سیاسی اختلافات کو بڑھانے کے بجائے ملک میں قومی اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، مولانا فضل الرحمان

پیر 19 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے زور دیا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظرنامے میں پاکستان کی قومی قیادت کی بصیرت کو سنجیدہ چیلنج کا سامنا ہے، اور ایسے نازک حالات میں سب سے اہم کام یہ ہے کہ سیاسی اختلافات کو بڑھانے کے بجائے ملک میں قومی اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔

شور کوٹ میں وانا اور لکی مروت کے عمائدین سے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ امریکا کی جانب سے وینزویلا کے صدر کے اغواء کے بعد دنیا ایٹمی تنازعے کے سنگین خطرے سے دوچار ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک افغان علما عسکریت پسندی کے خلاف، مسلح گروہ بھی اس معاملے پر غور کریں، مولانا فضل الرحمان

ان کے مطابق کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی نے عالمی نظام میں بے پناہ تبدیلیاں پیدا کردی ہیں اور پرانے سیاسی و اقتصادی ڈھانچے بکھرنے کے باعث دنیا شدید اضطراب کا شکار ہے۔

انہوں نے کہاکہ بدلتے ہوئے عالمی سیاسی ماحول میں پاکستان کی قومی قیادت کی بصیرت کی جانچ ہو رہی ہے، اس لیے اس وقت سب سے بڑی ضرورت سیاسی کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے ملک میں ہم آہنگی اور اجتماعی سوچ کو فروغ دینا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ پچھلے دو صدیوں کے دوران خطے نے بادشاہت، نوآبادیاتی حکمرانی، جمہوریت اور کمیونزم جیسے متعدد سیاسی نظام دیکھے، مگر کوئی بھی انسانیت کی بھلائی اور فلاحی معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ دنیا کے تمام نظام نوع انسانی کے دکھوں کا ازالہ کرنے اور فلاحی معاشروں کے قیام میں ناکام رہے ہیں۔

سربراہ جمعیت علما اسلام نے سائنسی ترقی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سترہویں صدی میں انسانیت کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ سائنس سب مسائل کا حل ہے، مگر حقیقت میں سائنس نے طاقت کے حصول اور خونریزی کو فروغ دیا۔

انہوں نے اسرائیل کی حالیہ غزہ کارروائی کے حوالے سے کہا کہ کیمائی ہتھیاروں کے استعمال سے 80 ہزار سے زیادہ شہری شہید ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنس نے انسانیت کو خطرے کے دہانے پر پہنچا دیا۔

انہوں نے مغربی معاشروں کی تنہائی، خاندانی نظام کی بربادی اور انسانی زندگی کے مقصد کے بحران کی بھی نشاندہی کی، اور کہا کہ مغربی معاشرہ اداسی، مایوسی اور تنہائی کا شکار ہے، جبکہ فلسفی زندگی کے مقصد کو دوبارہ تلاش کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

مزید پڑھیں: خوشامدی سیاست کے قائل نہیں ہیں، حق بات کریں گے، مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ انسان کو اپنے تجربات اور مشاہدات سے سبق سیکھنا چاہیے۔

انہوں نے اہل دانش، سیاستدان، بیوروکریٹس اور عسکری قیادت پر زور دیا کہ وہ جدید تقاضوں کے مطابق ایک مضبوط شورائی نظام قائم کرنے کے لیے مکالمہ شروع کریں، جس کے ذریعے عوامی حقوق محفوظ ہوں اور حکمران عوام کے سامنے جوابدہ بنیں، تاکہ ایک منظم اور فلاحی معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ایپسٹین کی موت کی وجہ خودکشی کے بجائے قتل ہے، پوسٹ مارٹم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا دعویٰ

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نے اعتراف کرلیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟