زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اسلام آباد اورگلگت بلتستان میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جس سے ہنزہ میں کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے۔
زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز گلگت کے قریب علاقہ تھا جب کہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: خضدار اور اس سے ملحقہ علاقوں میں 3.3 شدت کا زلزلہ
زلزلے کے بعد گلگت اور ہنزہ کے اردگرد پہاڑی تودے گرنے کے واقعات پیش آئے جس سے رابطہ سڑکیں بند ہوئی ہیں جبکہ کئی مقامات پر رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں ہنزہ کے پہاڑوں سے دھول اڑتی دیکھی جاسکتی ہے، مقامی ذرائع کے مطابق زلزلے سے سب سے زیادہ چپورسن وادی اور بالائی ہنزہ متاثر ہوئی ہے۔

زلزلہ کیوں آتا ہے؟
زلزلہ کیوں آتاہے؟ اس کی کیاسائنسی وجوہات ہیں، ماہرین ارضیات اس بارے میں کیاکہتے ہیں؟
زیر زمین ارضیاتی پلیٹیں یا بڑی بڑی چٹانیں جب شدید دباؤکے تحت ٹوٹتی اور سرکتی ہیں تو زمین کی سطح پر اس کے شدید اثرات نمودارہوتے ہیں، جنہیں زلزلے کا نام دیاجاتا ہے۔
زلزلے کا مرکزی مقام محور کہلاتا ہے جبکہ محورکے عین اوپرکے مقام کو زلزلے کا مرکز یا ایپی سنٹر کہا جاتا ہے۔
3 طرح کی لہریں زلزلے کا باعث بنتی ہیں
ماہرین کے مطابق 3 طرح کی لہریں زلزلے کا باعث بنتی ہیں جنہیں سائنس مک ویوز کہا جاتا ہے۔ انہیں پی، ایس اور ایل ویو بھی کہاجاتا ہے۔ یہ لہریں محور سے تمام اطراف میں پھیلتی ہیں۔

زلزلے سے ہونے والے نقصان کا انحصار اس کی زیر زمین گہرائی اور شدت پرہوتاہے سطح زمین سے گہرائی جتنی کم ہوگی سطح زمین کے اوپر تباہی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں فوری طور پر کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔












