بریگیڈ کی سیڑھیاں ٹوٹنے سے 2 اہلکار گر کر زخمی بھی ہو گئے، جنہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔

آتشزدگی کے باعث شہر کی اہم شاہراہیں بھی متاثر ہوئیں۔ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ سے بچنے کے لیے تبت چوک سے گارڈن چوک تک ایم اے جناح روڈ اور انکل سریا چوک سے سینٹرل پلازہ تک ماسٹن روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔ ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب موڑ دیا گیا، جس کے باعث اطراف کے علاقوں میں شدید رش دیکھنے میں آیا۔

ریسکیو اور فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں، جبکہ عمارت کے مزید حصے متاثر ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

جاں بحق اور زخمی افراد

پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے چار افراد کی شناخت فراز، کاشف، عامر اور شہروز کے نام سے ہوئی۔ ریسکیو آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی ٹوٹنے والی سیڑھیوں سے 2 افراد زخمی بھی ہوئے۔

آگ کی شدت اور اسباب

چیف فائر آفیسر عارف منصوری نے بتایا کہ عمارت میں زوردار دھماکا ہوا، جس کے بعد آگ مزید پھیل گئی۔ دھماکے کی وجہ گیس لیکج بتائی گئی ہے۔ صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر قاسم نے کہا کہ آگ مصنوعی پھولوں کی دکان سے شروع ہوئی جو تیزی سے پھیلی، اور عمارت میں تقریباً 80 سے 100 افراد پھنسے ہوئے تھے۔

ترجمان ریسکیو نے بتایا کہ آگ کی وجہ سے عمارت کے پلرز کمزور ہو گئے ہیں اور آتش گیر سامان کی موجودگی کی وجہ سے آگ کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

ریسکیو اور امدادی کارروائیاں

فائر ٹینڈرز اور رینجرز کے دستے پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں، جبکہ قیمتی املاک کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ رینجرز کے ترجمان نے بتایا کہ امدادی آپریشن مکمل ہونے تک اہلکار موقع پر موجود رہیں گے۔

سی او او ریسکیو کے مطابق عمارت کے پچھلے حصے کا ایک حصہ گر چکا ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد درست معلوم کرنا مشکل ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے عارضی طور پر آگ بجھانے کا عمل روکنا پڑا۔

ٹریفک کی صورتحال

آگ کی وجہ سے اطراف کے علاقوں میں تبت چوک سے گارڈن چوک، ایم اے جناح روڈ، اور انکل سریا چوک سے سینٹرل پلازہ تک ماسٹن روڈ بند کر دی گئی ہے۔ ٹریفک کو متبادل راستوں جیسے تبت چوک سے جوبلی کی طرف اور انکل سریا چوک سے ٹینکر چورنگی اور گارڈن چوک کی طرف منتقل کیا گیا۔ واٹر کارپوریشن کے سی او او اسد اللہ خان نے بتایا کہ واٹر ٹینکر ٹریفک جام کی وجہ سے دیر سے پہنچے، اور 3 ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی ممکن بنائی گئی۔

سرکاری حکام کا ردعمل

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایس ایس پی سٹی کو آگ کی وجوہات کا پتہ لگانے کی ہدایت دی اور شہریوں کے لیے محفوظ متبادل ٹریفک راستے بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے فائر بریگیڈ کی رسائی کے لیے راستوں کو کلیئر رکھنے پر زور دیا۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا، متاثرین اور تاجروں کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، اور آگ پر قابو پانے کی ہدایت دی۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور فوری امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی آتشزدگی کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور فوری تحقیقات اور آئندہ حفاظتی اقدامات کی ہدایت دی۔

عوامی اور سماجی ردعمل

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں شہر میں 2500 سے زائد آتشزدگی کے واقعات رونما ہوچکے ہیں اور عمارتوں میں شہریوں کے لیے محفوظ رہنے کا کوئی موثر میکنزم نہیں ہے۔

نقصان اور موجودہ صورتحال

مارکیٹ ذرائع کے مطابق شاپنگ پلازہ میں 1200 دکانیں ہیں، جن میں سے گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں جل گئی ہیں۔ عمارت میں اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ اب تک آگ پر تقریباً 60 فیصد قابو پایا گیا ہے، اور متاثرہ تاجروں نے گل پلازہ کے باہر اذان دینا شروع کردی۔

گل پلازہ کے تاجر حکومتی سہولیات پر پھٹ پڑے

کراچی کے علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آتشزدگی کے دوران شہر کا ریسکیو اور فائر فائٹنگ سسٹم مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔ گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے صدر تنویر قاسم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود 80 سے 100 افراد اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ ریسکیو کے نام پر کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ کی تاریخی اور تجارتی اہمیت کیا تھی؟

تنویر قاسم کے مطابق فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں ہر 10 منٹ بعد پانی ختم ہو جاتا ہے، جس کے باعث آگ پر قابو پانا ممکن نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ نہ فائر بریگیڈ کے پاس مناسب آلات ہیں، نہ اندر داخل ہونے کا کوئی مؤثر سیٹ اپ موجود ہے۔ آگ عمارت کی اوپری منزلوں پر لگی ہوئی ہے، مگر گاڑیاں اوپر تک پہنچ نہیں پا رہیں۔

صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن نے بتایا کہ مارکیٹ میں متعدد ایگزٹس موجود ہیں، لیکن ریسکیو ادارے اندر پھنسے افراد تک پہنچنے میں ناکام ہیں۔ فائر فائٹرز کے پاس سیڑھیاں، جدید آلات اور مسلسل پانی کی سپلائی موجود نہیں، جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن بار بار رک جاتا ہے۔

تنویر قاسم نے کہا کہ تاجروں اور شہریوں نے وزیراعلیٰ، وزیراعظم، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام سے مدد کی اپیل کی، مگر طویل وقت گزرنے کے باوجود کوئی ذمہ دار موقع پر نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ مال کا نقصان ہو جانا ایک بات ہے، مگر جانوں کا حساب کون دے گا؟ ابھی بھی لوگ اندر ہیں، بچے اپنے والدین کے لیے رو رہے ہیں، مگر سننے والا کوئی نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کچھ اہلکاروں نے 2 سے ڈھائی سو افراد کو باہر نکالنے میں مدد دی، مگر اس کے بعد ریسکیو کا عمل سست پڑ گیا اور کئی سرکاری رابطے بھی منقطع ہو گئے۔ جانی نقصان کی اطلاعات تو ہیں، تاہم درست تعداد ابھی سامنے نہیں آ سکی۔

تنویر قاسم نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ کرے۔ اگر اس واقعے میں مزید جانیں ضائع ہوئیں تو اس کا جواب اسی نظام کو دینا ہوگا جو اس وقت بے بس نظر آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی اور اس سے کتنا نقصان ہوا؟

انہوں نے فوری مطالبہ کیا کہ آرمی اور نیوی کو ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن میں شامل کیا جائے، کیونکہ موجودہ انتظامات کے ساتھ صورتحال پر قابو پانا ممکن نہیں رہا۔

گل پلازہ میں جاری صورتحال نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ کراچی کا ایمرجنسی اور ریسکیو انفراسٹرکچر کسی بڑے سانحے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور ہر گزرتا منٹ اندر پھنسے افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

متعدد افراد لاپتا، اہل خانہ پریشان

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں گزشتہ رات لگنے والی شدید آتشزدگی کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں، اور ان کے اہل خانہ اسپتالوں اور عمارت کے گرد اپنے پیاروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

اہل خانہ کے مطابق رات تک متاثرہ افراد سے رابطہ ممکن تھا لیکن اب فون بند ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ کئی افراد اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ سول اسپتال کے برنس سینٹر کے باہر بھی متاثرہ افراد کے اہل خانہ کی بڑی تعداد جمع ہے، جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے بے چینی کا شکار ہیں۔

عوامی رہنمائی کے لیے ہیلپ لائنز قائم

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں شدید آتشزدگی کے واقعے کے بعد عوام اور متاثرہ خاندانوں کی سہولت کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ہیلپ لائنز قائم کر دی گئی ہیں تاکہ گمشدہ افراد اور صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:کئی گھرانوں کے چراغ گُل کرنے والی گل پلازہ کی آگ میں متعدد افراد لاپتا، اہل خانہ پریشان

میڈیا رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو تیسرے درجے کی آتشزدگی قرار دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد کے تاحال عمارت میں پھنسے ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ آگ پر قابو پانے کے لیے شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کیے گئے ہیں اور پانی و فوم کے ذریعے آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی نے بتایا ہے کہ کسی بھی قسم کی معلومات یا گمشدگی سے متعلق اطلاع ڈی سی ساؤتھ کو دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری 03135048048، 02199206372 اور 02199205625 پر رابطہ کر سکتے ہیں، جبکہ گمشدہ افراد سے متعلق تفصیلات بھی انہی نمبرز پر فراہم کی جائیں۔

دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق عوام کی سہولت اور رہنمائی کے لیے ساؤتھ زون پولیس نے بھی علیحدہ ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔ شہری معلومات کے لیے 02199205670، 02199201196 اور 02199205691 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ آتشزدگی گیس لیکج کے باعث گراؤنڈ فلور پر دھماکے کے بعد شروع ہوئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے باعث گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں جل گئیں جبکہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

وزیراعظم اور وزیرداخلہ کا اظہارِ افسوس

وزیراعظم نے زخمی افراد کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیز کرنے کا حکم دیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے متاثرہ تاجروں اور دیگر افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ریسکیو آپریشن میں تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے کام کریں اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں حکومت برابر کی شریک ہے۔ وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار بھی کیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کے غم میں ہم برابر کے شریک ہیں جبکہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔

گل پلازہ آتشزدگی، وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سےفوری انکوائری کی ہدایت

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے ہولناک تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں چھ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جس میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو انکوائری کی ہدایت کر دی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق آگ کو تیسرے درجے کا قرار دیا گیا ہے اور 12 گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کیے گئے اور آگ بجھانے کے لیے پانی اور فوم کا استعمال جاری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ آتشزدگی کی وجوہات معلوم کی جائیں اور تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے عمارت میں فائر سیفٹی انتظامات کی جانچ کرنے اور فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔

سید مراد علی شاہ نے کراچی کی دیگر کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ فوری کروانے کی بھی ہدایت کی، تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچاؤ ممکن ہو۔

گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی اور اس سے کتنا نقصان ہوا؟

کراچی کے مصروف ترین تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے شہر کو ایک بار پھر فائر سیفٹی کے سنگین مسائل کی یاد دلا دی۔ گراؤنڈ فلور سے بھڑکنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، درجنوں افراد زخمی ہوئے اور کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا، جبکہ عمارت کے گرنے کے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: پٹاخوں کے گودام میں آتشزدگی، دھماکوں کی آوازیں، 2 افراد جاں بحق، 33 زخمی

کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع مشہور شاپنگ سینٹر گل پلازہ گزشتہ روز شدید آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ آگ گراؤنڈ فلور سے بھڑکی جس کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان ہوا، جبکہ عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ریسکیو حکام اور اسپتال ذرائع کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں اب تک 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ہلاکتوں کی بنیادی وجہ دم گھٹنا بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال (سول ٹراما سینٹر) منتقل کیا گیا۔

آگ کس طرح پھیلی؟

ریسکیو حکام کے مطابق آگ پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور میزنائن فلور پر لگی، جو دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق آگ پر 40 فیصد قابو پا لیا گیا ہے۔

گراؤنڈ فلور پر موجود بیشتر دکانیں اور وہاں قائم گودام مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے۔ ان دکانوں میں درآمدی کپڑے، گارمنٹس اور پلاسٹک کا سامان موجود تھا، جس کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔

عمارت کو پہنچنے والا نقصان

آگ کی شدت کے باعث عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی حصوں کو شدید نقصان پہنچا۔ متاثرہ عمارت کے گرنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاحال مالی نقصان کا حتمی تخمینہ نہیں لگایا جا سکا۔

ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن

آگ بجھانے کے لیے 18 فائر ٹینڈرز، اسنارکل اور واٹر باؤزرز نے حصہ لیا۔ آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے اسے تیسرے درجے کی آگ قرار دیا گیا۔ عمارت کی بالائی منزلوں پر کئی افراد پھنس گئے تھے، جنہیں ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اداروں نے نکالنے کی کوششیں کیں۔

امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ سے بچنے کے لیے تبت چوک سے گارڈن تک ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔

آگ لگنے کی ممکنہ وجہ اور تحقیقات

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، تاہم سندھ حکومت نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

گل پلازہ کی تاریخی اور تجارتی اہمیت کیا تھی؟

کراچی کے تجارتی اور کاروباری منظرنامے میں گل پلازہ کو ایک منفرد مقام حاصل تھا، جو کئی دہائیوں تک سستی، معیاری اور متنوع خریداری کی علامت سمجھا جاتا رہا۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع یہ کثیرالمنزلہ شاپنگ سینٹر نہ صرف عام خریداروں بلکہ چھوٹے تاجروں، ہول سیل خریداروں اور آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے بھی ایک مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ حالیہ آتشزدگی کے واقعے کے بعد گل پلازہ کی تاریخی اور تجارتی اہمیت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، کیونکہ یہ عمارت کراچی کی معاشی سرگرمیوں میں ایک اہم ستون تصور کی جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی اور اس سے کتنا نقصان ہوا؟

گل پلازہ کراچی کی ایک ایسی تجارتی پہچان ہے جسے محض ایک عمارت نہیں بلکہ سستی اور معیاری خریداری کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ کراچی کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع ہے، جو صدر اور لائٹ ہاؤس کے قریب ہونے کے باعث شہر کے ہر حصے سے باآسانی قابلِ رسائی ہے۔

گل پلازہ کراچی کے قدیم ترین اور بڑے تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں روزانہ ہزاروں افراد خریداری کے لیے آتے ہیں۔ یہ پلازہ اپنی وسیع ورائٹی کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا ہے، جہاں مقامی مصنوعات کے ساتھ ساتھ چین، تھائی لینڈ، ترکی اور دیگر ممالک سے درآمد شدہ سامان دستیاب ہوتا ہے۔

یہاں کپڑا، کراکری، الیکٹرونکس اور ڈیکوریشن کا سامان نسبتاً کم قیمت پر ملتا ہے۔ بچوں کے کھلونوں، کپڑوں، بے بی بیڈز اور اسکول بیگز کے حوالے سے گل پلازہ کو کراچی کی بڑی مارکیٹوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

گھریلو استعمال کی اشیا میں بیڈ شیٹس، پردے، کچن کا سامان اور پلاسٹک کی مصنوعات ہول سیل نرخوں پر دستیاب ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں کاسمیٹکس، جیولری، ہینڈ بیگز اور برائیڈل ویئر کے بڑے مراکز بھی قائم ہیں۔

گل پلازہ صرف عام خریداروں کے لیے ہی نہیں بلکہ چھوٹے دکانداروں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں اور سندھ کے دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے دکاندار یہاں سے ہول سیل ریٹ پر مال خرید کر لے جاتے ہیں۔ آن لائن کاروبار کرنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی یہیں سے سامان حاصل کر کے سوشل میڈیا کے ذریعے فروخت کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: پٹاخوں کے گودام میں آتشزدگی، دھماکوں کی آوازیں، 2 افراد جاں بحق، 33 زخمی

یہ ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جس میں بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور، میزنائن اور بالائی منزلیں شامل ہیں۔ بالائی حصوں میں گودام اور بعض دفاتر واقع ہیں، جبکہ نچلی منزلیں مکمل طور پر دکانوں کے لیے مختص ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

2 قاتل باہم محبت میں گرفتار، آج شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے

پاکستان کا سیٹلائٹ امیجری اور اے آئی کے ذریعے بحری تحفظ اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کا منصوبہ

ڈھاکا میں ماریا بی آؤٹ لیٹ کا افتتاح، بنگلہ دیش میں داخل ہونے والی پہلی بین الاقوامی خواتین فیشن برانڈ قرار

صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیراعظم سے ‘غزہ بورڈ آف پیس’ میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی

ورلڈ کرکٹ فیسٹیول: پاکستان کی بھارت کیخلاف سنسنی خیز فتح، مصافحہ کی بحالی

ویڈیو

کوئٹہ اور بالائی علاقوں میں برفباری کے بعد سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی سرگرمیوں میں اضافہ

چکوال کی سائرہ امجد کا منفرد آرٹ: اسٹیل وول اور ایکرلیک سے فطرت کی عکاسی

وی ایکسکلوسیو: پی ٹی آئی دہشتگردوں کا سیاسی ونگ ہے اسی لیے اس پر حملے نہیں ہوتے، ثمر بلور

کالم / تجزیہ

کیمرے کا نشہ

امریکی خطرناک ہتھیار جس نے دیگر سپرپاورز کو ہلا دیاٖ

گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے