تو پھر یوں ہوا کہ عبدالصمد اچکزئی کے صاحبزادے محمود خان اچکزئی جنہوں نے اپنے والد کے انتقال کے بعد 1989 میں پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تھا، پی ٹی آئی کی 5 ماہ کی جدوجہد کے بعد لیڈر آف اپوزیشن بن گئے۔
بات صرف یہ نہیں کہ وہ تحریک انصاف کی جانب سے تجویز کردہ ہیں اور ان کی ہی حمایت سے لیڈر آف اپوزیشن بنے ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ بلوچستان سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی کا لیڈر آف اپوزیشن بننا بہت اہم واقعہ ہے۔
یہ بات بھی جاننا ضروری ہے کہ محمود خان اچکزئی کی سیاست اب بلوچستان میں دم توڑ رہی تھی۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان کے سوا ان کی پارٹی کا کوئی رکن نہ صوبائی اسمبلی میں جیت سکا نہ قومی اسمبلی کی کوئی نشست ان کا مقدر بن سکی۔ ان کی پارٹی کے نظریاتی حصے بخرے بھی ہو رہے ہیں۔ عثمان کاکڑ کے صاحبزادے خوشحال کاکڑ نے ایک نئی جماعت بنا لی ہے، جو کہ بلوچستان کے نارتھ میں روز بہ روز محمود خان اچکزئی کی سیاست کو شکست دے رہی ہے۔
محمود خان اچکزئی میدانِ سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم قلعہ عبداللہ میں اور مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی۔ صرف 25 سال کی عمر میں پہلی دفعہ اپنی پارٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ اس وقت سے آج تک ان کی پارٹی میں کوئی اور چیئرمین نہیں بن سکا۔ 1974 میں پہلی دفعہ ایک ضمنی انتخاب میں بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1993 میں پہلی دفعہ قومی اسمبلی کے رکن بنے اور اب تک 4 دفعہ یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
سیاسی اعتبار سے یہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کے حامی رہے۔ فوج کے سیاسی کردار کے مخالف رہے۔ افغانستان سے ان کی پرانی الفت رہی ہے۔ یہ اب بھی اس کو ’وطن‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ مکالمے کی سیاست ان کی خواہش رہی۔ پاکستان میں 90 کی دہائی کے بعد جتنے بھی سیاسی اتحاد بنے، ان میں یہ پیش پیش رہے۔ یہ عمران خان کی حکومت کے خلاف چلنے والی پی ڈی ایم تحریک کا بھی نہ صرف حصہ رہے ہیں بلکہ اُس زمانے میں بلوچستان میں پی ڈی ایم کے ایک جلسے کا انعقاد بھی کروا چکے ہیں جس میں مریم نواز کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں یہ پی ٹی آئی سے نجات کے لیے تمام جماعتوں کو اکٹھا کرنے میں مگن تھے۔ دوسری جانب عمران خان جلسوں میں سر پر دوپٹہ پہن کر ان کی نقلیں اتارتے، رکیک الفاظ سے پکارتے، طنز، تضحیک اور تحقیر کا نشانہ بناتے۔
قومی اسمبلی میں ان کا بطور ’لیڈر آف اپوزیشن‘ انتخاب کئی مراحل سے گزرا۔ اس میں 5 ماہ لگ گئے۔ عمر ایوب 9 مئی کے کیسز میں نکالے گئے۔ انہوں نے عدالتوں میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کر دی۔ ایاز صادق اسی اپیل کو بنیاد بنا کر اس تعیناتی میں تعطل سے کام لیتے رہے۔ وہ کہتے رہے کہ جب تک معاملہ عدالت میں ہے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کا نام پی ٹی آئی کی جانب سے آنا اچنھبے کی بات تھی۔ زیادہ تر لوگ دو طرح کے اعتراضات کر رہے ہیں۔
ایک طبقہ معترض تھا کہ بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور علی محمد کے ہوتے ہوئے کیا پی ٹی آئی میں ایک شخص بھی اس قابل نہیں جو اس عہدے کا مستحق ہو۔
دوسرا، محمود خان اچکزئی کے حوالے سے عمران خان کی تضحیک آمیز ویڈیوز اور محمود خان اچکزئی کے عمران خان کے خلاف بیانات سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے اس فیصلے کا مذاق اڑاتے رہے۔
قصہ مختصر پی ٹی آئی نے عمر ایوب کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست واپس لی اور محمود خان اچکزئی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن ہو گیا۔
محمود خان اچکزئی کو نواز شریف سے خاص نسبت ہے۔ وہ انہیں پنجاب کا نہیں پاکستان کا بڑا لیڈر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے شہباز شریف حکومت پر اکثر تنقید کی ہے مگر آج تک ایک لفظ بھی نواز شریف کے خلاف نہیں کہا۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف تعیناتی میں بھی بڑے میاں صاحب کا بہت ہاتھ ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اگر جاتی امرا سے ان کی تعیناتی کے حوالے سے اذن نہ ملتا تو آج بھی ایاز صادق ان کی تعیناتی کے حوالے سے کسی نہ کسی طرح لیت و لعل سے کام لے رہے ہوتے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محمود خان اچکزئی بطور پی ٹی آئی کے لیڈر آف اپوزیشن کیسے اپنے کردار کو نبھا پائیں گے۔ دونوں کے طرزِ سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سوچ، نظریے، حکمتِ عملی اور سیاست ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔ اختلاف دونوں کرتے ہیں مگر طریقہ اور قرینہ بہت مختلف ہے۔ یہ آگ اور پانی کا کھیل نہیں بلکہ آگ اور پیٹرول کا تماشا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے جلتا کون اور بچتا کون ہے؟ شکست کس کو ہوتی ہے اور موقع سے فائدہ کون اٹھاتا ہے؟ سیاست کس کی بچتی ہے اور نظریہ کس کا قائم رہتا ہے؟
محمود خان اچکزئی نظریاتی اور عمران خان تجرباتی سیاست دان ہیں۔ ایک اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں کردار کے خلاف ہے اور دوسرے کا وجود ہی اسی خمیر سے ہوا ہے۔ ایک سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ پر یقین رکھتا ہے، دوسرا سیاسی جماعتوں سے ہاتھ تک ملانے کا روادار نہیں۔ ایک نے ساری عمر گالی گلوچ سے اجتناب کیا، سیاست میں شائستگی کو شیوہ بنایا۔ دوسرے کا طرہ امتیاز ہی گالی دینا، تضحیک کرنا اور تمسخر اڑانا ہے۔ ایک اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا سوچ ہی نہیں سکتا اور دوسرا اب بھی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ’ایک خوش خبر کال‘ کا منتظر ہے۔
پی ٹی آئی کا محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف بنانے کا فیصلہ ایسا ہی ہے جیسے جاوید ہاشمی کو پارٹی کا صدر بنانا۔ پی ٹی آئی کو اب تک اندازہ ہو جانا چاہیے تھا کہ نظریاتی لوگ ایک اسٹیج پر مفادات کے بجائے نظریے کو اہمیت دیتے ہیں۔ جاوید ہاشمی کی 2014 کے دھرنے میں تقریر نے نواز شریف کے خلاف پی ٹی آئی اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی سازش کو بے نقاب کیا۔ یہی توقع محمود خان اچکزئی سے بھی ہے۔
ایک دن انہوں نے اسی منصب پر بیٹھے ہوئے پی ٹی آئی کی نام نہاد مزاحمتی سیاست کا سارا کچا چٹھا کھول دینا ہے۔ اس وقت پی ٹی آئی کو احساس ہو گا کہ وہ اپنے آپ کو پورے ملک کی پارٹی کہتے ہیں مگر اب ان کے پاس لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ بھی نہیں رہا۔
عمران خان اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے میں ملکہ رکھتے ہیں، لیکن اس دفعہ پاؤں پر کلہاڑی نہیں ماری بلکہ پی ٹی آئی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












