کوئٹہ کے BUITEMS کے طالب علم محمد سرفراز نے ہیملٹیکسٹائل ایکسپو، فرینکفرٹ، جرمنی میں ڈسکور نیچرل فائبر انیشیٹیو (ڈی این ایف آئی) ایوارڈ جیت کر نہ صرف پاکستان بلکہ بلوچستان کا نام بھی عالمی سطح پر روشن کیا۔ سرفراز کا منصوبہ کیلے کے ڈنٹھل کے فضلے کو اعلیٰ معیار کے قدرتی فائبر میں تبدیل کرتا ہے، جو مصنوعی مواد کے لیے ماحول دوست متبادل پیش کرتا ہے۔
Balochistan Student Wins Global Award for Sustainable Innovation
Mohammad Sarfraz from Quetta won the Discover Natural Fibre Initiative Award at Heimtextil Frankfurt for converting banana waste into fibre#BalochistanPride#PakistaniInnovation#YouthInnovation#SustainableFuture pic.twitter.com/bQJ0mKWxxJ— Gulzaad Baloch (@GulzaadBaloch) January 16, 2026
محمد سرفراز کو دنیا بھر کی 100 سے زائد تحقیقی اداروں اور کمپنیوں میں سے منتخب کیا گیا۔ ان کا 4 سالہ تحقیقی منصوبہ پائیداری، قابل توسیع ہونے اور تجارتی امکانات کے حوالے سے بین الاقوامی ماہرین کو متاثر کر چکا ہے۔
سرفراز کے سرپرست، ڈاکٹر محمد قاسم نے کہا کہ یہ ایوارڈ ثابت کرتا ہے کہ بلوچستان کے نوجوان دنیا کے بہترین مقابلہ کر سکتے ہیں، اگر انہیں مواقع اور معاونت فراہم کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:صحت کیلئے مفید فائبر سے بھرپور غذائیں کونسی ہیں؟
یورپی کمپنیوں نے پہلے ہی دلچسپی ظاہر کی ہے، اور ایک جرمن فرم نے فائبر پر مبنی مصنوعات کی تیاری اور مارکیٹنگ میں تعاون کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے، غربت میں کمی، ماحولیاتی تحفظ اور سالانہ ایک ارب ڈالر تک کی غیر ملکی آمدنی کے امکانات ہیں۔
محمد سرفراز کا منصوبہ دکھاتا ہے کہ بلوچستان کے نوجوان تبدیلی کے انتظار میں نہیں ہیں بلکہ خود اسے پیدا کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان بلوچستان کے حقیقی نمائندے ہیں جو عالمی سطح پر اپنے ہنر اور تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔













