اسلام آباد میں ٹریفک کے بہائو کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت مختلف منصوبے مکمل کر چکی ہے، مختلف مقامات پر انڈر پاس، فلائی اوور بنائے گئے ہیں اور اب سی ڈی اے نے اسلام آباد میں جدید پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے مونوریل منصوبے کے لیے باقاعدہ طور پر کنسلٹنسی خدمات حاصل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت اسلام آباد کے داخلی راستے روات سے لیک ویو پارک تک جبکہ نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لیک ویو پارک تک مونوریل سروس متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق مونوریل منصوبہ پنجاب حکومت کی جانب سے تجویز کردہ گلاس ٹرین منصوبے کے ساتھ منسلک کیا جائے گا تاکہ دونوں جدید سفری نظام آپس میں مربوط ہو سکیں اور شہریوں کو ایک مؤثر، آرام دہ اور ماحول دوست سفری سہولت میسر آ سکے۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان جدید ٹرین چلانے کا فیصلہ
سی ڈی اے نے اس منصوبے کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیٹیلڈ انجینئرنگ ڈیزائن کی تیاری کے لیے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کنسلٹنٹس کی حتمی تقرری کا عمل جنوری 2026 کے اختتام تک مکمل کر لیا جائے گا۔
کنسلٹنسی کے انتخاب کے بعد تقریباً 6 ماہ کا عرصہ فیزیبلٹی اسٹڈی کے لیے درکار ہوگا، جس میں منصوبے کی تکنیکی، مالی اور ماحولیاتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ فیزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہونے کے بعد سی ڈی اے اس منصوبے پر عملی کام شروع کرنے یا اس سے متعلق حتمی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔
شہری حلقوں نے اس منصوبے کو اسلام آباد اور گردونواح میں ٹریفک مسائل کے حل اور جدید شہری سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے راولپنڈی سے بھوربن تک گلاس ٹرین کب تک شروع ہونے کی توقع ہے؟
اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو نہ صرف ایئرپورٹ، سیاحتی مقامات اور شہر کے اہم علاقوں کے درمیان سفر آسان ہو جائے گا بلکہ دارالحکومت کا انفراسٹرکچر بھی جدید خطوط پر استوار ہوگا۔
ماہرین کے مطابق مونوریل اور گلاس ٹرین جیسے منصوبے اسلام آباد کو ایک جدید اور اسمارٹ سٹی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ فیزیبلٹی رپورٹ کی روشنی میں کیا جائے گا۔














