سعادت حسن منٹو بمبئی (ممبئی) سے ہجرت کرکے لاہور آئے تو ادبی دنیا میں جن شخصیات سے ان کے مراسم استوار ہوئے اور مضبوط تعلق میں ڈھل گئے، ان میں احمد راہی کا نام سرِ فہرست ہے۔
یوں تو راہی منٹو کو اپنے بچپن سے جانتے تھے۔ ان کی تایا زاد بہن منٹو کے خاندان میں بیاہی تھیں۔ ان کے ہاں منٹو کو سعادت کہا جاتا تھا۔ امرتسر کی نسبت تو تھی ہی پھر دونوں اسکول میں سالک صہبائی کے شاگرد رہے تھے۔ یہ نسبت بعد میں مزید توانا ہوئی کہ انہیں ادب کی راہ سالک نے سجھائی تھی۔
پنجابی شاعری کے بعد فلمی گیت احمد راہی کی شناخت کا معروف حوالہ بنے۔ فلم کی دنیا میں انہیں منٹو لے گئے تھے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب وہ فلم ’بیلی‘ کی کہانی لکھ رہے تھے۔ مسعود پرویز کی اس فلم میں منٹو نے راہی سے ’بدوبدی‘ یہ پنجابی گیت لکھوایا تھا:
اہل جوانی دیاں مینڈھیاں نیں
گندھے گی سگناں والی رات
نی میں آپے لائیاں
اہل جوانی دیاں
راہی، فلم ’بیلی‘ کے لیے منٹو کے اسسٹنٹ بن گئے لیکن وہ اپنے لیے اَردلی کے لفظ کو ترجیح دیتے تھے۔ مسعود پرویز کا دفتر ریگل سنیما کی اوپر والی منزل پر تھا۔ یہ جگہ منٹو کی رہائش کے قریب تھی۔ منٹو صبح 9 بجے یہاں آجاتے اور شام 5 بجے تک کہانی لکھنے میں مصروف رہتے۔ فلم کی کہانی مکمل ہونے تک ان کا یہی معمول رہا۔
فلمی دنیا سے باہر بھی راہی، منٹو کے کام کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔ ان کے بقول ’میرا گھر گوالمنڈی میں تھا، میں وہاں سے صبح بیڈن روڈ، منٹو صاحب کے پاس آتا وہاں سے جدھر انہوں نے جانا ہوتا تھا ہم روانہ ہو جایا کرتے تھے۔ میں منٹو کا دوست تو نہیں ان کا اردلی تھا، وہ کئی کام مجھے کہا کرتے تھے کہ فلاں طرف جاؤ تو یہ رقعہ لے جاؤ۔ میں چلا جایا کرتا تھا۔ کبھی چشمہ دے دیا اسے ٹھیک کروا لاؤ وغیرہ۔‘
یہ بھی پڑھیں:کتاب کا بار بار پڑھنا اور محبوب مصنف
اس زمانے میں انہوں نے منٹو کے تخلیقی عمل کا قریب سے مشاہدہ کیا اور اچھی بات ہے اسے بیان بھی کردیا ہے:
’وہ صبح صبح اٹھتے تھے، جو ان کی عادت تھی، نہائے دھوئے، شیو کی، سادہ سا ناشتہ کیا جیسا کہ وہ ناشتہ کرتے تھے، 2 توس سوکھے، مکھن بھی نہیں لگاتے تھے، چائے کا کپ پیا اور پاؤں کے بل فرش پر بیٹھے ہوتے تھے۔ کرسی یا صوفے پر نہیں بیٹھتے تھے، زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور سامنے اخبار رکھا ہوا اور اخبار پڑھ رہے ہیں۔ اخبار پڑھتے ہوئے وہاں سے کسی خبر نے انہیں سٹرائیک کیا۔ اس کے بعد وہ بیٹھے، دو تین چار گھنٹے میں افسانہ لکھا۔ 6-7 بجے لکھنے بیٹھے، 10 بجے تک فارغ ہو گئے۔‘
احمد راہی سعادت مندی کے باعث منٹو کو دوست کہنے سے احتراز کرتے تھے لیکن منٹو انہیں اپنا بیلی سمجھتے تھے اور ان کی شاعری کے سچے قدر دان تھے۔ احمد راہی کے شعری مجموعے ’ترنجن‘ پر پنجابی میں ان کا فلیپ اس کتاب کے ساتھ نتھی ہو گیا ہے ۔
میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں اس کا ترجمہ کرنے کی جسارت کی ہے :
’ترنجن کا نام سنتے ہی میرے دماغ میں ایک ایسی جگہ کا تصور ابھر آتا ہے جو میں نے آج تک نہیں دیکھی پر جب بھی کوئی ترنجن کا ذکر کرے تو میں ایک عجیب سی مسرت محسوس کرتا ہوں۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں بھی ایک لڑکی ہوں جو اپنی سکھیوں کے ساتھ بیٹھی چرخہ کات رہی ہے۔ اسے آپ پنجاب کے دیہات کی فضا کا جادو کہہ لیں یا اسے کوئی اور نام دے لیں۔
میرے یار احمد راہی نے یہ کتاب چھپوائی ہے جس کا نام اس نے ’ترنجن‘ رکھا ہے۔ پنجابی شاعری کے مجموعے کا اس سے اچھا نام اور کیا ہوسکتا تھا۔ اس مجموعے میں دمڑی کے سک سے لے کر لاکھوں کے کاروبار کا ذکر ہے۔ لونگ کے لشکارے سے لے کر ان بجلیوں کی کہانیاں بیان کی گی ہیں جو ہل چلاتے جاٹوں کو ہل روک لینے کے بجائے اور بھی زیادہ محنت کرنے پر اکساتی ہیں۔
احمد راہی نے شاعری میں جنگلی کبوتروں کے گھونسلے نہیں ڈالے۔ اس نے ان گھونسلوں کا ذکر کیا ہے جن میں غریب بستے ہیں۔ یہ گھونسلے خوب صورت اور گول مٹول اور پھڑکنے والے نہیں پر ایمان کی بات ہے کہ احمد راہی کی زبان سے ان کا ذکر سن کر ایک بار تو کلیجہ دہل جاتا ہے۔‘
منٹو کے فلیپ کے برابر ہی کرشن چندر کے اس پنجابی خط کا شہرہ رہا ہے جو انہوں نے ’ترنجن‘ پڑھ کر راہی کو لکھا تھا ۔ ترنجن کا یہ اعزاز ہے کہ اردو کے 2 بڑے فکشن نگاروں نے اسے پسند کیا اور اس کے لیے پنجابی میں قلم اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں:کانپور کے وہ کاٹا اور لاہور کے بوکاٹا میں فرق
منٹو نے انکل سام کے نام آٹھویں خط میں احمد راہی کا تذکرہ لطیف پیرائے میں کیا ہے اور چھٹا خط نہ پہنچنے کی ذمے داری ان پر عائد کی ہے لیکن اس الزام تراشی کے دوران بھی وہ ان کی شاعری کی تعریف کرنا نہیں بھولتے:
’احمد راہی کو آپ جانتے ہیں؟ وہی ترنجن کا مصنف جس کو ہماری حکومت نے 5 سو روپیہ انعام دیا تھا کہ اس نے پنجابی زبان میں بڑی پیاری نظمیں لکھی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ نظمیں بڑی پیاری اور نرم و نازک ہیں مگر آپ نہیں جانتے یہ راہی بڑا خطرناک کمیونسٹ ہے، پارٹی آفس میں دوسرے ممبر ٹوٹے پیالوں میں چائے پیتے ہیں مگر یہ چھپ چھپ کر بیئر پیتا ہے اور پی پی کر موٹا ہو رہا ہے۔ میرا دوست ہے۔ میں نے اسی کو خط پوسٹ کرنے کے لیے دیا تھا مگر کمیونسٹ جو ہوا۔ یہ خط گول کر گیا اور پارٹی کے حوالے کر دیا۔‘
منٹو نے اپنے مضمون ’پانچواں مقدمہ‘ میں ’اوپر نیچے اور درمیان‘ پر مقدمہ قائم ہونے کی روداد میں بتایا ہے کہ جب پولیس ان کے گھر داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی وہ ’سویرا‘ کے دفتر میں افسانہ لکھ رہے تھے۔ یہ بری خبر ان تک پہنچی تو احمد راہی اور حمید اختر ان کے ساتھ تھے جنھیں اس اطلاع نے مضطرب کر دیا اور وہ منٹو صاحب کے ساتھ تانگے پر ان کے گھر چلے گئے جہاں کی صورت حال کا اندازہ منٹو کے اس بیان سے کیا جا سکتا ہے:
’سب انسپکٹر اور سپاہیوں نے میری بیوی اور میری بہن کو یہ دھمکی دی تھی کہ وہ تلاشی لینا چاہتے ہیں اور اگر دروازے نہ کھولے گے تووہ زبردستی اندر گھس آئیں گے۔
پولیس والوں سے مجھے نفرت ہے۔ ان لوگوں نے میرے ساتھ ہمیشہ ایسا سلوک کیا ہے جو گھٹیا قسم کے اخلاقی ملزموں سے کیا جاتا ہے۔‘
احمد راہی کی ساحر لدھیانوی سے بڑی دوستی تھی۔ منٹو ان سے باقاعدگی سے ملتے تھے اس لیے راہی سے بھی ان کی رسم و راہ بڑھنے لگی۔ ساحر ’سویرا‘ کے ایڈیٹر تھے اس لیے منٹو ان سے ملاقات کے لیے میکلوڈ روڈ پر گیتا بھون میں ’سویرا‘ کے دفتر میں آتے تھے۔ احمد راہی کے بقول ’میں، منٹو صاحب، ساحر، اے حمید اور سویرا کے مالک چودھری نذیر اکٹھے گھوما کرتے تھے۔‘
ان ایام میں ایک اہم واقعہ گاندھی جی کا قتل تھا۔ منٹو اس پر بہت پریشان تھے۔ غم غلط کرنے کے لیے انہوں نے میکلوڈ روڈ پر رٹز سنیما کے قریب کوالٹی بار کا رخ کیا۔ ساحر اور منٹو فکرمند تھے کہ کہیں گاندھی جی کا قاتل کوئی مسلمان نہ ہو کیوں کہ ایسا ہوتا تو ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑتے۔ اس نوع کی تشویش اور بھی ادیبوں کو تھی۔ البتہ قاتل کی شناخت ظاہر ہونے کے بعد خوف کے یہ بادل چھٹ گئے۔
منٹو صاحب گاندھی جی کے اس انجام پر رنجیدہ خاطر تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے افسانے میں گاندھی جی کا یہ انجام نہ ہوتا۔
ساحر کے ہندوستان چلے جانے کے بعد راہی اور منٹو کی قربت مزید بڑھ گئی۔ اب راہی ان کے معتمدِ خاص بن گے۔ یہ دوستی منٹو کے لیے اتنا بڑا سہارا تھی کہ جب احمد راہی، چودھری نذیر احمد کے کہنے پر ’سویرا‘ کے ایڈیٹر بنے تو منٹو ان سے ناراض ہو گئے، پر جلد تعلقات معمول پر آگئے اور راہی کی ادارت میں منٹو کی نگارشات ’سویرا‘ میں شائع ہونے لگیں۔
راہی نے منٹو سے تعلقات کی کہانی کئی جگہ بیان کی ہے لیکن اس کی جامع تاریخ انیس ناگی اور اصغر ندیم سید کو دیے گئے انٹرویو میں سامنے آئی جو ’دانشور‘ کے منٹو نمبر میں شائع ہوا تھا۔ منٹو کے ایک رومانس کا تذکرہ انہوں نے انیس ناگی کی ڈاکو منٹری ’منٹو اے پروفال‘ میں ان الفاظ میں کیا ہے:
’وہ اپنی کوئی خاص باتیں بھی مجھے بتا دیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے رومانس کا بھی مجھے بتایا تھا اور کہا کہ تم میری زندگی میں کبھی ان کا ذکر نہ کرنا۔ بعد میں مجھے ضرورت ہی نہیں پڑی کہ میں کسی کو بتاؤں، کیوں کہ وہ جو لڑکی تھی بعد میں ان کے ایک عزیز کے ساتھ بیاہی گئی تھی اور پھر میں اب بھی مناسب نہیں سمجھتا کہ اس کا ذکر کروں کیوں کہ وہ اب بھی زندہ ہے۔‘
راہی کے خیال میں منٹو بہت شرمیلے تھے اس لیے کوئی مداح لڑکی ان سے ملنے آجاتی تو وہ اسے بیوی کے پاس بٹھا کر ادھر ادھر ہو جاتے ۔
احمد راہی نے ’دانشور‘ والے انٹرویو میں بتایا ہے کہ امرتسر سے نکلنے کے بعد منٹو نے ’مصور‘ میں نوکری کی، آل انڈیا ریڈیو پر کام کیا یا فلمستان سے متعلق رہے، ہر جگہ کام کرنے کی ایک روٹین تھی، صبح سے شام، جس کے بعد وہ اپنے دوسرے معمولات کی طرف لوٹتے تھے۔
پاکستان میں یہ ہوا کہ منٹو کو خواہش کے باوجود کہیں بیٹھ کر کام کرنے کے لیے کوئی دفتر نہیں ملا، جس سے ان کی زندگی میں ایک نظم پیدا ہو جاتا۔ پاکستان میں انہیں ریڈیو پر کام نہ ملا نہ ہی اخبار میں جگہ ملی۔ راہی کے نزدیک ان کے الکوحلک ہونے کی یہ وجہ تھی۔ راہی کے انٹرویو میں ریڈیو کا حوالہ پڑھ کر محمد حسن عسکری کا ممتاز شیریں کے نام ایک خط ذہن میں آیا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ریڈیو کے افسرِ اعلیٰ ذوالفقار علی بخاری نے منٹو سے کہا تھا کہ آپ جیسے لوگوں کا پاکستان میں کیا کام؟ چھوٹے بخاری کی رعونت کی وجہ سے ہی بڑے غلام علی خان پاکستان چھوڑ گے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:منو بھائی کیوں یاد آئے؟
احمد راہی نے بتایا کہ بمبئی (ممبئی) میں منٹو مالی طور پر آسودہ تھے اور گھریلو ذمہ داریاں پوری کرتے تھے لیکن لاہور میں سگریٹ کی ڈبی لینا بھی ان کے لیے مشکل تھا۔
احمد راہی کی باتوں میں وزن ہے لیکن منٹو کی پریشانیاں ان سے سوا بھی تھیں۔ فسادات نے منٹو کے ذہن پر گہرے چرکے لگائے جس کا اندازہ ان کے افسانوں سے بھی ہوتا ہے۔ پاکستان میں مارا ماری کی فضا سے بھی وہ بد دل ہوئے۔ فلم میں ناکام ہوئے ۔ اوپر سے مقدمے بازی، عدالتوں کے چکر اور پولیس کا ہتک آمیز رویہ، یعنی ان کے حساس دل و دماغ پر ایک کے بعد ایک تازیانہ پڑتا رہا۔ مقدمے وہ تقسیم سے پہلے بھی بھگت چکے تھے لیکن ’ٹھنڈا گوشت‘ پر مقدمے کے بارے میں انھوں نے لکھا کہ یہ سب سے بازی لے گیا، ’اس نے میرا بھرکس نکال دیا۔‘ ادبی محاذ پر کیا رجعت پسند اور کیا ترقی پسند سب ان کے خلاف تھے۔
پولیس کے بارے میں ان کا بیان آپ پڑھ چکے ہیں اب ذرا عدالتوں کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بھی جان لیجیے۔ پولیس اور عدالتوں کا حال خیر سے آج بھی منٹو صاحب کے زمانے جیسا ہے:
’عدالتوں کے چکر کچھ ایسے تھے جو مجھ ایسا حساس آدمی برداشت نہیں کرسکتا تھا لیکن عدالت ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر توہین برداشت کرنا ہی پڑتی ہے۔ خدا کرے کسی کو، جس کا نام ’عدالت‘ ہے، اس سے واسطہ نہ پڑے۔ ایسی عجیب جگہ میں نے کہیں بھی نہیں دیکھی۔‘
احمد راہی نے یہ ذکر بھی کیا ہے کہ منٹو 20-30 روپے میں افسانہ بیچ دیتے تھے۔ آخری زمانے میں شباب کیرانوی ان کے افسانوں کے خریدار تھے جو اپنے رسالے ڈائریکٹر میں انہیں شایع کرتے تھے جس کا دفتر مال روڈ پر کمرشل بلڈنگ میں تھا۔ اسی بلڈنگ میں ایڈل جی کے دکان پر منٹو اپنی پیاس بجھانے جاتے تھے۔ ایک دفعہ یوں ہوا کہ ’سویرا‘ کے دفتر میں منٹو نے احمد راہی کو افسانہ ڈکٹیٹ کروایا اور کہا اس پر اپنا نام لکھ لو، جس کے بعد انہوں نے شباب کیرانوی سے انہیں 10 روپے دلوا دیے۔
منٹو نے ’طویلے کی بلا‘ کے عنوان سے ایک ناول شروع کیا تھا لیکن احمد راہی کے بقول وہ اسے مکمل نہ کر سکے اور صرف 2 باب لکھ سکے تھے۔
احمد راہی ادبی تقریبات میں بھی منٹو کے ہمراہ ہوتے تھے۔ مسعود اشعر نے 1952 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں منٹو کے اعزاز میں ایک تقریب کا اپنے مضمون ’سب سے بڑی ہستی ہے شیطاں‘ میں تذکرہ کیا ہے جس میں احمد راہی نے منٹو کے بارے میں راجہ مہدی علی خان کی نظم پڑھ کر سنائی تھی۔
احمد راہی نے منٹو سے دوستی کی کہانی معروضی اور غیر جذباتی انداز میں روایت کی ہے لیکن اسے بیان کرتے ہوئے ان کے جذباتی ہونے کا مستند حوالہ بھی ملتا ہے جس کے راوی معروف براڈ کاسٹر عارف وقار ہیں جنہوں نے سنہ 2005 میں اپنے ایک مضمون ’منٹو، جالب اور صدر ایوب‘ میں پاک ٹی ہاؤس کے سامنے محمکہ تعمیر نو کے آڈیٹوریم میں منعقدہ یوم منٹو کے احوال میں لکھا تھا:
’احمد راہی نے کچھ ایسے ذاتی تجربات کا حوالہ دیا تھا جن سے منٹو کی زندگی کے آخری ایّام کی یاد تازہ ہوتی تھی۔ لیکن یہ کوئی خوشگوار یاد نہ تھی، اِس میں منٹو کی گرتی ہوئی صحت اور بڑھتی ہوئی شراب نوشی کا تذکرہ تھا اور ایک جگہ تو احمد راہی اتنے جذباتی ہو گئے کہ اُن کی آواز بھّرا گئی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ اِس مضمون کے بعد ہال میں ایسا سکوت طاری تھا کہ سوئی بھی گرتی تو آواز سُنائی دیتی۔‘
منٹو کے یومِ وفات پر احمد راہی کا یہ قول یاد آتا ہے:
’میں سمجھتا ہوں، منٹو کی موت، منٹو کی موت نہیں ہے، وہ معاشرے کے ہر اس انسان کی موت ہے جسے معاشرے میں ٹھکرایا گیا ہے۔‘
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













