تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے روایتی اثرات بنگلہ دیش اور میانمار میں کمزور ہو گئے ہیں، جبکہ پاکستان اور چین دفاع، تجارت اور سیاسی تعلقات میں ان ممالک کے قریب آ چکے ہیں۔ انتخابات اور خطے کی داخلی سیاست نے بھارت کی حکمت عملی کو چیلنجز میں ڈال دیا ہے۔
بنگلہ دیش میں پاکستان کے قریب ہونے کا عمل
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ (SCMP) میں شائع رپورٹ کے مطابق 2024 میں بھارت کے قریب سمجھی جانیوالی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش نے پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا شروع کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان بنگلہ دیش کو چاول برآمد کرے گا
تجزیہ کار عمر کریم کے مطابق پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ ’بلینک چیک سفارت کاری‘ کر رہا ہے، جس میں دفاعی اور تجارتی شراکت داری شامل ہے، جیسے کہ چینی ساختہ JF-17 طیاروں کی فروخت کا منصوبہ۔
ایس سی ایم پی کے مطابق، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں اس سیاسی تبدیلی نے بھارت کی روایتی اہمیت کو کمزور کر دیا ہے۔
میانمار میں چین کا بڑھتا ہوا اثر
میانمار میں 2021 کے فوجی قبضے کے بعد چین نے ملک پر اپنا اثر بڑھا لیا ہے۔ چین نے وہاں فوجی تربیت، ہتھیار اور اقتصادی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ بھارت نے جنتا کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔

اینگشومن چودھری کے مطابق بھارت کو میانمار میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کے لیے مختلف نسلی گروپوں کے ساتھ بھی تعلقات قائم رکھنے ہوں گے، مگر یہ کافی نہیں ہے کیونکہ چین کئی طاقتور نسلی تنظیموں کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتا ہے۔
بھارت اور چین کے اقتصادی منصوبے
بھارت، میانمار میں ایک 484 ملین ڈالر کے کورڈور کی تعمیر کر رہا ہے جو ستو پورٹ کو کولکتہ اور دیگر علاقوں سے جوڑے گا۔ دوسری جانب، چین میانمار چین اقتصادی کوریڈور کے تحت اربوں ڈالر کی ریلوے اور سڑکیں تعمیر کر رہا ہے، جو یونان صوبے سے ’کاؤکپو‘ تک جاتی ہیں۔ یہ منصوبے واضح طور پر بھارت کی علاقائی حکمت عملی کو چیلنج کر رہے ہیں۔
انتخابات اور خطے میں بھارت کی پوزیشن
تجزیہ کاروں کے مطابق میانمار اور بنگلہ دیش میں انتخابات بھارت کے اثرورسوخ پر براہِ راست اثر ڈالیں گے۔ میانمار میں جنتا کی زیر قیادت نئی حکومت ممکنہ طور پر چین کے قریب ہوگی، جبکہ بھارت کی دخل اندازی محدود رہ جائے گی۔

بنگلہ دیش میں انتخابات کے بعد بھی پاکستان اور چین کے تعلقات مضبوط رہ سکتے ہیں، کیونکہ بھارت نے صرف حسینہ کے دور میں اپنا اثر قائم کیا تھا اور موجودہ حکومت پر اس کا اثر محدود ہے۔
بھارت کی حکمت عملی میں خامیاں
سابق بھارتی سفارتکار کے پی فیبیان کے مطابق بھارت کی پالیسی جو پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات گہرا کرنے پر مبنی تھی، حالیہ برسوں میں ناکام رہی ہے۔ بھارت نے بنگلہ دیش میں حسینہ پر بہت زیادہ انحصار کیا اور میانمار میں جنتا کے ساتھ تعلقات محدود رہے، جس کی وجہ سے پاکستان اور چین بھارت کی علاقائی حکمت عملی کو چیلنج کر رہے ہیں۔
پاکستان اور چین کی مشترکہ حکمت عملی
فیبیان کے مطابق بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط اتحاد ہے اور دونوں ممالک خطے میں بھارت کی اثرورسوخ کو محدود کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ صرف دفاعی یا تجارتی تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ سیاسی اور جغرافیائی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے۔













