اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے مجوزہ ایگزیکٹو بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کا حالیہ اعلان اسرائیل سے مشاورت کے بغیر کیا گیا اور یہ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ بات چیت میں اٹھائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کا باضابطہ اعلان
بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بورڈ کی تشکیل کا کون سا پہلو اسرائیلی پالیسی سے متصادم ہے، تاہم اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے اس حوالے سے مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
BREAKING — Israel says US had not consulted the make up of the Gaza Board of Peace with Israeli authorities, and it contradicts Netanyahu’s policies
Netanyahu asked FM Sa'ar to take the matter up with Rubio.
Trump extended an invitation to Erdogan for the board pic.twitter.com/gGflN0DwL2
— Ragıp Soylu (@ragipsoylu) January 17, 2026
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعے کے روز جاری کیے گئے اعلان کے مطابق غزہ کے ایگزیکٹو بورڈ میں ترک وزیر خارجہ حاکان فدان کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس پر اسرائیل کو سخت اعتراض ہے، کیونکہ اسرائیل ماضی میں بھی غزہ میں ترکیہ کے کسی کردار کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
اس بورڈ کے دیگر ارکان میں مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار سیگرید کاگ، ایک اسرائیلی نژاد قبرصی ارب پتی تاجر، اور متحدہ عرب امارات کا ایک وزیر شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا ترک صدر کو خط، غزہ امن منصوبے کے لیے تعاون کی درخواست
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
اسی ہفتے واشنگٹن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد غزہ کی جنگ کا خاتمہ ہے۔
اس مرحلے میں غزہ میں ایک عبوری، ٹیکنوکریٹ فلسطینی انتظامیہ کے قیام کی تجویز شامل ہے۔
“The announcement regarding the composition of the Gaza Executive Board, which is subordinate to the Board of Peace, was not coordinated with Israel and runs contrary to its policy,” says Netanyahu pic.twitter.com/iTjbBDIDdz
— Vijayesh Tiwari (@Vijayesh_Tiwari) January 17, 2026
اس کے ساتھ ہی نام نہاد ’بورڈ آف پیس‘ کے ابتدائی ارکان کے نام بھی سامنے آئے، جس کی صدارت صدر ٹرمپ کریں گے اور جو غزہ کے عارضی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا۔
اس بورڈ کے ارکان میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، معروف ارب پتی سرمایہ کار اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔












