بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع الور میں ایک ایسی محبت کی کہانی شادی پر منتج ہونے جا رہی ہے جو کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ قتل کے 2 مجرم، جو جیل میں ایک دوسرے سے ملے اور محبت میں گرفتار ہوئے، آج شادی کرنے جا رہے ہیں۔
پریا سیٹھ عرف نیہا سیٹھ اور ہنومان پرساد کی ملاقات 6 ماہ قبل اسی جیل میں ہوئی جہاں دونوں اپنی سزائیں کاٹ رہے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ ملاقات محبت میں بدل گئی اور اب دونوں شادی کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
راجستھان ہائیکورٹ نے دونوں کو شادی کے لیے 15 دن کی ایمرجنسی پیرول دی ہے۔ یہ شادی آج بارودامیو، ضلع الور میں انجام پائے گی۔
پریا سیٹھ: ڈیٹنگ ایپ سے قتل تک
پریا سیٹھ ایک ماڈل رہ چکی ہیں۔ انہیں 2018 میں ایک نوجوان دشینت شرما کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
پریا نے ٹنڈر ایپ کے ذریعے دشینت سے دوستی کی، پھر اسے جے پور کے بجاج نگر کے ایک فلیٹ میں بلایا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اسے اغوا کر کے تاوان وصول کیا جائے تاکہ اس کے عاشق دکشنٹ کامرا کا قرض ادا کیا جا سکے۔
تاوان، قتل اور لاش سوٹ کیس میں
پریا نے مقتول کے والد سے 10 لاکھ روپے تاوان مانگا، جن میں سے 3 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ بعد ازاں یہ سوچ کر کہ رہائی کی صورت میں پولیس تک پہنچ ہو سکتی ہے، پریا، دکشنٹ کامرا اور اس کے دوست لکشیہ والیا نے دشینت کو قتل کر دیا۔
لاش کو شناخت سے بچانے کے لیے چہرے پر چاقو کے وار کیے گئے اور لاش کو سوٹ کیس میں بند کر کے عامر کی پہاڑیوں میں پھینک دیا گیا۔
ہنومان پرساد: 5 قتلوں کا مجرم
دوسری طرف ہنومان پرساد بھی ایک سنگین جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس نے اپنی گرل فرینڈ سنتوش کے کہنے پر اس کے شوہر اور بچوں کو قتل کیا۔
اکتوبر 2017 میں سنتوش نے ہنومان کو اپنے گھر بلایا جہاں اس نے جانور ذبح کرنے والے چاقو سے اس کے شوہر بنواری لال کو قتل کیا۔
بچوں کا قتل، لرزہ خیز واقعہ
قتل کے وقت سنتوش کے 3 بچے اور ایک بھانجا جاگ گئے اور واردات دیکھ لی۔ گرفتاری کے خوف سے سنتوش نے اپنے بچوں اور بھانجے کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا۔
اس رات ایک شخص اور 4 بچوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، جس نے پورے الور کو دہلا کر رکھ دیا۔












